تھوڑی سی محنت پر سانس پھولنا، جسم میں چھپے کس مسئلے کی نشاندہی کر سکتا ہے؟

اگر معمولی کام کے دوران بار بار سانس پھولنے لگے تو اسے صرف تھکن یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے


ویب ڈیسک July 31, 2026
کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہرین نے 12 سال تک 5ہزار سے زائد افراد کے روز مرہ معمولات کا جائزہ لیا فوٹو: فائل

روزمرہ معمولات میں تھوڑا چلنے، تیز رفتاری سے قدم بڑھانے، دوڑنے یا سیڑھیاں چڑھنے کے دوران سانس کا پھول جانا اب بہت سے افراد کی عام شکایت بن چکا ہے۔ یہ مسئلہ ماضی میں زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں دیکھا جاتا تھا، تاہم موجودہ دور میں نوجوان بھی اس کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر معمولی کام کے دوران بار بار سانس پھولنے لگے تو اسے صرف تھکن یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کی اصل وجہ جاننا ضروری ہے کیونکہ بعض اوقات یہ کسی اندرونی بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جدید طرزِ زندگی نے لوگوں کی جسمانی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے۔ زیادہ تر افراد کھانے کے بعد فوری طور پر موبائل فون، کمپیوٹر یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، جس سے جسمانی فٹنس متاثر ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ کئی صحت کے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ یہی عادت بعض افراد میں سانس پھولنے کی شکایت کو بھی بڑھا سکتی ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق معمولی مشقت پر سانس کا پھولنا بعض اوقات دل، پھیپھڑوں، گردوں یا جگر سے متعلق بیماریوں کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔ اگر سانس پھولنے کے ساتھ چہرے یا آنکھوں کے گرد سوجن محسوس ہو تو یہ جگر کے مسائل کی علامت ہو سکتی ہے، جبکہ پیروں میں ورم گردوں کی خرابی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اسی طرح ہاتھوں، پیروں اور چہرے پر بیک وقت سوجن دل سے متعلق بیماریوں کا خطرہ ظاہر کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی علامات کی صورت میں خود سے علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔

طبی ماہرین کے مطابق سانس پھولنے کی کئی دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، جن میں خون کی کمی، جسمانی کمزوری، دمہ، موسمی الرجی، نزلہ، کھانسی، بلغم، پھیپھڑوں کی بیماریاں اور طویل عرصے تک سگریٹ نوشی شامل ہیں۔ تاہم ہر فرد میں اس مسئلے کی وجہ مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر حتمی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

بعض افراد میں سانس لینے میں دشواری کا تعلق معدے کے مسائل سے بھی ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کھانے کے فوراً بعد بیٹھے رہنے، ورزش نہ کرنے اور غیر متوازن غذا کے باعث گیس اور تیزابیت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے سینے میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے اور سانس لینے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

صحت کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ متوازن غذا، روزانہ مناسب ورزش اور کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی کو معمول بنایا جائے تاکہ نظامِ ہاضمہ بہتر رہے اور جسمانی فٹنس برقرار رہ سکے۔