ایران توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں کس کس ملک کو نشانہ بناسکتا ہے؟ نام سامنے آگئے

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسی صورت حال میں دنیا کی معیشت غیرمعمولی بحران کا شکار ہوسکتی ہے


ویب ڈیسک August 01, 2026
فوٹو: خبرایجنسی فارس

ایرانی میڈیا نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے توانائی کی تنصیبات کو نشانے بنانے کی منصوبہ بندی کی رپورٹس پر دعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں ایران خطے کے ممالک میں جن تنصیبات کو نشانہ بنائے گا ان کے نام سامنے آگئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس صورت میں دنیا کی معیشت غیرمعمولی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔

ایرانی خبرایجنسی فارس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹس میں تیزی آ گئی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جلد ایران کے توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس کے تناظر میں تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اس کے جواب میں خطے اور اسرائیل میں واقع اہم توانائی تنصیبات پر حملے کیے تو عالمی معیشت ایک غیر معمولی بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں ان ممالک کی توانائی کی تنصیبات کی فہرست بھی دی گئی، جو ایرانی کے جوابی حملوں میں باآسانی زد میں آسکتےہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ سعودی عرب کی غوار آئل فیلڈ دنیا کی سب سے بڑی تیل کی فیلڈ ہے جہاں اندازاً 75 سے 83 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں، اگر یہاں کے ذخائر دنیا کی مجموعی تیل کی فراہمی کا 5 فیصد سے بھی زیادہ ہیں، سعودی عرب کی ابقیق اور خریص تنصیبات بھی دنیا کا سب سے بڑا آئل پروسیسنگ کمپلیکس اور سعودی عرب کے تیل برآمدی نظام کا مرکز ہے۔

خلیجی ریاستوں میں متحدہ عرب امارات جنگ بندی سے قبل سب سے زیادہ متاثر رہا ہے اور اس فہرست میں متحدہ عرب امارات کی زکوم آئل فیلڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی آف شور آئل فیلڈ ہے اور خطرہ ظاہر کیا گیا ہے اس پر کسی بھی حملے سے متحدہ عرب امارات کی تیل برآمدات شدید متاثر ہو سکتی ہیں، متحدہ عرب امارات کی الرویس ریفائنری کا نام بھی لیا گیا ہے جس سے خطے کی سب سے بڑی سنگل سائٹ ریفائنری کہا جاتا ہے اور اس کی یومیہ ریفائننگ صلاحیت تقریباً 8 لاکھ بیرل ہے۔

مزید بتایا گیا کہ قطر کا نارتھ فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے، جس میں تقریباً 48 کھرب مکعب میٹر گیس موجود ہے، جو دنیا کے ثابت شدہ گیس ذخائر کا تقریباً 25 فیصد بنتا ہے، راس لفان دنیا بھر میں ایل این جی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ سنبھالتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 40 روزہ جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی سے تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ ٹن ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی جبکہ قطر کی ایل این جی پیداوار کی صلاحیت میں 17 فیصد کمی آئی، جس کی مکمل بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ایرانی خبرایجنسی نے بتایا کہ کویت کا برگان آئل فیلڈ ریاست کی سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے اور حالیہ تنازع کے دوران کویت کی تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیداوار متاثر ہوئی اور 40 روزہ جنگ کے دوران تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 25 ارب ڈالر کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ایران کے اہداف سے متعلق اس رپورٹ میں بحرین کی سترا ریفائنری اور المعمیر تنصیبات بھی شامل ہیں، جہاں 40 روزہ جنگ کے دوران سترا ریفائنری پر دو مرتبہ حملے ہوئے، ان تنصیبات پر انحصار کی وجہ سے بحرین کو توانائی کے حوالے سے خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ حساس قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل کی لیویاتھن اور تمار گیس فیلڈز بھی ایرانی نشانے پر ہیں، لیویاتھن اسرائیل کی تقریباً 53 فیصد قدرتی گیس فراہم کرتا ہے، جبکہ تمار مزید 44 فیصد گیس مہیا کرتا ہے۔

اسرائیل کی فیلڈ سے متعلق بتایا گیا کہ رمضان جنگ کے دوران اسرائیل نے لیویاتھن اور کاریش گیس فیلڈز کی سرگرمیاں 30 سے 40 دن کے لیے معطل کر دی تھیں، جس سے تقریباً 1.5 ارب شیکل (تقریباً 40 کروڑ ڈالر) کا معاشی نقصان ہوا اور تمار کو اسرائیل کی توانائی کی شہ رگ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ ملک کی تقریباً تمام مقامی گیس ضروریات پوری کرتا ہے۔