یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع جاری رہے تاکہ یوکرین کے لیے امریکی تعاون محدود ہو جبکہ دعویٰ کیا جنگ میں اب تک 15 لاکھ روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں ماسکو پر ایران وک ڈرونز فراہم کرنے کا الزام عائد کیا جو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے خلاف استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں انٹیلی جینس کے ذریعے معلومات ملتی ہیں اور وہ اس بات پر خوش ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہو رہی ہے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ جب تک امریکا جنگ میں مصروف رہے گا وہ یوکرین کی اس طرح مدد نہیں کرسکیں گے جیسے پہلے کرتے تھے۔
روس کے خلاف جنگ میں جیت یا ہار کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ نہیں ہار رہا ہے، اپنا ملک اور آزادی نہیں کھونا ہی ہمارے لیے فتح ہے لہٰذا ہم نہیں ہار رہے ہیں اور نہ ہی وہ جیت رہے ہیں۔
زیلنسکی نے مزید دعویٰ کیا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک روس کے 15 لاکھ سے زائد فوجی مارے گئے ہیں جبکہ یوکرین کے جانی نقصانات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تقریباً 50 ہزار فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور تقریباً 4 لاکھ زخمی ہیں جبکہ لاپتا فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی جب روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور فضائی حملوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔