تل ابیب / جنوبی لبنان: اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے اس وقت تک واپس نہیں ہٹے گی جب تک اسرائیل کی طویل المدتی سلامتی یقینی نہیں بن جاتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو فوج اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید علاقوں تک بڑھا سکتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جنرل ایال ضمیر نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فوجی اہلکاروں سے ملاقات کی اور موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور وہاں موجود مبینہ عسکری تنصیبات اور ڈھانچوں کو ختم کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔
ایال ضمیر نے کہا کہ اگر اسرائیل کی سلامتی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضرورت محسوس ہوئی تو فوج اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرے گی اور اضافی علاقوں میں بھی آپریشن کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج ان علاقوں سے اس وقت تک انخلا نہیں کرے گی جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ مستقبل میں اسرائیل کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور سرحدی علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپوں اور فوجی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب لبنان اور مختلف علاقائی حلقے اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی پر اعتراض کرتے رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری سے صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔
سیاسی اور عسکری مبصرین کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف کا تازہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی کشیدگی جلد ختم ہونے کے امکانات کم ہیں اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔