جنوبی کوریا کے عالمی شہرت یافتہ کے پاپ بینڈ بی ٹی ایس (BTS) نے 2027 کے گریمی ایوارڈز میں اپنی موسیقی نامزد نہ کرانے اور تقریب سے دور رہنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد عالمی میوزک انڈسٹری میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی ٹی ایس نے یہ فیصلہ گریمی ایوارڈز میں ’’بہترین ایشین پاپ میوزک پرفارمنس‘‘ کے نام سے نئی کیٹیگری متعارف کرائے جانے کے بعد کیا۔ گروپ نے واضح کیا کہ وہ اپنی نئی البم ’’آری رنگ‘‘ یا اس کے کسی بھی گانے کو ایوارڈز کے لیے جمع نہیں کرائے گا۔
انسٹاگرام پر جاری الگ الگ بیانات میں گروپ کے ساتوں ارکان نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ موسیقی کی قدر اس کے فن اور معیار کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ اسے زبان، خطے یا جغرافیے کے اعتبار سے الگ الگ زمروں میں تقسیم کیا جائے۔ ان کے مطابق یہی سوچ ان کے اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہے۔
موسیقی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ بی ٹی ایس کا یہ مؤقف بظاہر نرم انداز میں دیا گیا ہے، تاہم اسے ریکارڈنگ اکیڈمی کی نئی پالیسی پر واضح اعتراض سمجھا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق الگ ایشین پاپ کیٹیگری متعارف کرانے سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ ایشیائی فنکار مرکزی ایوارڈز کی دوڑ سے الگ کر دیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ریکارڈنگ اکیڈمی کے صدر ہاروی میسن جونیئر نے ’بہترین ایشین پاپ میوزک پرفارمنس‘ اور ’بہترین لاطینی گیت‘ سمیت نئی کیٹیگریز متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیقی سے وابستہ برادری مختلف اصناف اور خطوں کی موسیقی کو مزید بہتر انداز میں سراہنے کے لیے نئے مواقع کی خواہاں تھی۔
تاہم ناقدین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق ایشیائی اور لاطینی پاپ موسیقی کوئی نئی صنف نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر بے حد مقبول ہے، جس کی صنعت اربوں ڈالرز پر مشتمل ہے اور امریکی مارکیٹ بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ اسی لیے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نئی کیٹیگریز فنکاروں کو مرکزی مقابلے سے الگ کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔
بی ٹی ایس کے اعلان کے بعد ریکارڈنگ اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہاروی میسن جونیئر نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں گروپ کے فیصلے پر افسوس ہے، تاہم وہ بی ٹی ایس کے مؤقف اور ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔