ایران جانے کی کوشش کرنے والے 14 افغان باشندوں کی لاشیں صحرائی علاقے سے برآمد

بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں ہر سال بڑی تعداد میں افغان شہری غیر قانونی راستوں سے ایران جانے کی کوشش کرتے ہیں


ویب ڈیسک August 02, 2026

افغانستان کے جنوب مغربی صوبے نیمروز کے صحرائی علاقے سے ایران جانے کی کوشش کرنے والے 14 افغان باشندوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ افراد کئی ہفتوں سے لاپتا تھے اور شدید گرمی و پیاس کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ افراد ایک گاڑی کے ذریعے غیر قانونی طور پر ایران جانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم راستے میں گاڑی خراب ہونے کے بعد انہوں نے پیدل سفر جاری رکھا۔

رپورٹ کے مطابق امدادی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب گاڑی کا ڈرائیور شدید پیاس اور تھکن کی حالت میں ایک قریبی گاؤں پہنچا اور مقامی افراد سے مدد طلب کی۔

ابتدائی طور پر تلاش کے دوران 5 لاشیں ملی تھیں، جس کے بعد حکام نے دیگر لاپتا افراد کی تلاش کا دائرہ وسیع کیا۔ بعد ازاں ہفتے کے روز مزید 14 لاشیں صحرائی علاقے میں ریت کے نیچے سے برآمد کی گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ نیمروز افغانستان کے گرم ترین اور خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت درجہ حرارت تقریباً 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، جس کے باعث طویل پیدل سفر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

مقامی اسپتال کے ذرائع کے مطابق برآمد ہونے والی لاشیں شدید گرمی اور صحرائی حالات کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو چکی تھیں۔

دوسری جانب افغان حکام نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رکھی جائیں گی تاکہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ بہتر روزگار اور معاشی مواقع کی تلاش میں ہر سال بڑی تعداد میں افغان شہری غیر قانونی راستوں سے ایران جانے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں صحرائی راستوں، شدید موسم اور انسانی اسمگلروں کی وجہ سے متعدد جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔