اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دنیا کو عام مخلوق کے لیے جنت بنانے کے لیے کئی حساس دل اور انسان دوست لوگوں نے کوششیں کیں جن میں بہت کم لوگوں کو اس میں کامیابی نصیب ہوئی جن میں سندھ کے عظیم صوفی شاہ عنایت اللہ کا نام سر فہرست ہے جس نے ٹھٹہ اور اس کے بعد اپنے آبائی شہر جھوک شریف میں ایک ایسا کمیون قائم کیا جہاں کے تمام مکین ’’برابری‘‘ (اشتراکیت) کے مطابق زندگی گذارتے تھے اور یہ کمیون آٹھ سال تک کامیابی کے ساتھ کام کرتا رہا، جہاں کوئی ایک بھی شخص کبھی نہ بھوکا سویا اور نہ ہی غربت کی شکایت کی۔
کمیون کے تمام مکین (کسان اور محنت کش) جو ’’کھیڑے سو کھائے‘‘ کے اصول کے مطابق مل جل کر کھیتی باڑی کرتے تھے۔ شاہ عنایت کا نعرہ ’’الارض اللہ‘‘ یعنی زمین خدا کی ملکیت ہے تھا اور جو پیداوار اضافی ہوتی تھی وہ کمیون کے قائم کیے گئے۔
’’دائرے‘‘ میں رضاکارانہ طور پر جمع کراتے تھے اور کمی بیشی کی صورت میں ضرورت کے مطابق وہاں سے واپس حاصل بھی کرتے تھے۔ معروف مصنف اور مورخ جی ایم سید اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’پیغام لطیف‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ہر انتہا پسند صوفی (وحدت الوجودی) انارکسٹ ہوتا ہے وہ نہ تو ریاست اور نہ ہی حکومت کو مانتا ہے۔
شاہ عنایت شہید کے طرز عمل کو کھلی بغاوت تصور کیا گیا، وہ سندھ کے سماج میں ایک ایسا انقلاب لائے جو اس دور کے قابل قبول نظریات، دساتیر اور قوانین کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کافی تھا، ان پر ٹیکس نہ دینے کا الزام لگایا گیا۔
شاہ عنایت شہید کے چیف خلیفہ میر جان اللہ شاہ رضوی نے جب یہ کہہ کر روہڑی شہر کو الوداع کہا کہ ’’وہ خدا کی تلاش میں جا رہے ہیں‘‘ تو وہ سیہون شریف گئے مگر یہاں ان کی مراد پوری نہ ہوئی۔ مختلف بزرگان سے ملاقاتوں کے بعد جب وہ جھوک شریف پہنچے اور صوفی شاہ عنایت شہید سے ملے تو انھوں نے اعلانیہ کہا کہ’’ اسے وہ حاصل ہوگیا جس کی تلاش میں تھے۔‘‘
شاہ عنایت شہید نے میر جان اللہ شاہ رضوی کو جھوک کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی دیگر اکابرین کے ہمراہ اپنے علاقے میں جانے کی ہدایت کی اور وہ روہڑی چلے آئے جہاں باقی عمر شاہ عنایت کے پیغام کو عام کرنے میں گزاردی۔
جی ایم سید مزید لکھتے ہیں کہ ’’ شاہ عنایت شہید سندھ کے منصور ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ان کے پیغام کو از سر نو ظاہر کرکے ملک سے نفرت، تعصبات، کٹرپن، روایات کی غلط تشریح کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی جائے۔‘‘ ان کی تعلیم کا اصول وحدت انسانی کی شناخت تھا، جس میں مذاہب، رنگ، قومیں، نسل اور نظریوں کے نام پر کھڑی کی گئی نفاق کی دیواروں کو توڑ کر اتحاد انسانی پیدا کرنا تھا۔ جس کے متعلق ان ہی کے ایک طالب ممتاز شاعر فقیر قادر بخش بیدل نے کہا کہ ؎
حقیقت میں ایک ہوا سفید اور سیاہ
عشق نے مارا داؤ، ہر مظہر میں ایک ہے
صوفی شاہ عنایت کی یہ باتیں مقامی مذہبی رہنماؤں کے خلاف تھیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف سب سے پہلی مخالفت روایتی ملاؤں اور پیروں کی طرف سے ہوئی ۔ جی ایم سید مزید لکھتے ہیں کہ’’ شاہ عنایت نے تب جو کچھ کہا اس سے زیادہ تو آج کے سائنسی دور میں بھی نہیں کہا جا سکتا، وہ لاکوفیت (غیرجانبداری) اور رواداری کے جدید نظریات کے موجد تھے۔‘‘
سید سبط حسن لکھتے ہیں کہ شاہ عنایت شہید نے جب مشترکہ کاشتکاری کا مشورہ دیا تو ان کے فقیروں (کامریڈوں) نے یہ تجویز قبول کرلی۔ شاہ عنایت کا تجربہ کامیاب رہا اور جھوک میں رہنے والوں کو نہ تو بٹئی (آدھی پیداوار) دینی پڑتی تھی اور نہ ہی جبری مشقت کرنی پڑتی تھی۔
جس کی وجہ سے کسانوں نے دیگر زمینداروں سے بھی یہی تقاضا کیا تو زمینداروں اور جاگیرداروں نے شاہ عنایت کے خلاف ٹھٹہ کے مغل گورنر/صوبیدار کو شکایت کی۔ جس کی اجازت سے علاقے کے پیروں، ملاؤں اور جاگیرداروں نے جھوک پر پہلا حملہ کرکے شاہ عنایت کے 35 ساتھیوں کو قتل کیا تو شاہ عنایت نے متاثرہ فقیروں کو خط دے کر مغل بادشاہ فرخ سیر کے دربار میں انصاف کے لیے بھیجا جس کی وجہ سے حملہ آور زمینداروں کی زمینیں ضبط کرکے فقیروں کو دی گئیں۔
اس طرح جھوک کے کسانوں کو معاشی، اخلاقی اور سیاسی برتری حاصل ہوئی۔ سبط حسن مزید لکھتے ہیں کہ شاہ عنایت کی تحریک مزید علاقوں میں پھیلتی چلی گئی اور زمینداروں کے لیے کسانوں پر ہاتھ اٹھانا مشکل ہوگیا۔
تاہم نئے گورنر اعظم خان نے آتے ہی شاہ عنایت اور ان کے ساتھیوں کو تنگ کرنا شروع کیا۔ انھوں نے زمینداروں، وڈیروں، پیروں اور میروں کے اکسانے پر مغل بادشاہ کو تحریری شکایت کی کہ شاہ عنایت بغاوت پر آمادہ ہے۔ انھوں نے مغل بادشاہ سے شاہ عنایت اور اس کی کسان تحریک کی سرکوبی کی اجازت حاصل کرلی۔
شاہ عنایت صلح پسند بزرگ تھے اور وہ خون خرابہ نہیں چاہتے تھے، جب کہ جھوک کے کامریڈوں کے پاس اسلحہ بھی نہ تھا۔ شاہی لشکر 12 اکتوبر 1717ء کو جھوک شریف پر حملہ آور ہوا۔ شاہی فوج سے زیادہ خدایار خان (میاں یار محمد کلہوڑو) کی فوج بڑی تھی۔
یار محمد کلہوڑو نے جو خط اپنے بیٹے کو میدان جنگ سے لکھا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ جھوک کے کامریڈوں / فقیروں کی تعداد سترہ سو تھی جب کہ مغل حکمرانوں کی فوج بڑی تعداد میں تھی جو ساحلی پٹی سے لے کر ٹھٹہ شہر اور جھوک تک چیونٹیوں کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔
بارہ اکتوبر 1717ء سے سات جنوری 1718ء تک مسلسل چار ماہ تک گھمسان کی جنگ جاری رہی جس کے دوران شاہ عنایت کے کمانڈر قاسم پنہور نے گوریلہ جنگ کی حکمت عملی اختیار کی جو ان کی موت کے بعد ان کی جواں سال صاحبزادی کمانڈر صغریٰ پنہور نے جاری رکھی۔
گوریلا حملوں نے شاہی لشکر کے اوسان خطا کردیے اور جب چار ماہ تک جنگ کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو مایوس دشمن قرآن پاک سروں پر اٹھاکر جھوک کے قلعے کی طرف روانہ ہوئے۔ دشمن کو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر تھی کہ چار ماہ کے گھیراؤ اور مسلسل جنگ کے باوجود جھوک میں کھانے پینے کی اشیاء کی نہ تو قلت پیدا ہوئی اور نہ ہی کوئی ایک بھی مکین بھوک سے مرا۔
اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ شاہ عنایت کا کوئی ایک بھی کامریڈ نہ تو غدار ہوا اور نہ ہی جاسوسی کی۔ دشمن کو پورا یقین تھا کہ صوفی شاہ عنایت قرآن کو ہر صورت مان سمان دیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ دھوکہ باز دشمن امن مذاکرات کے نام پر یار محمد کلہوڑو کی فوج کے کمانڈر میر شہداد خان ٹالپر کی قیادت میں صوفی شاہ عنایت شہید کے پاس پہنچے۔
اب شاہ عنایت کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ قرآن پاک پر اعتماد نہ کریں حالانکہ وہ بھانپ گئے تھے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے۔ اس طرح دھوکہ باز مذاکرات کی آڑ میں شاہ عنایت، ان کے بھائی شاہ رحمت اللہ، بھتیجے محمد یوسف سمیت 25 چیدہ کامریڈ ٹھٹہ کے مغل گورنر اعظم خان سے مذاکرات کرنے کے لیے ان کے خیمے میں چلے گئے۔
سبط حسن لکھتے ہیں یہ مذاکراتی وفد جب نواب اعظم خان کے خیمے میں پہنچا تو ان سب کو گرفتار کرکے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنائی گئیں، جب کہ ڈاکٹر محمد علی مانجھی لکھتے ہیں کہ شاہ عنایت اور ان کے رفقاء کو ملاؤں سے فتوے لے کر موت کی سزا سنادی گئی۔ جب کہ شاہ عنایت کے لیے سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب ان کے سامنے ان کے بھائی شاہ رحمت اللہ اور بھتیجے و داماد محمد یوسف کے سر قلم کردیے گئے۔ اس موقع پر انھوں نے یہ شعر پڑھا کہ۔
سر در قدم یار فدا شد چہ بجا شد
این یار گران بود ادا شد کہ بجا شد
اس کا مطلب ہے کہ ’’حق کی راہ میں سر قربان کرنے سے زندگی کا بنیادی مقصد پورا کرنے کا ذمہ ادا ہوجاتا ہے۔‘‘ بقول ڈاکٹر شاہ محمد مری ’’شاہ عنایت شہید کی فکر آج بھی قابل عمل ہے۔ ان کا فکر و عمل ہر دور کی فکر ہے۔‘‘
یہ 17 صفر 1130ھ (7 جنوری 1718ء) کا واقعہ ہے۔ شاہ عنایت شہید کا سر قلم کرکے دہلی کے بادشاہ فرخ سیر کو پیش کیا گیا تاکہ انعام حاصل کیا جاسکے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کا سر واپس لاکر جھوک میں دفن کردیا گیا۔ آج شاہ عنایت شہید کا 308 واں عرس منایا جا رہا ہے مگر سندھ کے کسان اور محنت کش اپنے اس عظیم انقلابی سپوت کو نہیں بھولے۔