چین نے ایران کے لیے فضائی دفاعی میرائلوں کی کھیپ بھیجنے کی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ ہمیشہ امن اور تنازع کے خاتمے کے لیے کام کرتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے ایران کے لیے دفاعی فضائی میزائل بھیجنے جانے سے متعلق رپورٹ پر کہا کہ چین اس معاملے پر متعدد مواقع پر اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے اور یہ رپورٹس درست نہیں اور حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیجنگ ہمیشہ امن کے قیام اور تنازع کے خاتمے کے لیے کام کرتا ہے۔
قبل ازیں رپورٹ میں پاکستان کا بطور ٹرانزٹ روٹ ذکر کیا گیا تھا تاہم اس دعوے کی تردید بھی کی گئی تھی، پاک فوج کے شعب تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ترک خبرایجنسی انادولو سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس حوالے سے تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد اور حقیقت کے برعکس ہیں۔
آئی ایس پی آر نے ان خبروں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کردیا تھا۔
یاد رہے کہ غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز نے رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کو آئندہ چند ہفتوں میں چین کے تیار کردہ 400 کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائل لانچر موصول ہونے والے ہیں، رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین ایران کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے والا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ابتدائی کھیپ چین کے مغربی شہر ارومچی سے فضائی راستے کے ذریعے روانہ کی جانی تھی اور پاکستان سے گزر کر ایران پہنچنی تھی تاہم اب پاکستان اور چین دونوں نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔