ساری دنیا جانتی ہے کہ کراچی پاکستان کی معیشت کی دھڑکن، صنعت و تجارت کا مرکز اور کروڑوں انسانوں کی امیدوں کا مسکن ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس کی بندرگاہیں ملکی تجارت کا بڑا حصہ سنبھالتی ہیں، جہاں ہزاروں کارخانے روزگار پیدا کرتے ہیں اور جہاں ملک کے ہر حصے سے لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں آتے ہیں، مگر افسوس کہ یہی شہر آج بنیادی شہری سہولتوں کی شدید کمی، تباہ حال انفرا اسٹرکچر اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے بحرانوں کا شکار ہے۔
کراچی کی سڑکیں، جو کسی بھی ترقی یافتہ شہر کی شہ رگ سمجھی جاتی تھیں، آج جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ، گہرے گڑھوں اور ناقص مرمت کی علامت بن چکی ہیں۔ شہری روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں، جب کہ بارش کے بعد متعدد شاہراہیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔
یہ مسئلہ شہری معیشت، ایندھن کے ضیاع، کاروباری سرگرمیوں اور عوام کی ذہنی و جسمانی صحت پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔کراچی کا انفراسٹرکچر آبادی کے غیر معمولی دباؤ کا بوجھ اٹھانے میں مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔
شہر کی سڑکوں پر روزانہ لاکھوں گاڑیاں چلتی ہیں، جب کہ شہری آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کے باوجود سڑکوں کی بروقت مرمت، نکاسی آب کے نظام کی بہتری،پلوں اور شاہراہوں کی دیکھ بھال اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں وہ رفتار دکھائی نہیں دیتی جس کی ضرورت ہے۔بارش کراچی کے لیے رحمت سے زیادہ آزمائش بن چکی ہے۔
چند گھنٹوں کی موسلا دھار بارش سے سڑکوں پر پانی بھر جانے سے گاڑیاں بند ہو جاتی ہیں، کاروبار معطل ہو جاتا ہے اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں شدید بارشوں نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا کہ نکاسی آب اور شہری انفراسٹرکچر کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے۔
شہر میں جگہ جگہ کھدی ہوئی سڑکیں، ادھورے ترقیاتی منصوبے، ٹوٹے ہوئے فٹ پاتھ، کھلے مین ہول، تجاوزات، ٹریفک کا بے ہنگم نظام اور ناقص شہری منصوبہ بندی عوام کے روزمرہ مسائل میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
بعض علاقوں میں ایک ہی سڑک کو مختلف ادارے بار بار کھودتے ہیں، لیکن کام مکمل ہونے کے بعد اس کو بند تک نہیںکیا جاتا، جس سے عوام کو طویل عرصے تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کراچی پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، مگر اس کے شہری انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری اس کی ضروریات کے مطابق نہیں ہو سکی۔
یہ شہر قومی خزانے میںسب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے بدلے میں شہریوں کو صاف سڑکیں، موثر ڈریننگ، محفوظ ٹریفک نظام،بنیادی پبلک ٹرانسپورٹ اور جدید شہری سہولتیں پوری طرح میسر نہیں آتیں۔سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر ظلم یہ ہے کہ انھیں مہنگے داموں پانی کے ٹینکر خرید نا پڑتے ہیں۔
یہ دنیا کا واحد شہر ہے جس میں ایک شہر کے اندر لوکل باڈی سسٹم میں 13مختلف ادارے کام کرتے ہیں جن کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے؟یہ حقیقت بھی تسلیم کرناہوگی کہ کراچی کے مسائل انھی کے پیدا کردہ ہیں۔
کئی دہائیوں پر محیط غیر مربوط منصوبہ بندی، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے مل کر اس بحران کو مزید پیچیدہ اور گھمبیربنا دیا ہے۔
اس لیے اس کا حل بھی وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ ایک جامع، مسلسل اور غیر سیاسی شہری حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کو پاکستان کی معاشی بقا کے مرکز کے طور پر دیکھا جائے۔
سڑکوں کی معیاری تعمیر، جدید ڈرینج سسٹم، مربوط ماسٹر پلان، پبلک ٹرانسپورٹ، شفاف ترقیاتی منصوبے، احتساب اور شہری اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہیں، اگر کراچی کو اس کا جائز حق اور منصوبہ بند ترقی نہ ملی تو اس کے اثرات صرف اس شہر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری قومی معیشت اس کی قیمت ادا کرے گی۔
کراچی آج بھی امکانات کا شہر ہے، مگر ان امکانات کو حقیقت بنانے کے لیے صرف وعدوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات، مستقل مزاجی اور قومی ترجیح کی ضرورت ہے، جب تک اس شہر کی ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بوسیدہ انفراسٹرکچر اور شہری مسائل حل نہیں ہوتے، تب تک روشنیوں کا یہ’’پیرس‘‘صرف اور صرف موہن جوڈارو کا نقشہ پیش کرتا رہے گا۔
یہ سوال برسوں سے کراچی کے ہر شہری کی زبان پر ہے کہ آخر اس شہر کی بدحالی کا ذمے دار کون ہے؟ اس کا جواب نہ تو آسان ہے اور نہ ہی یک رخی۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی موجودہ حالت کسی ایک حکومت، ایک ادارے یا ایک سیاسی جماعت کی پیدا کردہ نہیں، بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط ناقص منصوبہ بندی، سیاسی کشمکش، اختیارات کی تقسیم، کمزور انتظامی ڈھانچے اور پالیسیوں کے تسلسل کے فقدان کا نتیجہ ہے۔
گزشتہ کئی عشروں میں مختلف سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں کراچی کے معاملات میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ صوبائی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی طویل عرصے سے حکومت میں ہے، جب کہ ماضی میں بلدیاتی نظام کے تحت متحدہ قومی موومنٹ (MQM) نے شہر کا انتظام سنبھالا۔ وفاقی سطح پر مختلف اوقات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف (PTI) اور دیگر جماعتوں کی حکومتیں بھی برسرِ اقتدار رہیں۔
ان تمام ادوار میں بعض ترقیاتی منصوبے شروع ضرور ہوئے جو آج تک ادھورے ہیں۔ میرے نزدیک کراچی کے شہری یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر کیوں ہر نئی سڑک چند ماہ بعد دوبارہ کھود دی جاتی ہے؟ کیوں گلیوں، نالیوں کامسئلہ ہر بارش میں دوبارہ جنم لیتا ہے؟ افسوس یہ ہے کہ کراچی اکثر سیاسی بیانات اور وعدوں کا مرکز تو بنتا ہے، مگر مستقل اور ادارہ جاتی اصلاحات کا محور کم ہی بن پاتا ہے۔یہاں میں یہ ضرور واضح کردوں کہ ہر حکومت اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتی ہے اور ناکامیوں کا بوجھ سابق حکومتوں پر ڈال دیتی ہے۔ بقول انور مسعود ۔
بچے کے ہاتھ سے جو دہی گِر پڑا تھا کل
اس میں تمام پچھلی حکومت کا دخل ہے
میں یہ واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ کراچی کو الزام تراشی کی نہیں بلکہ جوابدہی، مربوط منصوبہ بندی اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے۔ شہریوں کا حق ہے کہ وہ ہر اس سیاسی جماعت اور منتخب نمائندے سے سوال کریں جس نے اقتدار میں رہتے ہوئے ترقی، جدید انفراسٹرکچر اور بہتر شہری زندگی کے وعدے کیے تھے۔کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، اگر اس شہر کو سیاسی و ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو نقصان صرف کراچی کا نہیں بلکہ پورے ملک کی معیشت اور مستقبل کا ہوگا۔ ارباب اختیار کی بے حسی پر جون ؔایلیا نے کہا تھا۔
میں بھی بہت عجیب ہوںاتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں