26 جولائی کو دنیا بھر میں مینگروز کے تحفظ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ محض ایک ماحولیاتی دن نہیں بلکہ ہمیں اس خاموش دنیا کی یاد دلاتا ہے جو نہ نعرے لگاتی ہے نہ احتجاج کرتی ہے مگر ہماری بقا کے لیے ہر لمحہ اپنی زندگی قربان کرتی رہتی ہے۔ سمندر اور زمین کے سنگم پر کھڑے یہ درخت صدیوں سے طوفانوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں ،ساحلوں کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں ،ہزاروں آبی جانداروں کو پناہ دیتے ہیں اور فضا سے کاربن جذب کرکے زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے خلاف ایک قدرتی حصار بن جاتے ہیں۔
پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جہاں دنیا کے بڑے مینگروز جنگلات موجود ہیں۔ سندھ کے ساحل اور دریائے سندھ کا ڈیلٹا ان درختوں کا اصل گھر ہے۔ یہ حقیقت بھی کسی المیے سے کم نہیں کہ انھی جنگلات نے گزشتہ کئی دہائیوں میں بے دریغ کٹائی، میٹھے پانی کی کمی، آلودگی اور انسانی غفلت کا سامنا کیا ہے، اگر قدرت نے اپنی قوتِ مدافعت نہ دکھائی ہوتی اور کچھ ادارے ان کی بحالی کے لیے سرگرم نہ ہوتے تو شاید آج یہ سب صرف تاریخ کی کتابوں کا حصہ ہوتے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں انڈس ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبہ دنیا کے بڑے مینگروز بحالی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس منصوبے نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت اور منصوبہ بندی درست ہو تو ماحولیات کا تحفظ صرف ایک اخلاقی ذمے داری نہیں رہتا بلکہ قومی معیشت کا بھی ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے، انھی مینگروز کی بدولت پاکستان نے کاربن کریڈٹس کی صورت میں قیمتی زر مبادلہ بھی حاصل کیا ہے اور مستقبل میں اس کے امکانات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔
کاربن کریڈٹ دراصل اس دنیا کی ایک نئی معاشی حقیقت ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے دباؤ میں جنم لے رہی ہے، جو ممالک یا ادارے فضا سے کاربن کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہ اس کامیابی کو عالمی منڈی میں معاشی قدر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے مینگروز اس اعتبار سے سونے کی کان نہیں تو کم از کم سبز دولت ضرور ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس دولت کا فایدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ مقامی آبادی کو ماہی گیروں کو یا صرف چند اداروں اور کمپنیوں کو۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ قدرتی وسائل پوری قوم کی مشترکہ امانت ہوتے ہیں، اگر ان سے حاصل ہونے والی آمدنی، معاہدوں کی تفصیلات، کاربن کریڈٹس کی قیمت، ان کی فروخت کا طریقہ کار اور حاصل شدہ رقوم کے استعمال کی معلومات عوام سے پوشیدہ رہیں تو پھر شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ ماحولیات کے نام پر ہونے والا ہر منصوبہ اتنا ہی شفاف ہونا چاہیے جتنا ایک صاف دریا کا پانی۔
شفافیت صرف احتساب کا تقاضا نہیں اعتماد کی بنیاد بھی ہے، اگر حکومت، متعلقہ ادارے، نجی کمپنیاں اور عالمی شراکت دار مکمل معلومات عوام کے سامنے رکھیں، مقامی کمیونٹیز کو فیصلوں میں شریک کریں اور آمدنی کا ایک معقول حصہ انھی علاقوں کی ترقی، تعلیم ،صحت اور ماحول کی بحالی پر خرچ کریں تو یہ منصوبے آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مینگروز صرف کاربن کریڈٹ کمانے کا ذریعہ نہیں۔ یہ سمندری طوفانوں کے سامنے پہلی دفاعی دیوار ہیں۔ یہ مچھلیوں، جھینگوں اور بے شمار آبی حیات کی افزائش گاہ ہیں۔ یہ ساحلی آبادیوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ ان کے ختم ہونے کا مطلب صرف چند درختوں کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک پورے ماحولیاتی نظام کی تباہی ہے۔
آج جب دنیا موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نبرد آزما ہے پاکستان کو اپنی اس قدرتی دولت کی قدر کرنی ہوگی۔ ہمیں مزید مینگروز لگانے ہوں گے، ان کی حفاظت کرنی ہوگی، دریائے سندھ میں ماحول دوست بہاؤ کو یقینی بنانا ہوگا، ساحلی آلودگی کو کم کرنا ہوگا اور اس قومی اثاثے کو محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ قومی ترجیح بنانا ہوگا۔
26 جولائی کا دن ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ درخت صرف سایہ نہیں دیتے بعض اوقات وہ پوری قوم کے مستقبل کو سہارا دیتے ہیں۔ پاکستان کے مینگروز بھی ایسا ہی سرمایہ ہیں۔ ان سے زرِ مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے، ماحول بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر زمین بھی چھوڑی جا سکتی ہے۔ شرط صرف ایک ہے نیت میں اخلاص، منصوبوں میں شفافیت اور قدرت کے ساتھ وہی احترام جس کی وہ ہمیشہ سے مستحق رہی ہے۔
قدرت ہم سے بہت کچھ کہہ رہی ہوتی ہے، ضروری یہ ہے کہ ہم اس طرف توجہ دیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان خاموش محافظوں کی آواز سنیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔اس تناظر میں ایک اور اہم پہلو مقامی آبادی کا کردار ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ قدرتی وسائل کے تحفظ میں اس وقت تک دیرپا کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی جب تک ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اس عمل کا حقیقی شریک نہ بنایا جائے۔ سندھ کے ساحلی علاقوں میں آباد ہزاروں خاندان نسلوں سے مینگروز اور سمندر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی روزی روٹی، ثقافت اور طرزِ زندگی انھی جنگلات سے وابستہ ہے، اگر انھیں تحفظ ماحول کے منصوبوں میں محض تماشائی بنا دیا جائے تو ایسے اقدامات اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی ماہی گیروں، خواتین، نوجوانوں اور کمیونٹی تنظیموں کو مینگروز کی نگہداشت ،شجرکاری اور نگرانی میں موثر کردار دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں کاربن کریڈٹس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد میں بھی مناسب حصہ ملنا چاہیے۔ جب مقامی لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ جنگلات کی حفاظت ان کے اپنے مستقبل روزگار اور بچوں کی خوش حالی سے جڑی ہوئی ہے تو وہ ان درختوں کے سب سے مضبوط محافظ بن جائیں گے۔
اسی طرح جامعات تحقیقی اداروں اور ماہرین ماحولیات کو بھی اس قومی کوشش میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ مینگروز کے بارے میں جدید تحقیق کاربن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق مستند اعداد و شمار نہ صرف بہتر منصوبہ بندی میں مدد دیتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو بھی مضبوط بناتے ہیں، اگر سائنسی تحقیق موثر پالیسی سازی مقامی شراکت اور شفاف حکمرانی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں تو پاکستان نہ صرف اپنے ساحلی ماحولیاتی نظام کو محفوظ بنا سکتا ہے بلکہ عالمی موسمیاتی اقدامات میں ایک موثر اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بھی اپنی شناخت مستحکم کر سکتا ہے۔