کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کے طلبہ نے عمارتوں کے اندر راستہ بتانے والی ایپلیکیشن تیار کرکے جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کی مثال قائم کردی۔
آگمینٹڈ ریئلٹی پر مبنی یہ ایپ صارف کو عمارت کے اندر مطلوبہ مقام منتخب کرنے کے بعد مرحلہ وار رہنمائی کرتے ہوئے متعلقہ دفتر یا کمرے کے دروازے تک پہنچاتی ہے۔ آف لائن میپنگ سسٹم کے ذریعے انٹرنیٹ یا جی پی ایس کے بغیر مختصر ترین راستہ فراہم کرتی ہے۔ اگر صارف غلط سمت اختیار کر لے تو ایپ فوری طور پر نیا راستہ بھی تجویز کر دیتی ہے۔
آفصیلات کے مطابق کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ میں سالانہ ٹیکنالوجی ایونٹ "ٹیک نوا" منعقد کیا گیا جس میں 35 سے زائد جامعات کے طلبہ نے حصہ لیا اور 45 پروجیکٹس پیش کیے، طلباو طالبات نے نئے آئیڈیاز کے تبادلے کے ذریعے ایک دوسرے سے سیکھا۔ انفارمیشن سسٹمز کے تحت منعقدہ ایونٹ کا مقصد نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور عملی مہارتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنا تھا۔
نمائش ایئر پروجیکٹس میں طلبہ کے جدید اور مسئلہ حل کرنے والے منصوبوں نے شرکاء کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ نمائش میں پیش کیے گئے نمایاں منصوبوں میں "پاتھ ورس اے آر بھی شامل تھاجسے طلبہ نے یونیورسٹی کی عمارتوں کے اندر آسان اور مؤثر رہنمائی کے لیے تیار کیا۔
اس حوالے سے گروپ کے وائس پریزیڈنٹ محمد انس نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا عمارتوں کے اندر جی پی ایس سگنلز مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتےجس کے باعث نئے طلبہ اور وزیٹرز کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اس مسئلے کے حل کے لیے تیار کی گئی یہ موبائل ایپ آگمینٹڈ ریئلٹی کی مدد سے صارف کو عمارت کے اندر مرحلہ وار راستہ دکھاتی ہے جبکہ وائس گائیڈنس کے ذریعے بغیر بار بار موبائل دیکھے منزل تک پہنچنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔
آف لائن میپنگ سسٹم کے ذریعے انٹرنیٹ یا جی پی ایس کے بغیر مختصر ترین راستہ فراہم کرتی ہے جس سے نیویگیشن آسان ہو جاتی ہے ایپ عمارت میں موجود تمام ڈیپارٹمنٹس، دفاتر اور مختلف مقامات کی معلومات فراہم کرتی ہے تاکہ صارف اپنی مطلوبہ جگہ کا انتخاب کر سکے۔اے آر ٹیکنالوجی کی مدد سے ایپ صارف کو مرحلہ وار رہنمائی کرتے ہوئے براہِ راست متعلقہ دروازے تک لے جاتی ہے۔
اگر صارف راستہ بھول جائے یا غلط سمت اختیار کرے تو ایپ فوری طور پر نیا راستہ تجویز کرتی ہے۔طلبہ کے مطابق مستقبل میں اس منصوبے کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کا ارادہ ہے تاکہ اسے صرف جامعات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہسپتالوں، شاپنگ مالز، سرکاری دفاتر اور دیگر بڑی عمارتوں میں بھی استعمال کیا جا سکے۔
ایونٹ ڈائریکٹر خالد محبوب نے مصنوعی ذہانت اور اس سے متعلقہ ٹیکنالوجی میں ترقی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور یہ بتایا کہ ان جدید رجحانات سے کس طرح تعلیم اور صنعت دونوں مستفید ہو سکتے ہیں۔