آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلہ میں میر پور اور کوٹلی کے انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا ہے۔ جو نتائج میر پور اور کوٹلی سے سامنے آئے ہیں،ان کے مطابق اب آزاد کشمیر میںمسلم لیگ (ن) کی ایک مضبوط اور واضع حکومت بنتی نظر آرہی ہے۔ اب تک کے نتائج کے ٹرینڈ کو مدنظر رکھا جائے تو مسلم لیگ (ن) نہ صرف واضح اکثریت حاصل کر لے گی بلکہ اس کو حکومت بنانے کے لیے کسی سہارے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔
دوستوں کا اندازہ تھا کہ میرپور ڈویژن کے الیکشن میں آئی پی پی بھی دو نشستیں حاصل کر لے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ ورنہ اگر آئی پی پی کی بھی دو نشستیں آجاتیں تو پھر ہم کہہ سکتے تھے کہ آزاد کشمیر میں بھی اتحادی حکومت بنے گی۔ جیسے گلگت بلتستان میں ایک ا تحادی حکومت معرض وجود میں آئی ہے۔ تا ہم اب آزاد کشمیر میں ایسا نظر نہیں آرہا۔
اب سوال یہ ہے کہ جیسے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) نے انتخابی مہم چلائی ہے۔ ایسی مہم گلگت بلتستان میں کیوں نہیں چلائی گئی؟ وہاں نواز شریف نے بھی ایسا کوئی جلسہ نہیں کیا۔ ایسی تقاریر بھی نہیں کی گئیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک خاموشی نظر آئی ہے۔ وہاں مریم نواز بھی نہیں گئیں۔ وہاں کوئی اور مرکزی قیادت بھی نہیں گئی۔
خواجہ سعد رفیق بھی گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد یہی گلہ کرتے نظرآٓئے کہ گلگت کے انتخابات کے لیے مسلم لیگ ن نے کوئی فنڈ بھی مختص نہیں کیا۔ پارٹی کے جھنڈے بھی نہیں بنائے گئے۔ کوئی بڑاجلسہ بھی نہیں کیا گیا۔ یہ صورتحال تھی مسلم لیگ ن کی ، لہذا گلگت بلتستان میں قومی سطح کا ایک ہی رہنما بلاول بھٹو پھرتے نظر آئے۔ انھی کے جلسے تھے۔ انھی کی انتخابی مہم تھی۔ کوئی ان کو جواب دینے کے لیے بھی موجود نہیں تھا۔ اس سب کے باوجود مسلم لیگ(ن) نے گلگت بلتستان میں نو سیٹیں جیت لیں۔ان کا اور پیپلزپارٹی کا ایک دو سیٹوں کا ہی فرق تھا۔ اگر مسلم لیگ (ن) چاہتی تو آزاد اور آئی پی پی کو ساتھ ملا کر حکومت بنا سکتی تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اتنا بڑا فری ہینڈ ملنے کے بعد بھی پیپلزپارٹی گلگت میں سادہ اکثریت نہیں حا صل کر سکی۔ انھیں آئی پی پی کے سہارے ایک اتحادی حکومت بنانی پڑی۔ اس لیے یہ سوال آج بھی تشنہ جواب ہے کہ کیا گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) نے انتخابی مہم اس لیے نہیں چلائی کہ وہ وہاں حکومت بنانا ہی نہیں چاہتے تھے۔ وہ پیپلزپارٹیٰ کو فری ہینڈ اور کھلا میدان دینا چاہتے تھے۔ تا ہم سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں جب مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم غائب تھی۔ تحریک انصاف میدان میں موجود نہیں تھی۔ اکیلی پیپلزپارٹی بھی سادہ اکثریت نہ جیت سکے تو یہ بلاول کے لیے ایک بہت بڑا سوال ہے۔
دوسری طرف آزاد کشمیر کے انتخابات میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا دھرنا اور احتجا ج بھی مسلم لیگ (ن) کے لیے ہی ایک چیلنج تھا۔ بلاول نے پوری انتخابی مہم میں اپنا بیانیہ بھی اس کالعدم ایکشن کمیٹی کے حق میں بنایا۔ ان کے مطالبات کی بالواسطہ حمائت بھی کی۔ ان کے لیے ہمدردی بھی ظاہر کی۔ ان کے ساتھ خط و خطابت بھی کی۔ ان کو کالعدم قرارد ینے کے عمل پر بھی شکوک و شبہات کاا ظہار کیا۔ ایک ٹروتھ کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ غرض کہ انھوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہمدردیاں بھی حا صل کرنے کی کوشش کی ۔ اور ان کا حامی ووٹ بینک بھی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم میں اس حوالہ سے ایک خاموشی تھی۔ یہ درست ہے کہ کشمیر میں جو جلسہ ہوئے ان میں ن لیگ نے اس موضوع پر مکمل خاموشی رکھی لیکن مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت اور بالخصوص و فاقی وزرا نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف کھل کر موقف کا اظہار کیا۔ ان کے خلاف ایک لائن نظرا ٓئی۔ اس لیے یہ تجزیہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی مخالفت اور بلاول کی پیپلزپارٹی نے کالعد م یکشن کمیٹی کی نیم ہمدردیاں حاصل کرنے کی مہم کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔ کیا اب میر پور اور کوٹلی نتائج سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے بیانیہ اور احتجاج کو مکمل طو رپر مسترد کیا ہے۔ بلکہ پیپلزپارٹی کی جانب ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی پالیسی کے بھی کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔
انتخابات کے پہلے مرحلے کا خوش اسلوبی سے انعقاد کالعدم ایکشن کمیٹی کی بڑی سیاسی ناکامی بھی ہے۔ وہ انتخابی عمل کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ انتخابات کو ملتوی کرانا چاہتے تھے۔ وہ مہاجر سیٹیں ختم کرانا چاہتے تھے۔ بلاول نے بھی ان کے ،مطالبات کی دبے دبے الفاط میں حمائت کی۔ لیکن میر پور اور کوٹلی میں انتخابات کے کامیاب انعقاد کی وجہ سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کو سیاسی طور پر بہت نقصان پہنچا ہے۔ اب جب مہاجر سیٹوں کے نتائج بھی آئیں گے تو ان کا سیاسی کھیل ختم ہو جائے گا۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کی تمام کوشش مہاجر سیٹوں کا خاتمہ تھا۔ کہیں نہ کہیں پیپلزپارٹی بھی دل سے اس کی حامی تھی لیکن کھلے عام اظہار نہیں کر رہی تھی۔ تا ہم بالواسطہ حمائت کر رہی تھی۔ تا ہم اب تو میر پور اور کوٹلی کے انتخابی نتائج ظاہر کر رہے ہیں کہ کشمیر کے عوام بھی مہاجر سیٹوں پر کالعد م ایکشن کمیٹی کے بیانیہ کے کوئی خاص حق میں نہیں ہیں۔ لوگ ان مہاجر سیٹوں کے حق میں ہیں۔
کیا میر پور اور کوٹلی کے انتخابی نتائج باقی دو مرحلوں کے نتائج پر بھی اثر ڈالیں گے؟ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ یہ درست ہے کہ پنجاب کی مہاجر سیٹیں تو ن لیگ کو ملتی نظر آرہی ہیں۔ لیکن راولاکوٹ میں ن لیگ کی پوزیشن پر سوالیہ نشان ضرور ہیں۔ تا ہم مظفر آباد کی بات مختلف نظر آرہی ہے۔ وہاں سے بھی ن لیگ کو سیٹیں مل سکتی ہیں۔ اس لیے ن لیگ کی حکومت بننے کے زیادہ امکانات نظر آرہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اب اتحادی حکومت بنانے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی ن لیگ نے پیپلزپارٹی کی حکومت میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔ وہاں ن لیگ اپوزیشن میں ہے۔ پنجاب میں بھی پیپلزپارٹی حکومت سے الگ ہے۔ بات صرف وفاق کی ہے جہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ آزادکشمیر میں بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی مشترکہ حکومت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دونوں جماعتوں میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) سے کون وزیر اعظم ہوگا ؟ یہ بھی ایک مشکل سوال ہے۔ ابھی تک مسلم لیگ (ن) نے کسی کو بھی وزارت عظمیٰ کے لیے گرین سگنل نہیں دیا ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ن لیگ نے اسے وزیر اعظم نامزد کر دیا ہے۔ کسی کی جیب میں وزارت عظمیٰ کی پرچی نہیں ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس بار کوئی نیا نام بھی سامنے آسکتا ہے۔ شائد پرانے روائتی نام پیچھے رہ جائیں گے۔ لیکن یہ ن لیگ کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔