کراچی کی 5 ڈسپنسریز کی 24 گھنٹے فعال اسپتالوں میں تبدیلی، پہلے منصوبے کا سنگ بنیاد

یہ اسپتال 30 بستروں پر مشتمل ہوگا ، جہاں صحت کی بنیادی سہولیات موجود ہوں گی، وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال


ویب ڈیسک August 01, 2026

کراچی:

شہر قائد کی 5  ڈسپنسریوں  کو 24 گھنٹے فعال اسپتالوں میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں پہلے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جیکب لائن میں گورنمنٹ ڈسپنسری کی توسیع  کے منصوبے کے حوالے سے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے گورنمنٹ ڈسپنسری کے توسیعی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت  کی۔

انہوں نے فیڈرل کمیونٹی ہیلتھ اینڈ پریونشن سروس سینٹر منصوبے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کراچی کے ہیلتھ سیکٹر کے حوالے سے بڑا دن ہے ۔  یہ ڈسپنسری صبح 8 سے 2 بجے تک کم سہولیات کے لیے کھلی ہوتی ہے اور آج یہ ڈسپنسری جدید اسپتال میں تبدیل ہونے  جارہی ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ یہ اسپتال 30 بستروں پر مشتمل ہوگا ، جہاں صحت کی بنیادی سہولیات موجود ہوں گی۔ ہم گزشتہ کئی ماہ سے ڈسپنسریوں کو جدید اسپتالوں میں تبدیل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سول ڈسپنسری، ائیرپورٹ ، گاڑدن سمیت کئی صحت مراکز بند پڑے تھے، تاہم اب یہ تمام ڈسپنسریاں جدید اسپتالوں میں تبدیل ہونے جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 3 ماہ بعد یہ ڈسپنسری 24 گھنٹے فعال اسپتال میں تبدیل جائے گی۔ کراچی میں 2 ارب 86 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے ہیں ۔ کراچی کی  5 ڈسپنسری کو 30 بستروں پر مشتمل اسپتال میں تبدیل کر رہے ہیں ۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اسپتال بنانے کا اختیار اور پیسہ منتقل ہوگیا ہے۔ وفاقی حکومت کی ڈسپنسری پر ہم پیسہ لگا کر اسپتال میں تبدیل کر رہے ہیں ۔ ایک سال قبل یہ ڈسپنسری غیر فعال تھی۔ کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی ڈسپنسریوں کو فعال کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ میں کراچی کے لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں، میرے پاس اختیار نہیں ہیں کہ میں کورنگی ، لیاقت آباد سمیت دیگر گنجان آباد علاقوں میں بھی یہ کام کروں۔ یہ اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہے۔

مصطفی کما ل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں  سیوریج کا ایک قطرہ پانی بھی ٹریٹ ہو کر ڈسچارج نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق 68 فیصد بیماریاں  آلودہ پانی کی وجہ سے ہیں۔ آج 55 فیصد پاکستانیوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ آج  عوام بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق سے صوبوں کو  7 ہزار 800 رب روپے ملے ہیں۔  یہاں لوگوں کی دہلیز پر وسائل مہیا نہیں ہورہے۔ بدانتظامی کی وجہ سے لوگ ریاست کے خلاف کھڑے ہورہے ہیں۔