امریکا نے ایرانی ایئرلائن کے معاون نیٹ ورک پر پابندی عائد کردی

چین، بھارت، روس اور ایران میں موجود 6 اداروں اور افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، امریکی محکمہ خزانہ


ویب ڈیسک July 30, 2026
فوٹو: رائٹرز

امریکا نے ایران کے مختلف اداروں کے ایک روز بعد ایئرلائن ماہان ایئر کے معاون انٹرنیشنل نیٹ ورک پر پابندی عائد کردی۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ماہان ایئر کی معاونت کرنے والے عالمی نیٹ ورکس کو نشانہ بناتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور اس حوالے سے بتایا گیا کہ یہ ایرانی فضائی کمپنی ایران کے پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ہتھیار اور ڈرونز کی منتقلی میں استعمال ہوتی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ سے جاری بیان میں کہا کہ اس نے چین، بھارت، روس اور ایران میں موجود 6 اداروں اور افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، ان میں کئی ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو امریکا اور یورپی یونین کی پابندیوں کا شکار اس ایئرلائن کے لیے سیلز ایجنٹس کے طور پر کام کرتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ وہ ایک ایسی فرنٹ کمپنی پر بھی پابندیاں عائد کر رہا ہے جو پاسداران انقلاب سے منسلک ہے اور جس نے جنگ کے دوران ایران کی متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں معاونت کی ہے۔

محکمۂ خزانہ نے کہا کہ اس کارروائی سے خطے بھر میں ایران کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو سہارا دینے والے نیٹ ورک کو مزید اثر پڑے گا۔

خیال رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصر کی بحیرۂ روم کی بندرگاہ دمیاط میں گیس بردار جہازوں پر ڈرون حملے نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں ایک ممکنہ نئے محاذ کی نشان دہی کی ہے، اس سے نہر سوئیز کے ذریعے بحری آمد و رفت کو لاحق خطرات کا امکان بڑھ گیا ہے، جو سعودی تیل کی برآمد کے لیے باقی رہ جانے والے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔

امریکا نے گزشتہ روز ایران کے10  اداروں اور 8 آئل ٹینکروں پر پابندی عائد کردی تھی اور بیان میں کہا تھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو آمدنی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں پر 10 اداروں اور مزید 8 آئل ٹینکروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا اور ان میں سے 6 ادارے چین میں قائم ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے کہا تھا کہ دو کمپنیوں، پرشین گلف میرین انشورنس کمپنی اور ہرمز سیف میرین سروسز اتھارٹی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور یہ دونوں ادارے ایران کی اس اسکیم کا اہم حصہ تھے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے مختلف بیمہ پالیسیوں کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثے اور دیگر آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔