چین کے جنوب مشرقی علاقے میں رواں ماہ ہونے لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 51 ہوگئی ہے اور 10 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چین کے صوبے چونگ کوئنگ کے علاقے پنگشوئی کاؤنٹی میں 17 جولائی کو لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جہاں دریا کنارے واقع پہاڑی میں کئی رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں۔
چین کے سرکاری میڈیا سے جاری ویڈیوز میں دھایا گیا کہ بڑی چٹان اور زمین سرک چکی ہے اور رہائشی عمارتیں، تجارتی مرکز اس کی زد میں آگئی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے جائے حادثہ پر ریسکیو کو بھیج دیا گیا تھا۔
مقامی انتظامیہ اور حکومتی عہدیداروں نے بتایا کہ اس وقت 50 لاشیں نکال لی گئی ہیں اور ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے تاہم 10 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حادثے میں 1100 افراد کو بحفاظت مذکورہ مقام سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا تھا اور 10 افراد کو بچالیا گیا تھا، جن میں سے 3 کو طبی امداد کے لیے اسپتال بھی منتقل کیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق حادثے کے بعد سے اب تک ریسکیو کا وسیع آپریشن جاری ہے، جس میں ایک ہزار 10 کارکن امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
حکام نے بتایا کہ امدادی کارکنوں کو کارروائی کے دوران شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے جبکہ اس علاقے میں امدادی کاموں کے لیے مشینری منتقل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
قبل ازیں ریسکیو نے گزشتہ ہفتے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جائے حادثے میں اب کسی کے زندہ بچنے کے امکانات نہیں ہیں۔
مقامی حکام نے کہا تھا کہ متاثرہ خاندانوں سے تعاون کی کوششیں جاری رکھی جائیں گے اور انہیں ریلیف اور مدد فراہم کی جائے گی اور حادثے کے بحالی کا عمل باقاعدہ طریقہ کار کے تحت جاری ہے۔
چین کے جنوب مشرقی علاقے میں اس حادثے سے قبل گینسو صوبے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ سے 33 افراد ملبے تلے دب گئے تھے اور 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔