افغان طالبان کیخلاف مسلح مزاحمت  تیز،رجیم کےافغانستان پرکنٹرول کے دعوے  جھوٹے ثابت

افغان فریڈم فرنٹ گوریلا جنگ کے بجائے اب طالبان کیخلاف براہِ راست جنگ میں داخل ہو چکا ہے


ویب ڈیسک August 02, 2026
(فوٹو: فائل)

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کے تابڑتوڑحملوں اور اندرونی اختلافات کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی تھنک ٹینک لانگ وارجرنل نے افغان طالبان کیخلاف مزاحمتی  گروہوں کی حالیہ  کارروائیاں کی تفصیلات سامنے لے آیا۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان کے صوبے بدخشان میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

17 جولائی کو طالبان مخالف گروہ سپاہیانِ میہن  نے  ضلع یفتلِ سفلی کے مرکز پر حملہ کیا اورکئی گھنٹےضلعی مرکز پر  قبضہ برقرار رکھا، 23جولائی کو  افغان فریڈم فرنٹ نے بدخشان کےضلع  زیبک میں طالبان یونٹس کیخلاف متعدد ہدفی کارروائیاں کیں۔

افغان فریڈم فرنٹ کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے لانگ وار جرنل کو بتایا کہ افغان فریڈم فرنٹ گوریلا جنگ کے بجائے اب طالبان کیخلاف براہِ راست جنگ میں داخل ہو چکا ہے۔

23جولائی کو  نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے ضلع  کران ومنجان  میں طالبان کی چوکی پر حملہ کی جس میں ایک طالبان جنگجو ہلاک اور 2 زخمی ہوئے، افغان صحافی ابومسلم شیرزاد کے مطابق بدخشاں میں طالبان اوران کے حامیوں کے لیے اپنی گرفت برقراررکھنا اب آسان نہیں رہے گا۔