بچوں کے دانتوں میں لگے کیڑوں کا سادہ علاج تیار!

یونیورسٹی آف مشی گن میں کیے گئے فیز تھری کلینیکل ٹرائل جس میں 830 ایسے بچوں کو شامل کیا گیا جن کی عمر چھ سال سے کم تھی


ویب ڈیسک July 30, 2026

امریکا میں ہونے والی ایک بڑی طبی تحقیق نے بچوں کے دانتوں کے کیڑے کے علاج کے لیے ایک سادہ، سستا اور مؤثر محلول سلور ڈائمن فلورائیڈ کو محفوظ اور کامیاب قرار دے دیا ہے، جس سے ہزاروں بچوں کو تکلیف دہ ڈرلنگ اور جنرل اینستھیزیا سے بچایا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق 38 فی صد سلور ڈائمن فلورائیڈ محلول کو صرف چند سیکنڈ میں دانت کے متاثرہ حصے پر لگایا جاتا ہے، جو بغیر انجیکشن، ڈرلنگ یا سرجری کے دانتوں کے کیڑے کو بڑھنے سے روک دیتا ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف مشی گن میں کیے گئے فیز تھری کلینیکل ٹرائل جس میں 830 ایسے بچوں کو شامل کیا گیا جن کی عمر چھ سال سے کم تھی۔

تحقیق میں نیویارک اور آئیووا کی جامعات بھی شریک تھیں، جبکہ نتائج معروف طبی جریدے جاما پیڈیاٹرکس میں شائع ہوئے۔

محققین نے بتایا کہ ہر چھ ماہ بعد اس ڈی ایف لگانے سے نصف سے زائد متاثرہ دودھ کے دانتوں میں کیڑا مؤثر انداز میں رک گیا۔

روایتی علاج کے برعکس، اس طریقے میں دانت کو کاٹنے یا فلنگ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ محلول کو براہ راست متاثرہ حصے پر لگا دیا جاتا ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور یونیورسٹی آف مشی گن اسکول آف ڈینٹسٹری کی پروفیسر مارگریٹا فونٹانا کے مطابق یہ طریقہ ایک سال کی عمر کے بچوں کے لیے بھی محفوظ اور مؤثر ثابت ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس علاج کو دانتوں کے کیڑے کے لیے باقاعدہ منظوری مل جاتی ہے تو یہ خاص طور پر کم عمر بچوں کے لیے علاج کو زیادہ آسان، کم خرچ اور کم تکلیف دہ بنا سکتا ہے۔