بھارت کی داخلی سیاست کا بحران

کاکروچ پارٹی جو جین زی کی صورت میں سامنے آئی ہے، اس نے پہلی بار نریندر مودی کی حکومت کو سیاسی پسپائی پر مجبور کردیا ہے۔


سلمان عابد July 28, 2026
[email protected]

کاکروچ پارٹی جو جین زی کی صورت میں سامنے آئی ہے، اس نے پہلی بار نریندر مودی کی حکومت کو سیاسی پسپائی پر مجبور کردیا ہے۔ دہلی میں ہونے والی مودی مخالف سیاسی طاقت اور مظاہرے ظاہر کرتے ہیں کہ مودی کی سیاسی طاقت یا اقتدار پر اس کی گرفت کمزور ہورہی ہے اور لوگ اب واقعی بھارت کی داخلی سیاست میں تبدیلی چاہتے ہیں۔جین زی اور کاکروچ پارٹی کے مطالبہ پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنا استعفی دے دیا ہے جسے وزیراعظم نریندر مودی نے قبول کرلیا ہے۔لیکن تحریک یہاں رکی نہیں ہے بلکہ کاکروچ جنتاپارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے مزید دو مطالبات رکھ دیے ہیں۔

اول امتحانی پیپر لیک کے معاملے میںجن طلبہ نے خود کشی کی ہے ان کے اہل خانہ کو عملا ایک ایک کڑور روپے کا معاوضہ دیا جائے ۔دوئم اجتجاج میںشامل طلبہ پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے اور ساتھ ہی طلبہ پر درج کیے گئے مقدمات کا خاتمہ کیا جائے۔اس کا مطلب ہے کہ وزیر تعلیم کے استعفی کے بعد بھی کھیل ختم نہیں ہوا بلکہ ہمیں اس میںاور زیادہ شدت دیکھنے کو ملے گی۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ تحریک جین زی اور کارکروچ جنتا پارٹی نے شروع کی مگر اس کی شکل کسی ایک پارٹی کی تصویر کی صورت میں دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ اس میں سب حکومت مخالف قوتوں،سول سوسائٹی اور طلبہ و طالبات کی بڑی نمائندگی دیکھنے کو ملی اور خود کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی بھی اس تحریک کا حصہ بنے۔یہ تحریک اگرچہ امتحانی پرچہ کے لیک ہونے سے شروع ہوئی تھی مگر اس تحریک میں بھارت میں بڑھتی ہوئی کرپشن،بدعنوانی،عدم احتساب،مذہبی انتہا پسندی،ہندو مسلم دشمنی کی مخالفت سمیت ہندواتہ کی سیاست پر مخالف نعرے بھی سننے کو ملے ۔مظاہرین کے بقول نریندر مودی کی حکومت اور اس کی سیاسی یا مذہبی پالیسی بھارت کو تقسیم کرنے کا سبب بن رہی ہے اور اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

نریندر مودی اور بی جے پی یا آر ایس ایس نے بھارت کی سیاست میں مذہب کارڈ یا پاکستان اور مسلم دشمنی کا کارڈ خوب کھیلا ہے اور اسی کی وجہ سے ان کی سیکولر ازم کی سیاسی پہچان بھی متاثر ہوئی ہے۔اب خود بی جے پی اور آر ایس ایس کی داخلی سطح سے بھی ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ نریندر مودی اور بی جے پی کو اپنی موجودہ پالیسی پر نظر ثانی بھی کرنا ہوگی اور پاکستان سے تعلقات کو بھی معمول پر لانا ہوگا۔پچھلے دنوں 103 افراد جن کا تعلق بھارت اور پاکستان سے تھا دونوں ملکوں سے مطالبہ بھی کیا کہ ہمیں تعلقات کو بہتر بنا کر عملی طور پر جنگوں اور کشیدگی کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔

اصل میں پاکستان اور بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں غربت،خوراک کا بحران،بڑھتی ہوئی بے روزگاری ،بری گورننس ،نئی نسل کے لیے کم معاشی مواقع جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں اورنئی نسل ان مسائل کا عملا حل چاہتی ہے۔ یہ ہی کچھ ہمیں بھارت کی جین زی کی سطح پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔اس جین زی کی بڑی طاقت ڈیجیٹل میڈیا ہے اور اس طاقت کی بنیاد پر انھوں نے خود کو ایک بڑی طاقت کے طور پر پیش کیاہے۔وہ بی جے پی اور نریندر مودی جس نے کانگریس کو صاف کردیا، وہ اس جین زی کے سامنے بے بس نظر آئی اور اپنی شکست کو تسلیم کرلیا۔اس شکست کے بعد جین زی اور کاکروچ جنتا پارٹی کو نئی امید اور حوصلہ ملا ہوگا کہ وہ مستقبل میں بھی مودی سرکار کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

نریندر مودی کے مخالفین کی پوری کوشش ہوگی کہ کاکروچ جنتا پارٹی یہاں تک محدود نہ رہے بلکہ اپنی تحریک کو نہ صرف آگے بڑھائے بلکہ اس میں مودی حکومت کے خلاف اور زیادہ شدت پیدا کرکے اس پر عملاًاپنا سیاسی دباو زیادہ سے زیادہ بڑھائے تاکہ نریندر مودی کی سیاست کو سیاسی طور پر کمزور کیا جاسکے ۔مودی کے مخالفین کو لگتا ہے کہ اس وقت یہ ہی نئی نسل مودی کو سیاسی طور پر پسپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اگرچہ انتخابی سیاست میں نریندر مودی کی سیاست آج بھی بھاری ہے اور اس کی مخالف جماعتیں کمزور ہیں ۔لیکن یہ جو بھارت کی داخلی سطح کی سیاست میں نئے محرکات جنم لے رہے ہیںیا نئی سیاسی ڈانمکس نئی نسل کی صورت میں سامنے آرہی ہے وہ اگلے چند برسوں میں بھارت کی سیاست میں نمایاں تبدیلیوں کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔خود موجودہ بڑی اور چھوٹی بھارت کی سیاسی جماعتوں اور قیادت کو سوچنا ہوگا کہ آخر کیاوجہ ہے کہ ہم مودی کے خلاف کوئی بڑی مزاحمت پیدا نہیں کرسکے اورجین زی نے مختصر وقت میں مودی کو سخت یا ٹف ٹائم دیا ہے ۔ ایک بحث یہ بھی ہے کہ جین زی ہو یا کاکروچ جنتا پارٹی یہ نئی نسل کا ہجوم ہے اور اس کی کوئی منظیم تنظیم یا ایجنڈا نہیں۔اسلیے یہ پانی کا بلبلا تو ہوسکتا ہے لیکن کوئی بڑی تبدیلی کا سبب نہیں بن سکتا۔

ممکن ہے کہ یہ تجزیہ درست ہو مگر اس تجزیہ کے حامی لوگوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اب یہ جو ہمیں پرانی اور نئی سیاست یا پرانے سیاسی روائتی اور خاندانی کھلاڑیوںاور نئی نسل میں جو ٹکراو نظر آرہا ہے وہ کم نہیں ہوگا بلکہ اور زیادہ بڑھے گا اورخود پاکستان بھی پہلے ہی اس کی لپیٹ میں ہے۔اب طاقت کی بنیاد پر بھارت ہو یا پاکستان سمیت کوئی اور ملک لوگوں کی آواز کو دبانا آسان کام نہیں رہا۔اس لیے نریندر مودی اور آر ایس ایس کی سخت گیر قیادت یا ہندواتا پر مبنی سیاست کا کارڈ کمزور ہورہا ہے اور اب یہ کارڈ نئی نسل میں اہمیت اختیار نہیں کررہا کیونکہ ان کے بڑے مسائل بری گورننس اور ان کے بنیادی حقوق سے جڑے ہوئے ہیں۔نریندر مودی کو پاکستان کے خلاف کی جانے والی آخری مہم جوئی کا بھی بڑا سبق ملا ہے جس نے بھارت کی داخلی سیاست میں اس پر تنقید کے نئے دروازے کھول دیے ہیں اور بھارت کے لوگوں کے بقول نریندر مودی کی مہم جوئی نے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا مقدمہ داخلی اور عالمی سیاست میں کمزور کیا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک کا پس منظر یہ ہے کہ اسے16مئی 2026کو ابھیجیت دیپکے نے قائم کی اور اس کا تعلق کسی حد تک عام آدمی پارٹی سے بھی تھا اس کی وجہ بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت کا 15مئی کا بیان تھا جس میں انھوں نے بعض بے روزگار نوجوانوں اور ناقدین کو کاکروچ اور سماج کے طفیلے قرار دیا تھاجس کا ڈیجیٹل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا ہوا۔یہ کوئی باقاعدہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں بلکہ سڑکوں پر پھیلنے والی تحریک ہے۔نوجوانوں کی یہ تحریک صرف ایک امتحانی سیکنڈل تک محدود نہیں بلکہ گہرے ساختی مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوانو ں کی سطح پر بڑھتی ہوئی بے روزگاری جن میں 15سے 25برس کے نوجوانوںمیں 40فیصد ہے۔ مودی حکومت کی مسلسل 12برس کی حکومت کے باوجود ملازمتوں اور معاشی مواقعوں کی کمی جیسے مسائل ہیں ۔اہم بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت سے عملی طور پر کاکروچ جنتا پارٹی نے آن لائن مہم کا حقیقی مظاہرہ ڈیجیٹل میڈیا اور سڑکوں پر دکھایا ہے۔

بھارت کے بیشتر سکہ بندتجزیہ نگاروں کے بقول یہ مودی کی بھارتی سیاست میں ناقابل شکست تصویر پر پہلی باقاعدہ شکست ہے یا مودی کے لیے ایک بڑاعملا سیاسی دھچکا ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنز سے شروع ہوکر نوجوانوں کے غصے کی منظم آواز بن گئی ہے ۔اب دیکھنا ہوگا کہ یہ تحریک آگے جاکر اپنے لیے کیا سیاسی راستہ نکالتی ہے اور کس حد تک مودی اور ان کے حامیوں کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کرسکے گی۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے اس موجودہ طرز عمل پر بی جے پی اور نریندر مودی کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ کیونکہ انھوں نے ابھی تک جو طاقت کی حکمت عملی اختیار کی تھی وہ ناکام ثابت ہوئی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ نریندر موددی اب اپنا سیاسی کارڈ کھیل کر ان نوجوانوں کا غصہ بھی ٹھندا کریں گے اور اپنے ساتھ جوڑنے کی بھی کوشش کریں گے۔کیونکہ ان کو اندازہ ہے کہ اگر ان کی سیاسی حکمت میں کوئی اثر نہ ہوا تو ان کے سیاسی مخالفین کاکروچ جنتا پارٹی کا سیاسی کارڈ خود نریندر مودی کے خلاف کھیلیں گے ۔

اس لیے اب نریندر مودی کافی محتاط رہیں گے ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ اب بھارت میں لوگ نریندر مودی کی12برس کی حکومت سے تنگ ہیں یا وہ بھارت میں اقتدارکی سیاست میں نیا چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں۔کیونکہ بھارت میں نریندر مودی نے داخلی سیاست میں بہت کچھ اچھا کیا ہوگا مگر بھارت میں انتہا پسندی اور ہندواتہ کی بنیاد پر جو سیاسی کارڈ کھیلا اس پر بھارت میں نئی مزاحمت دیکھنے کو مل رہی ہے۔اگر کاکروچ پارٹی اپنی اس تحریک کو نئے نعروں کے ساتھ دیگر شہروں میں بھی لے کر جاتی ہے تو پھر یقینا اس پارٹی کا بی جے پی اور مودی کی سیاست سے ٹکرا۷۳ ہوگا جو مودی کے لیے نئی سیاسی مشکلات پیدا کرے گا۔