وہ لوگ جو کبھی مدد دیتے تھے ،آج خود خاموشی سے مدد کے منتظر ہیں۔پاکستان میں مہنگائی اب صرف غربت کا مسئلہ نہیں رہی،یہ ایک خاموش سماجی تباہی بن چکی ہے، جو آہستہ آہستہ مڈل کلاس کے وجود کو نگل رہی ہے۔
وہ مڈل کلاس،جو کبھی اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی،جو ٹیکس دیتی تھی، بچوں کو اچھی تعلیم دلاتی تھی، سفید کپڑے پہن کر عزت سے جیتی تھی اور دوسروں کی مدد کرنے میں فخر محسوس کرتی تھی۔
آج وہی طبقہ بجلی کے بل ہاتھ میں پکڑے خاموش بیٹھا ہے۔وہی باپ رات کو چھت پر جا کر حساب لگا رہا ہے کہ
’’اس مہینے بچوں کی فیس دوں یا دوا خریدوں؟‘‘
یہ صرف معاشی بحران نہیں…
یہ عزتِ نفس کے ٹوٹنے کی کہانی ہے۔
سفید پوش غربت… جو نظر نہیں آتی
پاکستان میں غربت ہمیشہ سے موجود تھی، مگر اب ایک نئی غربت جنم لے رہی ہے۔
’’سفید پوش غربت‘‘
وہ غربت جو سڑکوں پر نہیں مانگتی،مگر اندر ہی اندر انسان کو توڑ دیتی ہے۔
ایک سرکاری ملازم نے مجھ سے کہا۔’’پہلے تنخواہ ختم ہونے سے پہلے مہینہ ختم ہو جاتا تھا… اب تنخواہ آنے سے پہلے ہی خرچ تقسیم ہو جاتا ہے۔‘‘
یہ جملہ صرف ایک شخص کا نہیں…لاکھوں پاکستانیوں کی اجتماعی آہ ہے۔
بجلی کے بل یا خوف نامہ؟
کبھی گھروں میں بجلی روشنی لاتی تھی،آج بل اندھیرا لے کر آتے ہیں۔ہزاروں روپے کے بل اب معمول بن چکے ہیں۔لوگ پنکھے بند کر کے بیٹھے ہیں،اے سی خواب بن چکا ہے،اور فریج کھولتے وقت بھی دل دھڑکتا ہے۔
ایک ماں نے افسردگی سے کہا۔’’اب بچے گرمی سے نہیں روتے… بجلی جانے پر روتے ہیں۔‘‘
یہ وہ ملک ہے جہاں ایک عام آدمی اپنی بنیادی سہولتوں سے بھی خوفزدہ ہو چکا ہے۔
پٹرول مہنگا… زندگی سستی
پٹرول کی قیمتوں نے صرف گاڑیاں نہیں روکی،لوگوں کی زندگی روک دی ہے۔ دفاتر جانے والے ملازمین اب راستے ناپتے ہیں، والدین بچوں کی کوچنگ بند کروا رہے ہیںاور کئی لوگ صرف آنے جانے کے خرچ سے بچنے کے لیے نوکریاں چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف ٹرانسپورٹ پر نہیں بلکہ کھانے، تعلیم، علاج اور روزمرہ زندگی کی ہر چیز پر پڑتا ہے۔
یعنی مہنگائی صرف بازار میں نہیں بڑھتی، یہ انسان کے اعصاب پر بھی بڑھتی ہے۔
تعلیم… جو اب خواب بنتی جا رہی ہے ،کبھی مڈل کلاس کی سب سے بڑی طاقت تعلیم تھی،آج وہی تعلیم سب سے بڑا بوجھ بنتی جا رہی ہے۔اسکول فیس، کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ…ہر چیز ایک عام والدین کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
ایک باپ نے اپنی بیٹی کا اسکول چھوڑتے ہوئے کہا۔’’بیٹا… پڑھائی چھوڑنا مت، بس اسکول چھوڑ رہے ہیں۔‘‘
یہ جملہ کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔لوگ اب جائیداد نہیں… یادیں بیچ رہے ہیں۔
پاکستان میں ہزاروں خاندان اپنے زیورات، گاڑیاں، پلاٹس، یہاں تک کہ گھر کا سامان تک فروخت کر رہے ہیں۔
وہ چیزیں جو کبھی’’ محفوظ مستقبل‘‘سمجھی جاتی تھیں،آج’’بچ جانے ‘‘کا ذریعہ بن چکی ہیں۔
لوگ سرمایہ نہیں بیچ رہے…اپنا سکون بیچ رہے ہیں۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟اصل مسئلہ صرف مہنگائی نہیں۔اصل مسئلہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔
ضروریات،قیمتوںمیںاضافہ،بجلی،مسلسل اضافہ،پٹرول،ریکارڈ سطح ،اسکول فیس،سالانہ کئی گنا اضافہ ،اشیائے خوردونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر کسی ملک میں مڈل کلاس کمزور ہو جائے تو معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔
بہت امیر… اور بہت مجبور۔
اور یہی کسی بھی معیشت کے لیے سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
قرآن کیا کہتا ہے؟
اسلام صرف عبادات کا دین نہیں، انصاف اور توازن کا دین بھی ہے۔
قرآن میں ارشاد ہے۔’’اور ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا‘‘(سورۃ البقرہ: 143)
لیکن جب معاشرے میں توازن ختم ہو جائے،جب ایک طبقہ عیاشی کرے اور دوسرا بنیادی ضروریات کے لیے ترسے…تو وہاں صرف معیشت نہیں، انسانیت بھی بیمار ہو جاتی ہے۔
خاموش لوگ… سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے لوگ سب سے زیادہ خطرناک وہ غربت ہوتی ہے جو شور نہیں کرتی۔
وہ لوگ جو کبھی دوسروں کی مدد کرتے تھے،آج خود خاموشی سے مدد کے منتظر ہیں۔
وہ سفید پوش طبقہ جو کبھی خاندان کا سہارا تھا،آج خود نفسیاتی دباؤ، بے بسی اور خاموش ڈپریشن کا شکار ہے۔
لیکن ان کے چہرے اب بھی مسکرا رہے ہیں،کیونکہ ہمارے معاشرے میں مرد روتے نہیں،اور سفید پوش لوگ مانگتے نہیں۔
ایک آخری سوال
اگر ایک استاد، ایک کلرک، ایک صحافی، ایک سرکاری ملازم، ایک ریٹائرڈ باپ اور ایک محنت کش ماں بھی عزت سے نہ جی سکے۔
تو آخر ترقی کس چیز کا نام ہے؟کیونکہ قومیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں…قومیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب ان کا مڈل کلاس محفوظ ہو۔
اور اگر یہی طبقہ ٹوٹ گیا،تو شاید معیشت سے پہلے معاشرہ بکھر جائے گا۔