ایران کی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کے دوران 24 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، امریکا کا دعویٰ

دفاعی ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری راستوں پر فوجی نگرانی میں اضافہ ہو رہا ہے


ویب ڈیسک July 31, 2026

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف نافذ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کے دوران امریکی افواج نے اب تک 24 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا، دو جہازوں کو ناکارہ بنایا جبکہ مزید دو جہازوں پر چڑھ کر کارروائی کی گئی ہے۔

سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ 30 جولائی تک یہ تمام اقدامات مشرقِ وسطیٰ کے سمندری علاقوں میں جاری آپریشنز کا حصہ تھے، جن کا مقصد ایران کے خلاف بحری پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

بیان کے ساتھ امریکی فوج نے ایک تصویر بھی جاری کی، جس میں امریکی بحریہ کا پوسائیڈن نگرانی طیارہ مشرقِ وسطیٰ میں گشت کے دوران امریکی فضائیہ کے ٹینکر طیارے سے فضا میں ایندھن حاصل کرتا دکھایا گیا۔

امریکی فوج کے مطابق یہ نگرانی طیارہ ان متعدد فضائی اور بحری اثاثوں میں شامل ہے جو خطے کے سمندری راستوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بحری ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

سینٹ کام نے ان جہازوں کی شناخت، ان کے کارگو یا ان کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ جن دو جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا، ان کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری راستوں پر فوجی نگرانی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی سلامتی پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔