’عینک والا جن‘ اینیمیٹڈ فلم پر تنازع، خراب اے آئی معیار کے بعد اصل تخلیق کاروں کا اظہار لاتعلقی

فلم کی ریلیز کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر اس کے ویژول معیار پر سخت تنقید شروع ہوگئی


ویب ڈیسک July 29, 2026

پاکستانی ٹیلی وژن کی تاریخ کے مقبول ترین بچوں کے ڈراموں میں شمار ہونے والا ’عینک والا جن‘ برسوں بعد اینیمیٹڈ فلم کی صورت میں سنیما گھروں تک پہنچ گیا، لیکن اس کی ریلیز کے ساتھ ہی ایک نئے تنازع نے بھی جنم لیا۔ جہاں ایک طرف شائقین اپنے پسندیدہ کرداروں کو نئی شکل میں دیکھنے پر خوش دکھائی دیے، وہیں فلم کے معیار، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال اور تخلیقی ملکیت سے متعلق سوالات بھی سامنے آنے لگے۔

پی ٹی وی کے اشتراک سے تیار کی گئی ’عینک والا جن: دی اینیمیٹڈ مووی‘ کو پاکستان کی پہلی اے آئی سے تیار ہونے والی فیچر اینیمیٹڈ فلم قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریباً 85 منٹ دورانیے پر مشتمل یہ اردو فلم 24 جولائی کو ملک بھر کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، جس میں کوہِ قاف اور عینک والا جن کی جادوئی دنیا کو جدید انداز میں نئی نسل کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

تاہم فلم کی ریلیز کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر اس کے ویژول معیار پر سخت تنقید شروع ہوگئی۔ متعدد صارفین نے مختلف مناظر میں اے آئی سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی۔ کسی نے فلم میں املا کی غلطی کو مصنوعی ذہانت کا نتیجہ قرار دیا، کسی نے کتاب کے صفحات پلٹنے والے مناظر پر سوال اٹھائے، جبکہ بعض افراد نے دعویٰ کیا کہ ایک منظر میں گوگل جیمنائی کا واٹرمارک بھی دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر فلم کو طنزیہ انداز میں ’اے آئی والا جن‘ اور ’کم از کم پرو ورژن استعمال کر لیتے‘ جیسے تبصروں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اسی دوران اے آئی پروڈکشن ہاؤس ریل وِنڈ (Reelwind) نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر تین حصوں پر مشتمل وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس فلم سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ کمپنی نے بتایا کہ انہوں نے بطور آزاد تخلیق کار ’عینک والا جن‘ کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئی نسل کے لیے دوبارہ متعارف کرانے پر کافی عرصہ کام کیا تھا اور اس مقصد کے لیے تقریباً دس ماہ تک پی ٹی وی سے مسلسل رابطے میں بھی رہے، تاہم نئی اینیمیٹڈ فلم کی تیاری کے بارے میں انہیں نہ آگاہ کیا گیا اور نہ ہی کسی مرحلے پر شامل کیا گیا۔

ریل وِنڈ کا کہنا تھا کہ فلم میں بعض کرداروں کی ڈیزائننگ ان کے اپنے تخلیقی کام سے خاصی مشابہت رکھتی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں اس منصوبے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ کمپنی نے مزید کہا کہ موجودہ فلم کا معیار ان کے کام کی نمائندگی نہیں کرتا، اس لیے وہ اس منصوبے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔

کمپنی نے اپنے بیان میں اس بات کا بھی اظہار کیا کہ ’عینک والا جن‘ ان کے بچپن کی خوبصورت یادوں کا حصہ رہا ہے اور ان کی خواہش تھی کہ اس کلاسک سیریز کو ایک بامعنی اور معیاری انداز میں دوبارہ زندہ کیا جائے، تاہم ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ ریل وِنڈ کے مطابق اب وہ ایک نئے اور مکمل طور پر اصل اے آئی اینیمیٹڈ منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس کی تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ریل وِنڈ پروڈکشن اس منصوبے کا ذکر اس سے پہلے بھی کرچکی ہے۔ اکتوبر 2025 میں کمپنی کے بانی جویریہ رشید اور ہاشم نوید نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے ’عینک والا جن‘ کی اے آئی ری کریئیشن پر کام شروع کیا تھا۔ ان کے مطابق ابتدا میں صرف ایک قسط بنانے کا ارادہ تھا، لیکن ابتدائی مواد کو غیر معمولی پذیرائی ملنے کے بعد اسے مکمل سیریز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس منصوبے کے لیے پی ٹی وی سے باضابطہ اجازت حاصل کی گئی تھی اور اصل سیریز کے ہدایتکار حافظ طاہر نے بھی ان کی کوششوں کو سراہا تھا۔

ریل وِنڈ کے حالیہ مؤقف کے بعد معاملہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے، کیونکہ کمپنی ایک طرف اپنے سابقہ منصوبے کا حوالہ دے رہی ہے اور دوسری طرف موجودہ فلم سے مکمل لاتعلقی اختیار کر رہی ہے۔ تاہم اب تک ’عینک والا جن: دی اینیمیٹڈ مووی‘ کی پروڈکشن ٹیم یا فلم سازوں کی جانب سے ریل وِنڈ کے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث یہ تنازع تاحال برقرار ہے۔