ایران پر امریکی فضائی حملے، متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، قشم اور آبادان دھماکوں سے گونج اٹھے

ایران کی جانب سے ان حملوں میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی


ویب ڈیسک July 30, 2026

واشنگٹن / تہران: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل امریکی افواج پر کیے گئے مبینہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں کی گئی۔

سینٹ کام کے بیان کے مطابق حملوں میں ایران کے مختلف علاقوں میں واقع فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی مراکز اور بحری فوجی صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں موجود امریکی افواج، خلیجی اتحادی ممالک اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعرات کی صبح امریکا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں بھی حملے کیے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جزیرہ قشم اور آبادان کے اطراف کئی مقامات پر میزائل حملے کیے گئے۔

صوبہ ہرمزگان کے نائب گورنر احمد نفیسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چار بجے قشم جزیرے کے قریب ایک مقام کو امریکی فوج نے نشانہ بنایا۔

ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے صوبہ خوزستان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ آبادان شہر کے اطراف بھی امریکی میزائل حملے ہوئے ہیں۔

تاحال ایران کی جانب سے ان حملوں میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے بھی حملوں کے نتائج کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فضائی حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔