میگنیشیم کی کمی خاموشی سے صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، کن علامات پر فوراً توجہ دیں؟

میگنیشیم ہڈیوں، پٹھوں، اعصابی نظام اور دل کی صحت کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے


ویب ڈیسک July 31, 2026

ماہرین صحت کے مطابق میگنیشیم انسانی جسم کے لیے نہایت اہم معدنیات میں شمار ہوتا ہے، جو ہڈیوں، پٹھوں، اعصابی نظام اور دل کی صحت کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم میں اس معدنی عنصر کی کمی مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل کو جنم دے سکتی ہے، اس لیے اس کی ابتدائی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

طبی رپورٹس کے مطابق میگنیشیم اعصابی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی کمی بعض افراد میں بے چینی، گھبراہٹ، چڑچڑے پن اور مسلسل اینگزائٹی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہے تو اس کی ایک وجہ میگنیشیم کی ناکافی مقدار بھی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم میں میگنیشیم کی کمی جذباتی کیفیت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے افراد معمولی باتوں پر زیادہ جذباتی ردعمل دے سکتے ہیں یا ذہنی دباؤ کا زیادہ شکار رہتے ہیں۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے خوراک میں پھلیاں، مختلف اقسام کے میوے، سبز پتوں والی سبزیاں، مچھلی اور اناج شامل کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

اگر مناسب نیند لینے کے باوجود ہر وقت تھکن، سستی یا توانائی کی کمی محسوس ہو تو یہ بھی میگنیشیم کی کمی کی ایک ممکنہ علامت ہو سکتی ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ایسی صورت میں خون کے ٹیسٹ کے ذریعے وٹامنز اور معدنیات کی سطح کا معائنہ کرانا مفید رہتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق متلی اور قے بھی بعض اوقات میگنیشیم کی کمی سے جڑی ہو سکتی ہیں، اس لیے اگر یہ علامات بار بار ظاہر ہوں تو انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اسی طرح دماغی تھکن کے ساتھ جسمانی کمزوری بھی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ جسم کو مطلوبہ مقدار میں میگنیشیم نہیں مل رہا۔ پٹھوں کی کارکردگی متاثر ہونے کی وجہ سے جسم میں طاقت اور توانائی کی کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق ٹانگوں میں درد، پٹھوں کے کھچاؤ، تناؤ یا اینٹھن کے متعدد کیسز کا تعلق بھی میگنیشیم کی کمی سے ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جسم کو اس معدنی عنصر کی مناسب مقدار ملتی رہے تو پٹھوں کے درد اور کھچاؤ کے امکانات بھی کم ہو سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی سپلیمنٹ کا استعمال شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔