سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے



بھارت میں جین زی نے انقلاب برپا کردیا۔ نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر میں چند نوجوانوں نے 26دن سے زیادہ بھوک ہڑتال کرکے اور پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے بعد احتجاج جاری رکھ کر مودی حکومت کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے وزیر تعلیم کو برطرف کردے، اگرچہ مودی حکومت کے وزراء نے وعدہ کیا تھا کہ احتجاجی طلبہ کے خلاف مقدمات درج نہیں ہونگے مگر بھارت کی ریاست بہار میں پولیس نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو گرفتار کرنا شروع کردیا تو نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں گرفتار کیے جانے والے طلبہ کو رہا کردیا جائے، ورنہ احتجاج کا سلسلہ پھر شروع ہوجائے گا۔

اس احتجاج میں تبت سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سونم ونگ چوک بھی شامل ہوئے، انھوں نے بھی 26 دن تک بھوک ہڑتال کی۔ پولیس نے ایک مختصر آپریشن کے ذریعے سونم ونگ چوک کو اغواء کرکے اسپتال میں داخل کیا تھا اور انھیں زبردستی دوائیاں کھلانے کی کوشش کی تھی مگر سونم نے اس دباؤ کوقبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ طلبہ کے اس احتجاج میں عام طالب علم بھی شامل ہوگئے تھے۔

عظیم انقلابی شاعر کیفی اعظمی کی صاحبزادی اور معروف دانشور جاوید اختر کی اہلیہ اور آرٹ فلموں کی ہیروئن شبانہ اعظمی بھی طلبہ کے اس احتجاج میں شریک ہوئیں۔ ان کے علاوہ ایک اور عظیم اداکار نصیرالدین شاہ نے سوشل میڈیا پر طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ اس تحریک کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ کمیونسٹ پارٹیوں کی ذیلی تنظیموں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کارکنوں اور رہنماؤں نے اس تحریک کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

جب سے جنتر منتر میں طلبہ نے بھوک ہڑتال شروع کی تو نوجوان طالبہ کامریڈ نیہا بورا کا مضبوط کردار ابھر کر سامنے آیا۔ نیہا بورا ہندوستان کی نئی نسل کی نمایاں طلبہ رہنماؤں میں شمار ہوتی ہیں، وہ جواہر لعل یونیورسٹی میں Ph.D کی طالبہ ہیں اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی مرکزی صدر ہیں۔ یہ ایسوسی ایشن کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسٹ کا طلبہ ونگ ہے۔ نیہا کا تعلق بھارت کی ریاست اتراکھنڈ سے ہے۔ وہ تھیٹر اور پرفارمنس اسٹڈیز سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے بی اے اور امیڈکر یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے رہنما سجاد ظہیر سولنگی نے اپنی وال پر نیہا بورا کے بارے میں لکھا ہے کہ نیہا بورا کا پس منظر ہندوستان کی بائیں بازو کی طلبہ سیاست سے جڑا ہوا ہے۔

وہ انقلابی ،سیاسی و نظریاتی دھارے میں سرگرم رہی ہیں۔ نیہا بورا کے ایجنڈے میں طلبہ کے حقوق، ہر فرد کو مساوی تعلیم کا حق، سماجی انصاف اور جمہوری آزادیوں جیسے موضوعات شامل ہیں۔ کامریڈ سجاد ظہیر نے مزید لکھا ہے کہ وہ محض یونیورسٹی کیمپس تک محدود نہیں رہیں بلکہ تعلیم، امتحانی نظام اور ڈگری کے حصول تک فعال ہیں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق سوالات کو عوامی بحث کا حصہ بنانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ ان کا واضح موقف رہا ہے کہ سماجی مساوات اور مواقعے کی منصفانہ تقسیم سے نوجوانوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے اور اسی بناء پر طبقاتی نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی اس تحریک میں بھارت میں مختلف کمیونسٹ پارٹی کے طلبہ ونگ نے اہم کردار ادا کیا۔

کمیونسٹ پارٹی سے منسلک طلبہ کی سب سے قدیم تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن 12 اگست، 1936ء کو لکھنو میں قائم ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بیرسٹر محمد علی جناح اس تنظیم کے قیام کی افتتاحی تقریب کے صدر تھے اور پنڈت جواہر لعل نہرو اس تقریب میں مہمان خصوصی تھے۔ اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں سیکولرازم، جمہوریت اور وطن پرستی اور سامراج کے خلاف جدوجہد کو شامل کیا گیا تھا۔ یہ تنظیم کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے منسلک ہے۔ اس تنظیم نے اپنے قیام کے بعد سے آزادی، امن اور ترقی کے نعروں کی ترویج کی ہے۔ اس AISF کے قومی صدر ویراج ڈیونگ جب کہ سیکریٹری جنرل دنیش سری رنگاراج ہیں۔ اس تنظیم کے کارکنوں نے ہندوستان کی آزادی کے پیغام کو نوجوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب 1937ء میں برطانوی ہند حکومت نے بنگال اور مدراس میں آزادی کا مطالبہ کرنے والے لوگوں پر بیہمانہ تشدد کیا تو اس طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے بنگال اور مدراس کے حریت پسندوں سے یکجہتی کے لیے ایک طویل بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ جب 1942ء میں کانگریس نے ’’ہندوستان چھوڑدو تحریک ‘‘ شروع کی تو طلبہ اس تحریک میں شامل رہے۔

انگریز حکومت نے بہت سے طلبہ کو گرفتار کیا اور کچھ کو یونیورسٹیوں سے نکال دیا گیا۔ بھارت کی آزادی کے بعد اس تنظیم نے ’’تعلیم حق ہے نا کہ رعایت‘‘ کے سماجی انصاف اور سیکولرازم کے لیے طویل جدوجہد کی۔ جب عظیم شاعر مخدوم محی الدین نے تلنگانہ میں کسانوں کو منظم کرکے جاگیرداروں کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی تھی تو AISF کے کئی رضاکار اس تحریک کا حصہ بنے تھے۔ میڈیکل کالجوں کے داخلہ کے امتحانات کے پرچے افشاء ہونے کے بعد وزیر تعلیم کے استعفیٰ کی مہم میں AISF کے کارکنوں نے بھرپور حصہ لیا۔ اس تحریک میں ایک اور تنظیم کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) کی ذیلی تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) کے کارکنوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔

SFI کا قیام 30 دسمبر 1970ء کو ہوا۔ اس تنظیم کا بنیادی نعرہ ’’آزادی، جمہوریت اور سوشلزم‘‘ ہے۔ یہ تنظیم مفت جمہوری عوامی تعلیمی نظام کے قیام کے لیے نوجوانوں میں آگاہی کا کام کرتی ہے تاکہ ہر فرد کو تعلیم تک رسائی حاصل ہو اور منصفانہ اور استحصال سے پاک سماجی انصاف میسر آئے۔ ایس ایف آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت کے لاکھوں طالب علم اس تنظیم سے منسلک ہیں۔ ایس ایف آئی نے بھارت کی مختلف ریاستوں کریالہ، تری پورا، ہماچل پردیش اور مغربی بنگال کے تعلیمی اداروں کی طلبہ یونینوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس تنظیم نے نیشنل ٹیسٹنگ سروس میں خامیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف مختلف ریاستوں میں مہم چلائی اور یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس آف انڈیا جو طلبہ تنظیموں کا متحدہ محاذ ہے اس محاذ کے تحت مختلف ریاستوں میں احتجاجی پرچوں کے آؤٹ ہونے کے خلاف تحریک منظم کی۔

ان تحریکوں میں شریک طلبہ پھر جنتر منتر پر جمع ہوئے اور ایک انتہائی کامیاب تحریک چلائی گئی۔ SFI برطانیہ میں قائم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا سے منسلک ہے۔ جب طلبہ دہلی میں بھوک ہڑتال کررہے تھے تو اس تنظیم کے ہمدردوں نے برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھارتی ہائی کمشنر کے دفاتر کے سامنے مظاہرے کیے۔ اسی طرح اس مہم میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) نے بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ ایسوسی ایشن 9 اگست، 1990ء کو قائم ہوئی۔ یہ تنظیم ایک اور کمیونسٹ پارٹی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) لبریشن سے منسلک ہے۔ یہ تنظیم بھارتی مختلف ریاستوں دہلی، بہار، اتر پردیش، اتر کھنڈہ، مغربی بنگال اور آسام میں خاصی سرگرمِ عمل ہے۔

 اگرچہ امتحانی بدعنوانیوں کے خاتمے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم سے بھوک ہڑتال کی مہم چلائی گئی مگر اس مہم کو منظم کرنے میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ نیہا بورا اس تحریک میں اپنی تقاریر اور نعروں کی بناء پر ابھر کر سامنے آئیں۔ اس پوری تحریک میں عظیم شاعر فیض احمد فیض، حبیب جالب، ساحر اور مجاز کی نظموں نے انقلابی ماحول پیدا کیے رکھا اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے کارکن انقلابی نعرے لگاتے رہے، یوں یہ ایک ایسی سیکولر تحریک بن گئی جس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ، سوشل ایکٹیوسٹ، سیاست دان، فنکار اور سیاسی کارکن شریک تھے۔ کچھ طلبہ جو اس تحریک میں شریک ہوئے، انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے والدین نے مودی کی جماعت کو ووٹ دیا تھا، اب ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی ہے۔ اس تحریک میں شریک ایک طالبہ نے ایک صحافی سے کہا کہ’’ بھگت سنگھ ان کے ہیرو ہیں اور وہ آج بھی بھگت سنگھ کی زندگی کے بارے میں کتاب پڑھ رہی ہیں۔‘‘ اس تحریک میں جو سب سے مقبول نعرہ تھا وہ محمد حسن بسمل کی نظم کے یہ اشعار تھے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے