میڈی کیئر (Medicare) امریکی حکومت کاایک انتہائی قابل تحسین کام ہے۔ اس اسکیم کے تحت ‘ وہ تمام امریکی شہری‘ جو اسپتال میں علاج کرانے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے۔ اپنا مفت علاج‘ اس میڈی کیئر کے تحت کراتے ہیں۔ساتھ ساتھ‘ مفت ادویات اور دیگر ضروری آلات بھی گھر پر ہی فراہم کیے جاتے ہیں۔ کئی بزرگ پاکستانیوں کو جانتا ہوں ،جنھیں تمام طبی سہولیات‘ گھر پر ہی فراہم کی جاتی ہیں۔
امریکا میں اسپتالوں میں علاج بہت مہنگا ہے۔ متوسط طبقہ بھی پوری عمر ‘ ایک خاص رقم ہر ماہ‘ جمع کراتا ہے۔ تاکہ جب پیرانہ سالی میں جائے‘ تو کسی قسم کی دقت نہ ہو۔ غریب امریکیوں کے لیے بہر حال میڈی کیئر سے بہتر کوئی بھی حکومتی اسکیم نہیں۔ آپ اس پروگرام کی مجموعی رقم سن کر حیران ہو جائیں گے۔ کیونکہ یہ مختص سرمایہ‘ ہمارے ملک کی پوری معیشت سے بھی زیادہ ہے۔ 2025ء میں امریکی مرکزی حکومت نے میڈی کیئر کے لیے ایک ٹریلین‘ اور اکیس ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔
ویسے ہمارا صحت کا بجٹ کیا ہے، اس پر بات کر کے شرمندہ نہیں کرنا چاہتا۔ ہمارے تمام امیر لوگ‘ اپنے اور اہل خانہ کے علاج کے لیے امریکا یا یورپ جاتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم کئی پاکستانی معالجین نے بتایا کہ طبقہ اشرافیہ کے لوگ امریکا اور یورپ کے مہنگے پرائیویٹ اسپتالوں میں‘ کروڑوں روپے اپنی صحت پربلا تکلف ‘ آرام سے خرچ کرتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں ‘ یہ پیسے ‘ سرکاری فنڈ کی کسی ایسی مد میں سے نکالے جاتے ہیں ‘ جس میں سے اخراجات‘ بعد میں ثابت کرنا ناممکن ہوتے ہیں۔ان کے اعلانات پر نا جائیں، صرف یہ مطالبہ فرما دیں کہ ان کے علاج اور سفر کے اخراجات کا آڈٹ کوئی غیر ملکی نامور کمپنی کرے گی۔ ان کا جھوٹ ‘ ایک دن میں سب کے سامنے آ جائے گا۔
بات‘ امریکی میڈی کیئر کی ہو رہی تھی ۔ غریب اور مستحق شہریوں کے لیے مختص‘ اس اچھے پروگرام میں 419 ملین ڈالر کا فراڈ پکڑا گیا ہے۔ پاکستانی روپوں میں دو سو ارب بنتے ہیں۔ اس فراڈ نے پورے امریکا میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا ہے۔ بلکہ ان کا پورا صحت کا نظام حیران و پریشان کھڑا ہے کہ آخر کون وہ ’’بدبخت‘‘ ہیں‘ جنھوں نے امریکا کے غریبوں کے لیے مفت علاج و معالجہ کی سہولت کو چونا لگایا ہے ۔قارئین خاطر جمع رکھیں، یہ ’’کارنامہ‘‘ کسی اور ملک کے شہریوں کا نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے‘ راج دلارے پاکستانیوں کا کیا دھرا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے چار پاکستانیوں کے نام ظاہر کر دیے ہیں جو پوری دنیا کے انٹرنیشنل میڈیا پر نمایاں طور پر دکھائے گئے ہیں۔ مبینہ کا لفظ استعمال ‘ اس لیے نہیں کر رہا کیونکہ یہ اسٹوری‘ ہر جریدے نے شائع کردی ہے۔ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ہولناک فراڈ‘ چار پاکستانیوں نے ہی کیا ہے۔
ان میں تین مرد ہیں جب کہ ایک خاتون ہے ، یعنی خواتین بھی اس ’’نیک کام‘‘ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ 2023`25ء کے دورانیہ میں ان چاروں‘ ’’محب وطن‘‘ پاکستانیوں نے کراچی یا اسلام آباد میں ایک کال سینٹر بنایا ۔ اس کا نام (Hims) رکھا گیا ۔ کال سینٹر اس فراڈ کی بنیاد تھی۔ ساتھ ساتھ‘ اس گروہ نے ان گنت Web sites بھی بنائیں تاکہ طریقے سے معلومات حاصل کی جا سکیں۔ کال سینٹر پر ایسے نوجوان اور لڑکیوں کو بھرتی کیا گیا۔ جو امریکی لہجے میں انگریزی بول سکیں۔ اس لہجے میں مہارت کے لیے‘ عملے کی بہترین ٹریننگ کرائی گئی۔ اب ان چاروں نے امریکی نظام صحت میں نقب لگائی۔ اس گروہ نے ان گنت بوڑھے اور بے روز گار جوان ‘ مرد اور عورتوں کا ڈیٹا حاصل کیا۔
ان کے سوشل سیکیورٹی نمبرز اور دیگر ذاتی معلومات بھی حاصل کیں۔ امریکی حکام کے مطابق فضا فرید‘ اس ہیکنگ میں سرغنہ کا کردار ادا کر رہی تھی۔ جب اس گروہ کے پاس لوگوں کی ذاتی معلومات آ گئیں۔ تو انھیں‘ حد درجہ مکاری سے استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد‘ کال سینٹر کے لوگوںنے ٹارگٹڈڈ لوگوں کو فون کرنا شروع کر دیے ۔ پوچھنا شروع کر دیا‘ کہ کیا آپ کو میڈیکل ٹیسٹ کے لیے سامان گھر پر چاہیے یا نہیں۔ اکثر نے انکار کردیا کہ انھیں کسی قسم کا طبی سامان گھر پر نہیں چاہیے۔ آپ ان ملزمان کی مجرمانہ ذہانت دیکھئے بلکہ داد دیجیے کہ انھوں نے ہزاروں مریضوں کی ’’جعلی آمادگی‘‘AIیعنی آرٹیفشل انٹیلیجنس کے ذریعے حاصل کی۔ اس آواز کو اصل سے موازنہ کیا جائے تو یہ بتانا کافی مشکل تھا کہ یہ AIکے ذریعے پیدا شدہ آواز ہے یا اصل مریض بات کر رہا ہے۔
بہرحال یہ اتنا مکمل جال تھا کہ اس گروہ نے لا تعداد میڈیکل کا سامان‘ فرضی طریقے سے لوگوں کے گھر بھجوانا ظاہر کر دیا۔ اسپتال کے عملے کو اندازہ ہی نہیں تھا ‘ کہ ان کو سامان کا آرڈر کرنے والی آواز مکمل طور پر جعلی ہے۔ یہ ناپاک سلسلہ‘ دو برس تک چلتا رہا۔ جعلی لوگوں کے کوائف مہارت سے استعمال کرنے کے بعد‘ اس گروہ نے میڈی کیئر میں جعلی بل بھجوانے شروع کر دیے کہ یہ سامان مریضوں تک پہنچ گیا ہے۔ لہٰذا ‘ حکومت‘ اس کے پیسے ادا کر دے۔ بغیر کسی شک شبہ کے ‘ اس گروہ نے چار سو انیس ملین ڈالر کی خطیر رقم‘ اپنے متعدد بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرا لی۔ ناجائز پیسے مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں منتقل کرتے رہے۔ جس میں دبئی سرفہرست تھا۔
دو برس کے بعد‘ جب آڈٹ کرنے والوں نے میڈی کیئر کے اخراجات دیکھنے شروع کیے تو انھیں ایک خاص پیٹرن (Pattern) نظر آیا۔ Hello سینٹر سے کال‘AI سے بنائی گئی، بزرگوں کی بوگس آوازیں ‘ ایک ہی طرح کے طبی سامان کی مسلسل ترسیل اور ایک خاص دورانیہ میں تمام محصولات، انھیں شک گزرا۔ جس جس مریض کی جانب سے کال آئی تھی۔ آڈٹ اور حکومتی عمال نے ان تمام سے رابطہ کیا۔ ان کی تعداد سیکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں تھی۔ وہ تمام ششدر رہ گئے۔ کیونکہ ان میں سے کسی نے میڈی کیئر کے سینٹر فون کر کے کوئی طبی رعایت نہیں مانگی تھی۔
نہ ہی کبھی کسی سامان کی فرمائش کی تھی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے گھر تو کسی قسم کا کوئی سرکاری سامان ڈلیور نہیں ہوا۔ آڈٹ والوں نے یہ تمام معلومات ‘ مقامی پولیس‘ تفتیشی اداروں اور وزارت خارجہ کو فراہم کیں۔ چاروں مجرموں کو تھوڑی سی بھنک پہلے ہی سے پڑ چکی تھی۔ وہ جرم چھپا تو نہیں سکتے تھے۔ لہٰذا چاروں امریکا سے فرار ہو گئے۔ امریکی حکومت نے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کیے۔ سرکاری حکم نامہ جاری کیا گیا‘ کہ وہ جس بھی ملک میں ہوں۔ انھیں فوری طور پر گرفتار کر کے امریکی حکومت کے حوالے کیا جائے تاکہ ان پر مقدمات چلائے جا سکیں۔ تفصیل تو معلوم نہیں ہے لیکن منی لانڈرنگ سے لے کر کافی طرح کے سنگین الزامات پر مبنی ہیں۔ اب یا تو وہ دوبئی میں شناخت بدل کر رہ رہے ہیں یا پاکستان میں‘ چھپ کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ویسے‘ ہمارے ملک میں جعلی شناختی کارڈز اور اس کی بنیاد پر اپنی Fake شناخت بنانا بالکل مشکل کام نہیں ہے۔ آدھے افغانستان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس ہیں۔
لہٰذا ہمارے جیسے نظام میں ان مجرموں یا دونمبر لوگوں کو تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ویسے کیا یہ کمال کی بات نہیں کہ ایک کرپٹ سسٹم کے حامل ملک کے سرکاری ملازمین امریکا جیسے جدید نظام کے حامل ملک کے ملزمان کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔ عرض یہ کرنا ہے کہ لاہور اور کراچی تو انسانوں کے جنگل ہیں۔ان میں کسی بھی انسان کا اپنی مرضی سے ’’گم‘‘ ہو جانا‘ آسان ترین کام ہے۔ اور اگر پکڑے بھی گئے تو معمولی سی رقم دے کر ’’آزادی‘‘ خریدی جا سکتی ہے۔ مسئلہ تو اس وقت ہو گا جب امریکی حکام ‘ ان مجرموں کو گرفتار کریں گے۔ اور پھر انھیں امریکی نظام انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جہاں‘ عمر قید‘ رسوائی‘ ذلت اور شاید سزائے موت ان کا انتظار کر رہی ہے۔
ویسے ان چاروں کو مفت مشورہ ہے ‘ کہ یہ دونمبر شناخت حاصل کرنے کے بعد‘ اپنے بھاری بھرکم ناجائزسرمائے کو استعمال کریں‘ اس کالے دھن کا کچھ حصہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کو فنڈز کے نام پر دان کردیں، یہ فنڈز انھیں آرام سے کسی اسمبلی یا سینیٹ میں پہنچا دے گا۔ اس کے بعد‘ انھیں بلیو پاسپورٹ بھی مل جائیں گے اور وہ تمام مراعات حاصل ہو جائیں گی جن کی بدولت وہ محفوظ رہ سکتے ہیں؟ ہاں‘ اگر زیادہ پیسے خرچ کر سکیں ‘ تو وزارت بھی دسترس میں آسکتی ہے ۔
اس کے بعد تو پروٹوکول بھی مل جائے گا ، اگر بدقسمتی سے گرفتار بھی کرلیے گئے تو بڑی آسانی سے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر ابلاغی مہم چلائی جاسکتی ہے کہ ان کے خلاف سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے، ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ حق اور سچ کی آواز ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ مغربی سازشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ملک میں مظاہرے بھی کرائے جاسکتے ہیں۔ اپنے ملک کا نظام دیکھوں تو میری نظر میں یہ چاروں بے گناہ ہیں، ہمارے ہاں تو اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ثابت ہونے کے بعد بھی فرد جرم نہیں لگائی جاتی۔ بگ گنز کرپشن کے تمام مقدمات سے باعزت بری ہو جاتے ہیں لیکن یاد رکھیں، کائنات کے مالک کا نظام بھی ہے۔ جس دن قدرت نے ان لوگوں کو ’’ہیلو‘‘ کہہ دیا تو ملک الموت سامنے کھڑا ہو گا۔ اور وہاں سے فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ لہٰذا اس Helloسے ڈریئے؟