اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پیٹ مکمل بھرا ہونے کے باوجود جیسے ہی سامنے پکوڑے، سموسے، فرنچ فرائز یا فرائیڈ چکن آ جائے تو انہیں کھانے کی خواہش جاگ اٹھتی ہے۔ بیشتر لوگ اسے صرف ذائقے کی محبت یا اپنی کمزور قوتِ ارادی سمجھتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیفیت کے پیچھے دماغ، ذائقے اور انسانی عادتوں کا ایک پیچیدہ تعلق موجود ہے۔
سائنسی تحقیقات کے مطابق تلی ہوئی غذا کی کشش صرف اس کے ذائقے تک محدود نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق جب کسی خوراک کو تیل میں تلایا جاتا ہے تو اس کی ساخت، خوشبو اور ذائقہ نمایاں طور پر بدل جاتے ہیں۔ برازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پالو کی تحقیق کے مطابق تلنے کے عمل کے دوران خوراک میں موجود پانی کم ہو جاتا ہے، جس سے اس کی بیرونی سطح خستہ اور کراری ہو جاتی ہے، جبکہ پروٹین اور نشاستے میں بھی تبدیلی آتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس دوران ایک کیمیائی عمل، جسے ’’میلارڈ ری ایکشن‘‘ کہا جاتا ہے، وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یہی عمل کھانے کو سنہرا رنگ، دلکش خوشبو اور منفرد ذائقہ دیتا ہے، جس کے باعث تلی ہوئی غذائیں ابلی یا سادہ پکائی گئی خوراک کے مقابلے میں زیادہ پرکشش محسوس ہوتی ہیں۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے میں دماغ کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ نیچر ریویوز نیوروسائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جب انسان اپنی پسندیدہ غذا کھاتا ہے تو دماغ میں ڈوپامین سے متعلق نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ڈوپامین کو خوشی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن سائنس دانوں کے مطابق اس کا اصل کام خوشگوار تجربات کو یاد رکھنا اور مستقبل میں دوبارہ ان کی طرف مائل کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھوک نہ ہونے کے باوجود صرف خوشبو یا منظر دیکھ کر بھی تلی ہوئی چیزیں کھانے کا دل چاہنے لگتا ہے۔
ماہرین اس تاثر کو بھی درست نہیں سمجھتے کہ ایسی خواہش لازماً جسم میں کسی غذائی جز کی کمی کی علامت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر صورتوں میں یہ رجحان روزمرہ کی عادتوں، ماحول، کھانے کی خوشبو، جذباتی کیفیت اور ماضی کے خوشگوار تجربات سے جڑا ہوتا ہے۔
دوسری جانب صحت کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ کبھی کبھار تلی ہوئی غذائیں کھانا معمول کی بات ہے، لیکن انہیں روزمرہ خوراک کا حصہ بنا لینا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک طویل المدتی تحقیق، جس میں ایک لاکھ دس ہزار سے زائد بالغ افراد کا بیس سال سے زیادہ عرصے تک جائزہ لیا گیا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جو لوگ ہفتے میں سات یا اس سے زیادہ مرتبہ تلی ہوئی غذائیں کھاتے تھے، ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل کی شریانوں کی بیماری کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔ محققین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ بڑھتا ہوا وزن، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کا غیر متوازن ہونا بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تلی ہوئی غذا کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے، بلکہ اعتدال اختیار کرنا زیادہ بہتر حکمت عملی ہے۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ کھانے کے اوقات نہ چھوڑے جائیں کیونکہ زیادہ بھوک ایسی خواہشات کو مزید بڑھا دیتی ہے، جبکہ کسی غذا پر مکمل پابندی بھی بعض اوقات اسی چیز کی طلب میں اضافہ کر دیتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق تلی ہوئی غذا کی مقبولیت دراصل خوشبو، ذائقے، کراری ساخت اور دماغ میں محفوظ خوشگوار یادوں کا مجموعہ ہے، یہی امتزاج انسان کو پیٹ بھر جانے کے باوجود بھی ایک اور نوالہ کھانے پر آمادہ کر دیتا ہے۔