ریاستی دہشت گردی کیلئے اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ ، اسلحہ تعاون پر عالمی خدشات

برطانوی سیاستدان جیرمی کوربن نے بھی اسلحہ کی فروخت اور غزہ پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ کر دیا


ویب ڈیسک July 31, 2026

خطہ میں عدم استحکام اور انتشار میں بھارت اور  اسرائیل دفاعی تعلقات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گئے۔

عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بھارت کی اسلحہ فروخت غزہ میں نسل کشی میں شمولیت کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر روزانہ نشر ہونے والی غزہ میں نسل کشی کے باوجود بھارت اسرائیلی فوج کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

عالمی صحافی جُولیدے آیگر کے مطابق مودی دور میں اسرائیل کو فروخت کیے گئے بھارتی ہتھیار 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی نسل کشی میں استعمال ہو رہے ہیں۔ برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے اسرائیل کے دفاعی شعبے کے ساتھ ایک وسیع اور قریبی اشتراک قائم کر رکھا ہے۔

بھارت اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو معاونت فراہم کرنے والی سپلائی چینز میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، رپورٹ میں بھارت کی ریاستی ملکیت اور حکومتی کنٹرول میں کام کرنے والی کمپنیوں کیجانب سے اسلحہ فروخت کی بھی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں اکتوبر 2023 کے بعد بھارت سے اسرائیل بھیجی جانے والی اسلحہ اور  بارودکی 2,596 شپمنٹس کا تجزیہ کیا گیا۔