جب کراچی کا ایک غریب رکشہ ڈرائیور روزانہ 1500 روپے کا پٹرول ڈلوانے کی بجائے 1950 روپے کا اب پٹرول ڈلواتا ہے تو اسے معلوم ہے کہ ہرمز پر ابھی تک حالات کشیدہ ہیں۔ اس لیے شاید کل اسے 2200 روپے دینا پڑ جائیں، اب اس کی بچت ہو یا نہیں۔ ادھر آبنائے ہرمز بند ہے یا کھلی ہوئی ہونے سے زیادہ پٹرول پمپ کی مشین اس کے لیے آبنائے ہرمز ہے، وہاں ہر گھنٹے بعد امریکی میزائل داغے جاتے ہیں اور یہاں ہر روز 5 یا 7 روپے کے گولے داغے جاتے ہیں۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف نے اسلام آباد اور واشنگٹن سے بیک وقت 8.4 فی صد کا مہنگائی بم گرا کر آبنائے ہرمز سے بھی بڑا دھماکہ کر دیا تھا۔ بات یہاں پر 8.4 فی صد پر رکتی تو موقع غنیمت تھا لیکن ہم پچھلے مہینوں میں بجلی پٹرول کی بڑھتی قیمت کو دیکھتے ہیں تو دھچکا سا لگتا ہے جب عالمی منڈی میں تیل 72 ڈالر سے نکل کر 100 ڈالر فی بیرل سے آگے کی طرف گامزن تھا، تو مہنگائی 4.7 فی صد سے 6.2 فی صد ہو گئی اور اپریل میں تو مہنگائی 10.9 فی صد کو چھو گئی تھی۔ اب اگر حکومت اسی طرح روزانہ قیمت بڑھاتی رہے تو یہ 8.4 فی صد کو کہاں خاطر میں لائے گی۔
ابھی تو ابتدا ہے، فی الحال اچانک صدر ٹرمپ نے ایک اور تاریخی ’’یوٹرن‘‘ لیتے ہوئے فوری طور پر ایران پر حملے روکے ہیں۔ ہو سکتا ہے جلد ہی یوٹرن لے کر ہرمز کو بھی آزاد کر دیں۔ تو پھر پاکستان کی مہنگائی 8.4 فی صد تک آ سکتی ہے۔ مہنگائی پر جہاں دیگر کئی دباؤ موجود ہیں، ایسے میں ہو سکتا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا دباؤ بھی محسوس ہو۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ سال کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر میں 5 ارب ڈالرز کی کمی ہو سکتی ہے۔ ذخائر جب کم ہوتے ہیں تو روپے پر دباؤ پڑتا ہے اور روپے کی قدر کے گھٹنے سے پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اپریل 2026 میں حقیقی مہنگائی 10.9 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔
کل بجٹ کا حجم 17 ملین روپے سے زائد کا ہے اور ایف بی آر کا نیا ہدف 15.26 روپے ہے اور پچھلی مرتبہ 13 کھرب روپے تک محدود رہنے کے باعث بہت سی اشیا پر جب ٹیکس بڑھے گا تو عوام کو لگ پتا جائے گا۔ آئی ایم ایف نے بعض معاشی مشکلات کا ذکر کیا ہے جن میں زرمبادلہ کے ذخائر کا کم ہو جانا، مہنگائی کو بڑھا ہوا بتانا، ایسی صورت میں پٹرول روزانہ کی بنیاد پر مہنگا کیا جائے گا، لہٰذا صنعتی ترقی، نقل و حمل کی ترقی، بجلی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور کئی باتیں مل کر میرے ان خیالات کو تقویت دے سکتے ہیں کہ بات 8.4 فی صد مہنگائی سے کہیں آگے جائے گی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 120 سے آگے جانے کی صورت میں افراط زر کی شرح 12 سے 13 فی صد اور گراوٹ کی صورت میں 10 فی صد کے لگ بھگ رہ سکتی ہے، اگر ملک میں پٹرول کی قیمت میں کمی بھی آتی ہے تو آٹے، دال کا بھاؤ جو بڑھ چکا ہے اس میں کمی لانا مشکل ہے۔ کرایوں میں جو اضافہ ہو گیا ،اس میں معمولی کمی آ سکتی ہے کیونکہ ایف بی آر کو جو ہدف دیا گیا ہے، اسے پورا کرتے کرتے وہ عوام کو لے ڈوبے، البتہ غربت کی گہری کھائی میں غریب عوام اور سرکاری ملازمین کی پنشن میں معمولی اضافے کے باعث بڑی تعداد میں پنشنرز غربت کی گہری کھائی میں گرتے چلے جائیں گے۔
آئی ایم ایف کو اگر تشویش ہے کہ مہنگائی بڑھے گی تو فوری طور پر حکومت سے کہے کہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کے نرخ طے نہ کیے جائیں اور لیویز میں کمی لائی جائے، اگر ایسا نہ ہوا تو فی الحال شرح نمو کو کم کرکے 3.5فی صد مقرر کیا گیا ہے، اسے عالمی سطح پر بھی پہنچایا جا سکتا ہے، یعنی نمو کی عالمی سطح 3 فی صد تک بتائی گئی ہے۔
پاکستان کی 26 کروڑ کی آبادی کے لیے جو بجٹ بنایا گیا تھا اس میں سے 25 کروڑ عوام غائب ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ بجٹ غریبوں کے لیے ہے ہی نہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، مزدور کو کم مزدوری مل رہی ہے، پنشن میں قلیل اضافہ یا نہ ہونے کے برابر اضافہ، پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو لوگوں کی معاشی سرگرمیوں میں کمی آتی ہے۔
بیرونی سرمایہ کار جلد ہی ایسے ملک میں آنے سے پرہیز کرے گا جس کے بارے میں اسے رپورٹ مل جاتی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر کم زیادہ کرنے کا رواج ہے۔ ایسے میں ملکی ترقی کی شرح بھی داؤ پر لگ جاتی ہے، جو پہلے ہی کم ہے۔ رواں مالی سال حکومت پھر بڑھتے ہوئے شرح سود پر قرض کے انبار لگاتی چلی جائے گی۔ اس پر قرض قسطوں کی ادائی، یہ سب مل کر پھر معیشت کو گھیرے میں لے لیں گے اور نتیجہ عوام پر مہنگائی بم گرتا چلا جائے گا۔