اسپین کی سرحد پر 50 ہزار سے زائد تارکین وطن آمد، 57 افراد ہلاک

گزشتہ چند روز کے دوران سرحد پر 60 ہزار افراد کی آمد ہوئی تاہم 48 ہزار سے زائد واپس جاچکے ہیں، ہسپانوی حکام


ویب ڈیسک July 31, 2026
فوٹو: رائٹرز

اسپین کی حکومت نے کہا ہے کہ شمالی افریقہ کی جانب سے زمینی اور سمندری راستے سے 50 ہزار سے زائد تارکین وطن داخل ہوئے تاہم ان میں سے اکثر رضاکارانہ طور پر واپس چلے گئے جبکہ 50 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سیوٹا میں اسپین کی حکومت کے نمائندے بتایا کہ اسپین کی سرحد پر 50 لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور مراکش کی طرف مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے، ان میں سے متعدد افراد کی موت سمندر میں ڈوبنے سے ہوئی ہے اور کئی سرحد پر لگی باڑ عبور کرتے ہوئے کچل کر جاں بحق ہوئے ہیں۔

اسپین کی وزارت داخلہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح سے اب تک تقریباً 50 ہزار افراد نے سرحد عبور کی اور ایک اندازے کے مطابق 48 ہزار 300 افراد آج واپس جاچکے ہیں۔

سیوٹا کی مقامی حکومت کے سربراہ جووان ویواس کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران 60 ہزار کے قریب افراد کو سرحد سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے جبکہ سرحد پر بڑی تعداد میں لوگ کی آمد کے حوالے سے یورپی ممالک میں تقسیم نظر آئی اور یورپی یونین کے متعدد ممالک کی قیادت نے اسپین کو حادثے سے بچنے کے لیے اقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب مراکش کی حکومت نے اسپین سے واپس آنے والے تارکین وطن کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور پولیس نے آنسو گیس فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا۔

اٹلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسپین کے ساتھ یورپی یونین کے بارڈر فری شینگن انتظامات معطل کر رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کو ہوائی جہاز یا کشتی دونوں ذرائع سے سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ اسپین نے اس قدام کو یورپی یونین کے معاہدوں کیخلاف ورزی قرار دیا۔