چین کے 1.4 ارب ڈالر واپس؛ زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کیلیے 3 سال میں 28 ارب ڈالر خریدے گئے

بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر کی سطح پر آ چکا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک


ویب ڈیسک July 30, 2026

پاکستان نے چین کے 1.4 ارب ڈالر واپس کردیے جب کہ 3 سال میں زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کے لیے 28 ارب ڈالر خریدے گئے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ  پاکستان نے چین کو 1.4 ارب ڈالر مالیت کا کمرشل قرض لوٹا دیا ہے، جبکہ رواں برس مجموعی طور پر بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے دباؤ میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جولائی میں مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے چکائے گئے ہیں۔ اس رقم میں چین کو ادا کردہ 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض اور 80 کروڑ ڈالر کے دیگر واجبات شامل ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق چین کی جانب سے اس قرض کی دوبارہ فنانسنگ چند ہفتوں میں متوقع ہے، جس کے لیے تکنیکی مراحل جاری ہیں۔ علاوہ ازیں حکومتی حکمت عملی کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے گزشتہ 3 برسوں میں 28 ارب ڈالر کی خریداری کی گئی ہے، جس سے مالیاتی شعبے میں استحکام پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر کی سطح پر آ چکا ہے، جس میں 3.5 ارب ڈالر صرف سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو مزید مستحکم رکھنے کے لیے سعودی عرب اور چین سے 12 ارب ڈالر کا رول اوور درکار ہوگا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کمرشل قرضوں کی بروقت ادائیگی عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے ملک کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چینی قرض کی دوبارہ فنانسنگ کا عمل مالیاتی توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جس سے معیشت پر پڑنے والے وقتی دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔