ڈی جی آئی ایس پی آر کی دو ٹوک اور جامع گفتگو

نظام عدل اور پولیس سسٹم میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا


ایڈیٹوریل August 01, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی اہم گفتگو کی ہے، اپنی گفتگو اور صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انھوں نے پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز اور ان کی وجوہات اور ان کے حل پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا، ان میں سے13کا تعلق اچھی حکمرانی سے ہے، ان پرمؤثر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہی مسائل برقرار ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی ملک کے مسائل کے حل کے لیے سرکاری مشینری کا متحرک ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر سرکاری مشینری درست انداز میں اور سبک رفتاری سے اپنا کام کرے تو مسائل بھی اسی رفتار سے حل ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے لیے ملک کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اس حوالے سے سب سے اہم بات ملک کے آئین میں درج مختلف آرٹیکلز میں ادارہ جاتی اختیارات اور عوامی حقوق کے حوالے سے جو کچھ کہا گیا ہے، ان آرٹیکلز میں موجود اسقام، ابہام اور اشتباہ پیدا کرنے والی شقوں اور الفاظ کا خاتمہ کر کے واضح اور دوٹوک اور غیرمبہم شقوں اور الفاظ کو شامل کیا جانا ضروری ہے۔

اسی طرح ضیاء الحق کے دور سے لے کے پرویز مشرف کے دور تک جو ترامیم آئین میں شامل کی گئی ہیں، ان کا ازسرنو جائزہ لیا جانا ضروری ہے کیونکہ بعض ترامیم کے ذریعے بہت سے معاملات کو الجھا دیا گیا ہے۔

اسی طرح اٹھارہویں ترمیم سے لے کے چھبیسویں ترمیم تک جو جو ابہام ہیں انھیں بھی دور کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ اگر یہ کام مکمل ہو جاتا ہے تو سسٹم کی افادیت، کوالٹی اور رفتار میں خاطرخواہ اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد اداروں کے اندر جو رولز اینڈ ریگولیشن بنائے گئے ہیں، ان میں بھی توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

افسرشاہی اور کلرک شاہی سے لے کر چپڑاسی تک جو ضابطے اور اختیارات قائم کیے گئے ہیں، ان کا بھی ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سرکاری افسروں اور اہلکاروں کے احتساب کے لیے غیرمبہم الفاظ استعمال ہونے چاہئیں اور اس کا میکنزم بھی قابل عمل اور سرعت پذیر ہونا چاہیے۔

نظام عدل اور پولیس سسٹم میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ نظام تفتیش میں تفتیش کاروں کی جوابدہی اور احتساب کے لیے قوانین بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ناقص، ادھوری اور جانبدار تفتیش کاروں کو نوکری سے برخاست کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔

اس طریقے سے نظام تفتیش شفاف ہو گا، عدالتوں میں مکمل اور جامع چالان پیش ہوں گے۔ جس سے عدالتوں کے لیے قانون کے مطابق درست فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی اور عدالتوں پر مقدموں کا بوجھ بھی کم ہو گا۔

اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے حوالے سے جو نظام تشکیل دیا گیا ہے، اسے تبدیل کر کے وفاقی پبلک سروس کے سپرد کیا جانا چاہیے تاکہ براہ راست امتحان پاس کر کے جج بھرتی ہونے والا ترقی کے مراحل طے کر کے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کے عہدوں تک پہنچ سکے۔ اس طریقے سے نظام عدل بہتر ہو گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گردوں کوہتھیار ڈالنے ہوں گے یا پھر ہم انھیں ختم کر دیں گے، ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کابنیادی فرض ہے۔

آئین کا آرٹیکل پانچ کہتا ہے وفاداری صرف ریاست سے ہوگی، ریاست ہے توسیاست ہے،ریاست ہے توجان ہے، نام ہے۔ ہماری پہلی اور آخری شناخت پاکستان ہے۔ انھوں نے کہا بدقسمتی سے ہم ہارڈ اسٹیٹ نہیں ہیں، ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں، ہارڈ اسٹیٹ کامطلب ہرگز نہیں ہے کہ ملٹری ریاست کو چلارہی ہے، ہارڈ اسٹیٹ کامطلب ہے کہ جس میں کوئی ایلیٹ نہ ہو، ہارڈ اسٹیٹ کامطلب یہ نہیں کہ فوج کے غلبے میں چلنے والی ریاست ہو۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ بات بالکل درست ہے۔ دہشت گردوں سے مذاکرات کر کے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ ماضی میں بھی کئی دفعہ مذاکرات ہوئے ہیں جو ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ ہارڈ اسٹیٹ کے حوالے سے بھی انھوں نے جو کچھ کہا ہے، وہ بھی درست ہے کیونکہ آئین اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے ہی کوئی ریاست ہارڈ اسٹیٹ اور ویلفیئر اسٹیٹ مانی جاتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی آبادی کے حوالے سے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ملک کی آبادی چار گنا بڑھ چکی ہے جب کہ انتظامی ڈھانچہ وہی ہے،1972 میں پاکستان کی آبادی سات سے آٹھ کروڑ تھی جب کہ آج یہ تقریباً 25کروڑ ہو چکی ہے، اس لیے عوامی ضروریات بھی تبدیل ہو چکی ہیں، اس لیے نئے تقاضوں کے مطابق سوچنا ہوگا۔

تاہم چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام یا دیگر انتظامی فیصلوں کا اختیار عوام کے پاس ہے۔ بلاشبہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے وسائل کو کھا رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح طور پر کہا ہے کہ گزشتہ دنوں ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے واقعات میں افغان باشندے ملوث تھے، بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان باشندے ملوث ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں انھوں نے کہا یہاں جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں۔

بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔ کئی سردار دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں، یہ لوگ لیویز فورس کو اپنی سرداری فورس سمجھتے ہیں، ان کو لیویز فورس کی تنخواہیں چاہئیں۔ انھیں کاروبار کے نام پر اسمگلنگ کرنے کی عادت ہے۔ یہ کہتے ہیں جو ہزار ارب سے زائد بجٹ ملتا ہے اس میں حصہ دو، حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کرائیں گے لیکن ہم نہیں دیں گے۔

مسنگ پرسنز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مسنگ پرسن کمیشن میں 201 درخواستیں آئیں۔ جو دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں مارے جاتے ہیں وہ مسنگ پرسنز لسٹ میں نکل آتے ہیں۔ جو دہشت گردوں کے کیمپوں میں موجود ہیں وہ مسنگ پرسنز کی لسٹ میں مل جائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا حکومت کا مقصد بلوچستان کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے کیونکہ صوبے کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں، بعض سردار نہیں چاہتے کہ نوجوان تعلیم، لیپ ٹاپ اور ٹیکنالوجی کی طرف آئیں بلکہ وہ انھیں اسلحہ اٹھانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔

بلوچستان میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، پانی کے نئے ذخائر اور نہریں بنائی جا رہی ہیں جب کہ صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، شاہراہوں کے منصوبوں سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی آئے گی۔

انھوں نے کہا افغانستان اور بھارت کے درمیان بی ایل اے کے علاوہ اور کیا چیز مشترکہ ہے؟ بھارت اور افغان طالبان کا ڈی این اے ایک ہے، بھارت آقا ہے اور افغان طالبان اس کے غلام ہیں، افغان طالبان دہشت گردی کو بطور کاروبار استعمال کر رہے ہیں ۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اگر دہشت گرد عوام کو تکلیف پہنچائیں گے تو ریاست بھی ان کے خلاف بھرپور اور سخت کارروائی کرے گی، جب کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو سخت انجام تک پہنچایا جائے گا۔

کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، پاکستان سے آج بھی کشمیر بنے گا پاکستان کی آواز بلند ہوتی ہے جب کہ کشمیری عوام بھی پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، پاکستان کا سب سے لاڈلا بچہ کشمیر ہے۔کشمیری جہاں بھی موجود ہوں، ان کا یہی موقف ہے کہ پاکستان ہمارا ہے، ہم پاکستان کے ہیں اور وہ خود کو پاکستان کے ساتھ وابستہ سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے دشمن پاکستان کے خلاف مختلف محاذوں سے حملے کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کے حوالے سے بہت واضح پکچر پیش کی ہے۔ بلاشبہ بلوچستان کے اصل سٹیک ہولڈر وہاں کے عوام ہیں نہ کہ بلوچستان کی اشرافیہ۔

بلوچستان کی اشرافیہ کی تعداد انتہائی محدود ہے۔ اس لیے اس اشرافیہ کے مفادات کے لیے بلوچستان کے عام آدمی کے مفادات کو قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔ افغانستان کا کردار کوئی نیا نہیں ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک افغانستان کے حکمران اور وہاں کی اشرافیہ اور طاقت ور مذہبی اشرافیہ پاکستان کے خلاف رہی ہے۔ پاکستان میں انھوں نے ہمیشہ منفی پراپیگنڈا کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ اس پر تاحال قائم ہیں۔