وزیر داخلہ نے کاکروچ کا ذکر کرکے سیاسی فضا میں بحث کا بازار گرم کردیا ہے کہ کہیں ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی سڑکوں پر کاکروچ نہ آجائیں، ہم اپنے نظام کو پہلے ہی درست کرلیں کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ آجائیں اور نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں اور اسی طرح کی کئی باتیں!
1947ء میں بٹوارے کے بعد جو دو نئے ممالک وجود میں آئے، جو اب تین ہوگئے ہیں، ان تینوں میں سب سے زیادہ آمریتوں کا راج ہمارے ملک میں رہا اور اب تو شب خون بھی مارنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہماری سیاسی جماعتیں سب کچھ کرنے کے لیے حاضر ہیں۔
اپنے دور حکومت میں جنرل ضیاء الحق آٹھویں ترمیم لے کر آئے اور جنرل پرویزمشرف سترہویں ترمیم۔ سول قیادت آئین میں اٹھارہویں ترمیم لے کر آئی۔ آئین میں اٹھارہویں ترمیم موجود ہے لیکن ہمارا بجٹ یہ کہتا ہے کہ این ایف سی اب اس طرح ہوگا کیونکہ وفاق مقروض ہو چکا ہے مگر این ایف سی میں تبدیلی صرف این ایف سی سے ہی متعین کرے گا۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ چاروں وفاقی اکائیاں اور وفاق سب متفق ہوں گے، تب این ایف سی میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے یعنی آئین میں ترامیم لانا اتنا مشکل نہیں جتنا کہ این ایف سی میں تبدیلی لانا مشکل ہے۔
اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ یہ تبدیلی زرداری صاحب یا سندھ حکومت کی آمادگی کے بغیر ہوئی ہوکیونکہ جب چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم لائی گئیں تو پاکستان کی تمام جمہوری قوتیں بشمول مولانا فضل الرحمن صاحب چھبیسویں ترمیم کے حق میں تھے۔
ستائیسویں ترمیم، آئین کے مروج آفاقی تقاضوں کے خلاف ہے یعنی ہم نے کچھ اہم شخصیات کو کریمنل کیسز سے مستنثیٰ قرار دے دیا۔ اٹھارہویں ترمیم کی بازگشت سنی گئی۔ یہ راگ بھی الاپا گیا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے اور ایساکرنے سے کراچی کا ا سٹینڈرڈ ہائی ہو جائے گا۔
کاکروچ کا وجود ایک نئی امید کی کرن ہے جو مودی کی پیدا کی ہوئی گھٹن سے پیدا ہوئی ہے۔ وہ بات کرتے ہیں کہ آئین کو بحال کیا جائے۔جس کو مودی نے ہندوتوا کا نعرہ دے کر R.S.S کی یلغار سے گھٹن کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے۔ نیہا بورا کاکروچ جنتا پارٹی کی لیڈر ہیں، وہ سیکولرازم کو بحال کرنے کی تحریک چلا رہی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ یہ تحریک وہاں اپنی مضبوط جڑیں بنائے گی۔
اسی ترتیب سے پاکستان میں کاکروچ کا وجود یقینا جناح کے پاکستان کو بحال کرنے کی بات کریگا، وہ جناح کی گیارہ اگست والی تقریر کی بات کریں گے۔ آئین کی بحالی کی بات کریں گے اور تاریخ کی درستگی کی بات کریں گے، اگر کوئی ایسی تشریح جین زی یا پھر متوقع کاکروچ پارٹی، پاکستان میں لے کر آتے ہیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟ یہ تو ایک خوش آئند چیز ہوگی۔ درست ڈگر ہوگی اور اس سے پاکستان مضبوط ہوگا۔
کیا پاکستان میں ایسا ممکن ہے؟ کوئی کاکروچ پارٹی یہاں جنم لے سکتی ہے؟ ایسی ہی ایک کاکروچ پارٹی 1971 میں بننے جا رہی تھی۔ وہ سب مڈل کلاس تھے اور بنگالی تھے۔ اس بات کو مؤرخ زیادہ واضح انداز میں لکھ سکتا ہے، ہم نے ان کو ہندوستان کا ایجنٹ قرار دیکر یہاں سے نکال دیا، پھر بھٹو صاحب نے NAP پر پابندی عائد کی۔
بلوچستان اور سرحد میں ان کی حکومتوں کا خاتمہ کیا۔ ایک طویل فہرست ہے، ایسے گناہوں کی جو اس ریاست سے سرزرد ہوئے۔اس کا ذمے دار کون ہے؟ جن کی آمریتوں کے زیر سایہ یہ گناہ سرزرد ہوئے، میرا یہ خیال ہے کہ وہ ہی اس کے ذمے دار ہیں۔
یہاں جمہوری اقدار کمزور تھیں۔ اسی لیے بینظیر بھٹو نے بھی پانچ اہم وزارتیں جنرل بیگ کے مشورے پر دی تھیں۔نواز شریف کو چوہدری نثار کو وزیرِ داخلہ بنانا ضروری تھا اور اب بھی ایک دو لوگ ’’ ضروری‘‘ ہیں۔
ہندوستان کا بیانیہ ایک ہے مگر پاکستا ن کا بیانیہ ایک نہیں ہے،سندھ اپنا بیانیہ الگ رکھتا ہے، بلوچستان اپنا بیانیہ رکھتا ہے، کے پی کا اپنا بیانیہ ہے۔ رہا سوال پنجاب کا تو وہ بھی اپنا بیانیہ رکھتا ہے۔ وفاق کا اپنا بیانیہ ہے، پی ٹی آئی کا الگ بیانیہ ہے۔
اس ملک میں جو سب سے اہم کام ہوا وہ 1973 کا آئین تھا اور جو بدترین کام ہوا وہ تھا ون یونٹ کانظام جو چودہ سال بھی نہ چل پایا جب کہ آئین پر بارہا قدغن لگائے گئے مگر وہ پچاس سال سے مو جود ہے۔ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کی دو مارشل لاء کے باوجود بھی موجود ہے اورموجودہ دور کا ہائبرڈ نظام بھی امید ہے جھیل لے گا۔
ہندوستان میں مودی کی حکومت سے پہلے اندرا گاندھی نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا، جس کو عدالتوں نے کیشوا نندہ کیس کے ذریعے روکا اور اب کاکروچ جنتا پارٹی اس آئین کے تحفط کے لیے میدان میں اتر چکی ہے۔ اس وقت وکلاء برادری پاکستان میں آئین کے تحفظ اور جمہوریت کے لیے آگے بڑھ رہے ہے۔
ایک ستم یہ بھی ہوا کہ پاکستان میں طلباء تنظیمیں، اسٹوڈنٹ یونین بحال نہیں ہو پائیں، وہ اگر بحال ہو جاتیں تو آج کاکروچ یہاں بھی پیدا ہو سکتے تھے۔
یہاں ایسی کوئی امید نہیں کہ کا کروچ پیدا ہوں گے، جمہوریت مضبوط ہوگی۔ اب بلوچستان جمہوریت کے معنی سے آگے نکل چکا ہے۔ کے پی کے، افغانستان کے زیراثر ہے کیونکہ ان کی ثقافت ایک ہے۔ سندھ وڈیروں کے حوالے ہے اور سرکاری اداروں میں کوئی بدلاؤ نہیں۔
یہ گھڑی نازک گھڑی ہے کہ ملکی سیاست صحت مند نہیں، لاغر اور کمزور انداز سے آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ یہاں سیاسی قوتیں انتہائی کمزور ہیں۔ یہاں کی نوجوان نسل یعنی جین زی میں اتحاد نہیں۔
وہ اپنے صوبائی محور میں بٹے ہوئے ہیں۔ اس لیے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے یہ فکر لاحق ہے کہ یہ حالات ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، یہ حالات اس تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا میں ہمارے حق میں بہتر نہیں ہیں۔
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
(مرزا غالب)