برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آرگینک اور فری رینج انڈوں کی پیداوار ماحول پر روایتی پنجروں میں پالے جانے والے مرغیوں کے انڈوں کے مقابلے میں زیادہ بوجھ ڈال سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر انڈوں کی تمام پیداوار مکمل طور پر آرگینک فری رینج نظام پر منتقل کر دی جائے تو کاربن اخراج میں تقریباً 60 فی صد اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ مرغیوں کے لیے درکار زمین بھی تقریباً دوگنی ہو جائے گی۔
محققین کے اندازوں کے مطابق صرف آرگینک فری رینج انڈوں کی پیداوار سے 23 لاکھ 16 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی گرین ہاؤس گیسز خارج ہوں گی جبکہ صرف پنجروں میں پالی جانے والی مرغیوں سے انڈوں کی پیداوار کی صورت میں یہ مقدار 11 لاکھ 84 ہزار ٹن کے قریب رہے گی۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ آرگینک اور فری رینج نظام جانوروں کی فلاح و بہبود کے لحاظ سے بہتر سمجھا جاتا ہے لیکن اسی مقدار میں انڈے حاصل کرنے کے لیے زیادہ مرغیاں درکار ہوتی ہیں کیونکہ پنجروں میں پالی جانے والی مرغیاں نسبتاً زیادہ مؤثر انداز میں انڈے دیتی ہیں۔
محققین نے خبردار کیا ہے کہ آرگینک فری رینج نظام زمین کے زیادہ استعمال اور آبی آلودگی کے حوالے سے بھی زیادہ اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
تحقیق کی مصنفہ ڈاکٹر ہیریئٹ بارٹلیٹ کا کہنا ہے کہ انڈوں کی پیداوار کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرتے وقت جانوروں کی فلاح، ماحولیاتی اثرات اور خوراک کی پیداوار، تینوں پہلوؤں کو ایک ساتھ مدنظر رکھنا ضروری ہے۔