داخلی و معاشی مشکلات

برصغیر سمیت دنیا کے کئی خطوں سے دولت کا رخ لندن کی جانب تھا


سہیل یعقوب August 01, 2026
sohailyaqoob

جب لوگ دنیا فتح یا مسخر کرنے نکلتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے گھر کو محفوظ، مضبوط اور مستحکم بناتے ہیں۔ یہی اصول افراد پر بھی صادق آتا ہے اور ریاستوں پر بھی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو قومیں اپنے داخلی معاملات کو نظرانداز کرکے صرف خارجی محاذوں پر اپنی توانائیاں صرف کرتی ہیں، انھیں ایک نہ ایک دن اپنی خارجی فتوحات ادھوری چھوڑ کر داخلی محاذ پر واپس آنا پڑتا ہے۔

حکمران تاریخ کی اسی غلطی کو دہراتے رہے ہیں اور اس سے سبق سیکھ کر ایک متوازن راستہ اختیار کرنے سے گریزاں رہے ؟ یہی ہمارے کالم کا موضوع ہے۔

پہلی جنگ عظیم تک، بلکہ اس کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک، امریکا نے اپنی توجہ بنیادی طور پر داخلی استحکام، معاشی ترقی، صنعتی بنیادوں اور ادارہ سازی پر مرکوز رکھی۔ جب اس نے اپنے گھر کو مضبوط کر لیا تو عالمی سیاست، معیشت اور عسکری میدان میں قدم رکھا اور پھر دنیا کی سب سے بااثر طاقت بن گیا۔

عالمی اثرورسوخ حاصل کرنے کے باوجود اس نے اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو کبھی مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا، کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ مضبوط ریاست کی بنیاد خوشحال عوام ہوتی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں برطانیہ نے اپنی کالونیوں کے وسائل کو اپنی ترقی کے لیے استعمال کیا۔

برصغیر سمیت دنیا کے کئی خطوں سے دولت کا رخ لندن کی جانب تھا، جس کے نتیجے میں برطانیہ کی صنعت، تجارت اور معیشت مضبوط ہوئی۔ آج نوآبادیاتی نظام تو ختم ہو چکا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے جیسے کئی ممالک میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، کمزور حکمرانی اور ناقص ترجیحات آج بھی عوام کو خوشحالی سے دور رکھے ہوئے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس کی ذمے دار کوئی بیرونی طاقت نہیں، بلکہ اکثر ہمارے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔آج کل عوامی سطح پر ایک جملہ بہت عام ہے کہ ’’پورا ملک بجلی اور پٹرولیم کی مصنوعات پر چل رہا ہے‘‘ بظاہر یہ ایک سادہ سا جملہ ہے، لیکن اس کے پس منظر میں عوام کی بے بسی چھپی ہوئی ہے۔

شاید ملک کسی نہ کسی طرح چل رہا ہو، مگر عام آدمی ضرور لڑکھڑا رہا ہے اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب عوام لڑکھڑاتے ہیں تو وہ اکیلے نہیں گرتے، اس کے ساتھ معیشت، ادارے، اعتماد اور بالآخر پورا نظام بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل مجھے ایک سماجی تنظیم میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ایک اجلاس میں ہمارے صدر نے سوال کیا۔ ’’اس تنظیم میں سب سے اہم شخصیت کون ہے؟‘‘ تقریباً تمام شرکاء نے ان ہی کا نام لیا، مگر انھوں نے مسکراتے ہوئے اس جواب کو غلط قرار دیا اور کہا’’اس تنظیم میں سب سے اہم فرد وہ عام کارکن ہے جس کے اعتماد اور ووٹ سے میں اس منصب تک پہنچا ہوں۔ جس دن اس کارکن کا اعتماد ختم ہو گیا، اسی دن میری صدارت بھی ختم ہو جائے گی۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ اگر دیگر تنظیموں کے لوگ میرے عہدے کا احترام کرتے ہیں تو دراصل وہ ہماری اس تنظیم اور اس کے کارکنوں کا احترام کرتے ہیں۔ میری اولین ذمے داری یہ ہے کہ میں اپنے کارکنوں کو ایسا ماحول، ایسے وسائل اور ایسی قیادت فراہم کروں کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ عوام کی خدمت کر سکیں۔

اگر اس مثال کو تنظیم کی حدود سے نکال کر ریاست پر منطبق کیا جائے تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ اس مثال میں تنظیم پاکستان ہے، قیادت حکومت ہے، جب کہ عام کارکن پاکستان کا عام شہری ہے، اگر یہی شہری پریشان، غیر محفوظ اور معاشی دباؤ کا شکار ہو تو ریاست کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔

پاکستان کی خارجی کامیابیوں پر خوش ہونے والوں میں یقیناً ہم سب شامل ہیں۔ ایک طویل عرصے تک ہم نے سفارتی تنہائی، عالمی دباؤ اور اپنے ہمسایہ ملک کی مسلسل دھمکیوں کا سامنا کیا۔ مختلف مواقع پر پاکستان نے اپنے مفادات کا بھرپور دفاع کیا، لیکن عالمی ماحول ہمیشہ ہمارے حق میں نہیں تھا۔

آج حالات کئی حوالوں سے مختلف ہیں۔ پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور عالمی منظرنامے میں اس کی بات پہلے سے زیادہ توجہ حاصل کر رہی ہے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے جس پر پوری قوم کو خوش ہونا چاہیے۔

یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ کیا کامیابیاں اس وقت تک مکمل کہی جاسکتی ہیں جب ان کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچیں؟ میری رائے میں جواب نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی کمزوریوں سے زیادہ ٹوٹیں۔ رومی سلطنت ہو یا مغل سلطنت، ان کے زوال کی بنیادیں پہلے اندر سے کمزور ہوئیں، پھر بیرونی طاقتیں غالب آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید بھی ایک آفاقی اصول بیان کرتا ہے۔

’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔‘‘ (سورۃ الرعد: 11) یہ صرف ایک مذہبی نصیحت نہیں بلکہ ریاستوں کے عروج و زوال کا ایک دائمی اصول بھی ہے۔

آج ہمارے عوام مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کی بلند قیمتوں، ٹیکسوں کے بوجھ، ناقص بنیادی سہولیات اور ٹوٹے ہوئے انفراسٹرکچر جیسے مسائل سے روزانہ نبرد آزما ہیں۔ بعض اوقات یہی مسلسل معاشی دباؤ لوگوں کو اس نہج پر لے جاتا ہے جہاں انھیں اپنی زندگی بھی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ کسی بھی ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

خارجی محاذ پر فتوحات یقیناً باعثِ فخر ہیں، لیکن کسی بھی ریاست کی اصل کامیابی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں۔ اگر عوام خوشحال نہ ہوں تو سفارتی کامیابیاں اور عسکری فتوحات بھی ان کے لیے صرف خبروں کی سرخیاں بن کر رہ جاتی ہیں۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی ترجیحات میں عام آدمی کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ کپیسیٹی چارجز جیسے مسائل پر سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفاف اور منصفانہ نظام اختیار کیا جائے، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و مرمت کو حقیقی ترجیح بنایا جائے، اور جس طرح ریاست اپنے واجبات وصول کرنے کے لیے جدید ترین ذرائع استعمال کرتی ہے، اسی طرح بنیادی سہولیات بھی عوام کی دہلیز تک پہنچائے۔

ہماری حکومت اگر عالمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ صرف ایک مرتبہ اپنے ہی عوام کی فلاح کو اولین ترجیح بنا لے تو یہی عوام اسے وہ عزت، اعتماد اور استحکام عطا کرے گی جو کسی بھی ریاست کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔

آخر میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ریاست کا اصل سرمایہ نہ اس کی بلند و بالا عمارتیں ہیں، نہ شاہراہیں، نہ بڑے منصوبے اور نہ ہی جدید ہتھیار۔ ریاست کا اصل سرمایہ اس کا مطمئن، باوقار، پُرامن اور پُرامید شہری ہوتا ہے۔

خارجی فتوحات تاریخ کے صفحات پر لکھی جاتی ہیں، لیکن داخلی انصاف، معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی قوموں کے دلوں میں لکھی جاتی ہے۔ ’’ریاستیں صرف سرحدوں کی حفاظت سے مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے شہریوں کے اعتماد، انصاف اور خوشحالی سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جو قوم اپنے لوگوں کو جیت لیتی ہے، دنیا خود اس کے احترام میں کھڑی ہو جاتی ہے۔‘‘