خیبرپختونخوا میں گزشتہ 25 برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دو ہزار 396 پولیس افسران و اہلکار شہید ہوئے اور 2002کے بعد سب سے زائد شہادتیں 2025 میں 235 ریکارڈ کی گئیں، شہدا میں ایڈیشنل آئی جی پولیس، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی رینک کے افسران بھی شامل ہیں۔
سینٹرل پولیس آفس پشاور سے جاری اعدادوشمار کے مطابق 1970 سے 1999 تک پولیس کی 236 شہادتیں ہوئی تھیں تاہم 2007 کے بعد خطے میں شروع ہونے والی دہشت گردی کے باعث پولیس پر بم دھماکوں، حملوں اور ان کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا اور 2007میں 101پولیس اہلکار وں کو نشانہ بناکر شہید کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2008 میں یہ تعداد مزید بڑھ کر 172 اور2009 میں 210 تک پہنچ گئی تھیں اور 2010 میں 108 اور 2011 میں 154 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
اعدادوشمار کے مطابق 2012 میں 106، 2013 میں 135 اور 2014 میں 111 پولیس اہلکاردہشت گردی اور فائرنگ کے واقعات میں شہید ہوئے، اس کے بعدآنے والے برسوں میں بھی دہشت گردی اور بم دھماکوں کے واقعات رونما ہوتے رہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق 2022 میں ایک بار پھر پولیس کی ٹارگٹ کلنگ اور انہیں ہدف بنانے کا سلسلہ تیز ہوا اور 93 اہلکاروں کی جانیں لی گئیں، 2023 میں یہ تعداد مزید بڑھ کر 197 ہوگئی اور 2024 میں 169پولیس اہلکاروں کی شہادتیں ہوئیں جبکہ 2025 میں شہادتوں کی تعداد سب سے زایدہ 235 تک پہنچی۔
اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ رواں سال کے پہلے 7 مہینوں میں اب تک 150 اہلکاروں کو شہید کیا جا چکا ہے۔
دہشت گردوں کے حملوں میں اب تک دو ایڈیشنل آئی جی پیز، 2 ڈی آئی جیز، ایک ایس ایس پی، 6 ایس پیز، 21 ڈی ایس پیز اور 51 انسپکٹرز سطح کے افسران بھی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں، سب سے زیادہ ایک زہار 649 کانسٹیبلز شہید ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ اگست میں صوبہ بھر میں یوم شہدائے پولیس بھی منایا جاتا ہے اور اس ضمن میں مرکزی تقریب پشاور میں منعقد کی جائے گی۔