ہائی کولیسٹرول پر قابو کیسے پایا جائے؟ دل کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ عادات اپنائیں

صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے


ویب ڈیسک August 01, 2026

ماہرین صحت کے مطابق خون میں کولیسٹرول کی بلند سطح خاموشی سے صحت کو متاثر کرتی ہے اور وقت کے ساتھ دل کی بیماری، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے سنگین مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ گردوں کی دائمی بیماری اور ذیابیطس جیسی پیچیدگیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔

طبی رپورٹس کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ورزش خراب کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) کی سطح کم کرنے اور جسمانی وزن کو متوازن رکھنے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی جسمانی سرگرمی، جیسے تیز قدموں سے چہل قدمی، تیراکی یا سائیکل چلانا، دل کی صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

نیند کو بھی کولیسٹرول کی سطح پر اثر انداز ہونے والا اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔ ایک تحقیق، جس میں 2 ہزار 705 بالغ افراد کو شامل کیا گیا، کے مطابق وہ افراد جو روزانہ تقریباً آٹھ گھنٹے سوتے ہیں، ان میں اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی سطح نسبتاً بہتر دیکھی گئی۔ ماہرین عمومی طور پر بالغ افراد کو روزانہ سات سے نو گھنٹے کی معیاری نیند لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ بھی کولیسٹرول بڑھانے والے عوامل میں شامل ہو سکتا ہے۔ مسلسل اسٹریس کے نتیجے میں جسم میں کورٹیسول نامی ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو دل کی بیماریوں کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی لیے ذہنی سکون برقرار رکھنے اور تناؤ کم کرنے کے لیے یوگا، مراقبہ اور دیگر آرام دہ سرگرمیوں کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کی جاتی ہے۔

صحت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ورزش، مناسب نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے جیسی عادات نہ صرف کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ مجموعی صحت اور دل کی حفاظت کے لیے بھی نہایت اہم ہیں۔ اگر کسی شخص میں ہائی کولیسٹرول کی تشخیص ہو چکی ہو تو اسے طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ معالج کی تجویز کردہ ادویات بھی باقاعدگی سے استعمال کرنی چاہییں۔