گزشتہ رات سر راہ چلتے چلتے میرے کانوں میں ایک کراہتی ہوئی آواز سنائی دی،میں نے ارد گرد دیکھا،تانکا اور جھانکا مگر مجھے درد سے کراہتی ہوئی کوئی مخلوق نظر نہ آئی،میں نے اس آواز کو اپنا وہم سمجھ کر جونہی قدم آگے بڑھایا تو اس آواز میں مدد کا گمان ہوا جیسے کہ کوئی کہہ رہا ہو کہ میری بات تو سنو۔
میں اس دم گڑبڑا گیا اور دوبارہ سے اس آواز کے تعاقب میں چار اطراف پھر سے گھور گھور کر دیکھا تو ایک درخت کے نیچے کی تہہ میں مجھے ایک کاکروچ نظر آیا جس کا ایک پر جسم سے جدا تھا اور اس کے پیٹ پر کسی نے لات مار کر اس کا پیٹ پھاڑ دیا تھا مگر کاکروچ پھر بھی اپنی تمام ہمت کو جمع کرکے آہستہ آہستہ رینگ رہا تھا اور اس کے منہ سے مدد ،مدد کی طلب کا احساس نمایاں تھا۔
میں جب اس زخمی کاکروچ کے قریب پہنچا تو وہ مجھ سے خوفزدہ ہوکر بھاگنے کے بجائے میرے قریب آتا گیا،اس لمحے مجھے اس کا زخمی جسم دیکھ کر کراہت محسوس ہوئی اور میں اس کاکروچ سے پیچھے ہوا تو وہ کاکروچ اپنی لنگڑی ٹانگوں کے سہارے مزید میرے قریب آگیا اور مجھے اپنی حرکت سے احساس دلایا کہ تم ہی اس وقت میری مدد بھی کر سکتے ہو اور تم ہی میرے دکھ کو شاید سمجھ بھی سکتے ہو۔
میں اس لمحے عجیب کشمکش میں مبتلا تھا،میرے بڑھتے قدم چاہنے کے باوجود آگے نہیں بڑھ رہے تھے،سو میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس زخموں سے چور کاکروچ کے ساتھ بیٹھ گیا،وہ کاکروچ مجھے دیکھتا رہا اور میرے گرد لنگڑاتے ہوا گھوم گھوم کر میرے مزید قریب ہوتا گیا۔
کاکروچ کے اس عمل سے میرے اندر سے اس سے گھن آنے کا احساس جاتا رہا اور کاکروچ کے مضمحل ہونے سے ہمدردی ہوتی گئی۔ اس لمحے مجھے لگا کہ میں اس کاکروچ کے دکھ کی زبان سمجھ سکتا ہوں جب کہ اسی دوران مجھے احساس ہوا کہ میں اور کاکروچ اپنی حرکات و سکنات سے ایک دوسرے سے ہم کلام ہونے کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔
ابھی میں اس کے زخمی ہونے کی وجہ جاننا ہی چاہتا تھا کہ اس کاکروچ نے مجھ سے سوال داغ دیا کہ ’’کیا تم نہیں سمجھتے کہ تمہاری دنیا کا انسان ترقی یافتہ کہلانے کے باوجود انسانی احساس سے دور اور حشرات دشمن ہوتا چلا جارہا ہے۔‘‘
میں اس زخمی کاکروچ کی اس دانائی پربھونچکا سا ہو گیا اور کاکروچ کے سوال سے گڑ بڑا کر فوری جواب دینے سے گویا محروم ہو گیا،کیونکہ میں اس دم کاکروچ کے زخموں کی مرہم پٹی کے متعلق سوچ رہا تھا کہ کاکروچ نے سوال کرکے میرے اوسان خطا کر دیے، مگر میں نے بھی کاکروچ کو اپنی کمزوری کا احساس نہیں ہونے دیا اور اگلے لمحے خود کو سنبھال لیا،پھر کاکروچ سے انسان کے دفاع میں گویا ہوا۔
’’کیوں کیا میں انسان نہیں جو کہ تمہاری بات سمجھ بھی رہا ہوں اور تمہاری مدد کے لیے فکر مند بھی ہوں‘‘۔ ’’ارے بھئی! میں نے تمہارے احساس کو دیکھتے ہوئے تو یہ سوال کیا؟‘‘ کاکروچ نے میرے جواب پر غیر مطمئن ہوتے ہوئے کہا۔
’’ اچھا یہ بتاؤ کہ تم کو کاکروچ کی طاقت اور اس کی کروڑوں سال کی نسل کے تسلسل کے بارے میں کچھ پتا ہے یا صرف تم کاکروچ کو کمزور سمجھ کر مارنے پر ہی خوش ہو جاتے ہو۔؟‘‘مجھے کاکروچ نے پھر اپنے سوال سے پچھاڑنے کی کوشش کی۔
میں نے فوری طور سے کاکروچ کو شکست دینے کے لیے کہا کہ ’’ہاں مجھے پتہ ہے کہ کاکروچ ،ڈائنوسار سے پہلے کی حشراتی مخلوق ہے اور قریبا 300 کروڑ سال پہلے سے تمہاری نسل چلتی چلی آرہی ہے اور آج تک کاکروچ کی نسل کا سلسلہ جاری و ساری ہے جب کہ تمہیں مارنا،ادویات سے ختم کرنا یا ریاستی اقدامات سے تمہارا صفایا کرنا بہت مشکل ہے،بلکہ کاکروچ کا سر بھی کچل دیا جائے تو وہ باقی بچ جانے والے جسم کی توانائی سے پھر زندہ یا چاق چوبند ہو جاتا ہے۔‘‘
میں نے کاکروچ پر اپنی معلومات کی بقراطی جھاڑتے ہوئے اسے لاجواب کرنا چاہا،مگر صاحب وہ زخمی کاکروچ بھی بڑا سخت جان تھا کہ میرے جواب کے ختم ہوتے ہی پھر سوال کر دیا کہ ’’اچھا تو پھر انڈیا کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو معلوم نہیں تھا کہ ہم کاکروچ کتنے سخت جان ہوتے ہیں؟ تو پھر گرم خون کی حرارت اور مقابلہ کرنے کی ہمت جیسی صلاحیت رکھنے والے نوجوان طلبہ کو کاکروچ کیوں کہا؟‘‘
جب ہم نے یہ سنا کہ نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر نہ صرف ان کے انسان ہونے کو للکارا جار رہا ہے بلکہ ہم کاکروچ کی طاقت کو بھی چیلنج کیا جارہا ہے تو ہماری ’’کاکروچ ایسوسی ایشن‘‘ جس میں کمیونسٹ فکر کے کاکروچ بھی تھے نے یہ فیصلہ کیا کہ کاکروچ کہے جانے والے نوجوان طلبہ کا ہم ساتھ دیں گے اور ان کے سخت جان ہونے کو ریاست کی طاقتوں کے سامنے لا کھڑا کریں گے۔
سو ہم نے خطے کے روشن خیال طلبہ کا انتخاب کیا اور ریاست کے مظالم کے خلاف انھیں اپنے ایسی طاقت فراہم کی اور اس سلسلے میں ہم نے کمیونسٹ فکر نیہا بورا اور ان کی کمیونسٹ فکر دیگر طالبہ پر پورا اعتماد کیا اور ریاست نے کاکروچ نسل سے آخر کار شکست کھائی۔
یاد رکھنا یہ نوجوان طاقت دکھانے کا پہلا کاکروچ بڑاؤ تھا جب کہ ابھی نوجوان کاکروچ نسل کا سفر پر اس ریاست میں باقی ہے جو اپنے بیرونی یا اندرونی سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے خاطر وہاں نہ نسل کو جمہوری آزادی دے رہی ہیں اور نہ طلبہ کے تعلیمی حقوق کا خیال کیا جارہا ہے،بلکہ ہر آئینی حقوق کی کسی بھی تحریک کو ریاستی طاقت سے کچلنے کا چلن۔بس یہ یاد رہے کہ یہ نوجوان کاکروچ نسل ریاستی ظلم سے اب کچلنے یا شکست ہارنے والی نہیں۔‘‘
بالآخر میں زخمی کاکروچ کی گفتگو سے دنگ ہوئے بنا نہ رہ سکا۔