’’میرا نام محمد دیپک ہے‘‘

ایک غیرمسلم نوجوان کی دلیری اور مسلمان بزرگ سے اظہار یک جہتی نے سنگھ پریوار کے اقلیتی دشمن اور منفی نظریات کا پردہ چاک کر دیا


سید عاصم محمود August 02, 2026

بھارت کی ریاست ، اتراکھنڈ کے قصبے کوٹ دوار میں ایک جم (gym) کے مالک کی روزی روٹی کا تقریباً نوے فیصد حصہ صرف اس لیے ختم ہو گیا کہ اس نے ایک ستر سالہ بوڑھے مسلمان دکان دار، وکیل احمد کو ہراساں کیے جانے کے دوران مداخلت کی تھی۔یہ ایک حقیقت ہے۔باقی سب کچھ … وائرل ویڈیو، ’’محمد دیپک‘‘ کا نعرہ، قومی رہنماؤں کی یکجہتی کے دورے، دھمکیاں، احتجاج اور قانونی معاملات اسی تلخ اور تکلیف دہ سچائی سے نکلے ہیں۔

26 جنوری کو انتہا پسند تنظیم ، بجرنگ دل سے وابستہ کارکنوں کے ایک گروہ نے مبینہ طور پر وکیل احمد کی دکان کے نام میں لفظ ’’بابا‘‘ کے استعمال پر اعتراض کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ لفظ قریبی مندر سے جڑا ہے، اسی لیے ایک مسلمان تاجر کے لیے اس کا استعمال نامناسب ہے۔ یہ مطالبہ میونسپل قوانین یا ٹریڈ مارک نہیں بلکہ یہ علامتی ملکیت کے بارے میں تھا … یعنی اس بارے میں کہ ثقافتی الفاظ استعمال کرنے کی اجازت کس کو حاصل ہے۔

جب ایک نوجوان جم مالک، دیپک کمار نے مداخلت کی، تو اس کا نام پوچھا گیا۔ اس نے فطری طور پر اور ڈٹ کر جواب دیا: ’’محمد دیپک‘‘۔ یہ کوئی عام جواب نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کو تسلیم کرنے سے شعوری انکار تھا کہ مذہبی شناخت ایک ایسی سرحد ہے جس کا دفاع کرنا ضروری ہے نہ کہ اسے عبور کرنا۔

لیکن چند ہی دن میں اس کے جم میں آنے والوں کی تعداد مبینہ طور پر 150 سے کم ہو کر صرف ایک درجن رہ گئی۔ اس کے 40 ہزار روپے ماہانہ کرائے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس کے گھر کے قرض کی 16ہزار روپے کی قسط (EMI) نہ رکی۔ اس کی ستر سالہ ماں خاندان کو مالی جھٹکے سے بچانے کے لیے سڑک کنارے چائے کا اسٹال لگانے لگی۔ اس کی بیٹی نے خوف اور بے چینی کی وجہ سے عارضی طور پر اسکول جانا چھوڑ دیا۔ آن لائن دھمکیاں سامنے آئیں، بشمول ایک مبینہ انعام کی پیشکش جس پر بعد میں پولیس نے کارروائی کی۔

پیغام بالکل واضح تھا… اکثریت والوں کے ماحول میں اس سے تعلق رکھتے ہر شہری کو اقلیت سے ’’یکجہتی‘‘کرنے پر بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

 عوامی ثقافت پر دعویٰ

کوٹ دوار کے واقعے کو ایک بڑے نظریاتی منصوبے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ حالیہ برسوں میں پورے بھارت میں ہم نے سنگھ پریوار (انتہا پسند اور قوم پرست تنظیموں کے اکٹھ)کے زیراہتمام کھانے پینے کی عادات، بین المذاہب تعلقات، عوامی عبادتوں، سڑکوں کے جلوسوں، جہگوں کے ناموں اور کاروباری شناختوں کی سخت نگرانی دیکھی ہے۔ لفظ ’’بابا‘‘ پر تنازع اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

زبان جو کبھی مشترکہ اور کھلی ہوا کرتی تھی، اب اسے تقسیم کیا جا رہا ہے۔ الفاظ علاقائی نشانات بن رہے ہیں۔ مذہبی علامتیں خصوصی ملکیت بن رہی ہیں۔ عوامی مقامات غیر محسوس طریقے سے اکثریتی مقامات بنتے جا رہے ہیں۔مسلمان دکاندار سے اپنے سائن بورڈ سے ’’بابا‘‘ ہٹانے کا مطالبہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں تھا؛ یہ اس دعوے کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں اب اکثریت کی ثقافت اقلیت کی موجودگی پر ’’ویٹو پاور‘‘ (اختیارِ کُلی) رکھتی ہے۔ اس کے پیچھے چھپی سوچ سادہ اور خطرناک ہے… عوامی قبولیت مشروط ہے اور اقلیتوں کو مسلسل اپنی عاجزی اور تابعداری کا ثبوت دینا ہوگا۔

دیپک کمار کی مداخلت نے اسی منطق کو چیلنج کیا۔ خود کو’’محمد دیپک‘‘ کہہ کر اُس نے اِس تقسیم کو علامتی طور پر توڑ دیا جسے ہجوم نافذ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے فرقہ وارانہ علیحدگی کے ڈھانچے کو درہم برہم کر دیا جو سنگھ پریوار کی قیادت میں بھارت میں پروان چڑھ رہا ہے۔ دیپک کمار کی مداخلت سے جو ردعمل ظاہر ہوا ، وہ آشکارا کرتا ہے کہ یہ ڈھانچہ کتنا نازک بن گیا ہے اور وہ نقصان پہنچنے پرکتنی جلد اپنی بحالی چاہتا ہے۔

معاشی پابندی بطور سیاسی ہتھیار

اس واقعے کا سب سے اہم پہلو سڑکوں پر ہونے والا ٹکراؤ نہیں بلکہ معاشی انتقام ہے۔ کسی کھلے تشدد کی ضرورت نہیں پڑی، بلکہ مارکیٹ بذاتِ خود دیپک کمار کو سزا دینے کا ایک ذریعہ بن گئی۔ جم کے ممبران پیچھے ہٹ گئے، حاضری ختم ہو گئی اور مالی کمزوری کا فائدہ اٹھایا گیا۔

یہ طریقہ کار حادثاتی نہیں بلکہ ڈھانچہ جاتی طور پر مؤثر ثابت ہوا ہے۔ چھوٹے کاروبار بہت کم منافع پر چلتے ہیں۔ جب گاہک غائب ہو جاتے ہیں، تو سمجھوتہ کرنا بقا کی منطق بن جاتا ہے۔ مقصد صرف ایک فرد کو سزا دینا نہیں بلکہ دوسروں کو عبرت کا پیغام دینا تھا : ’’حد پار نہ کرو۔‘‘

بھارت میں اب اکثریت کی طاقت اسی طرح کام کرتی ہے … صرف ریاستی مشینری کے ذریعے نہیںبلکہ نظریاتی لہروں کے ساتھ جڑے سماجی اور معاشی نظاموں کے ذریعے بھی۔ بائیکاٹ، احتجاج اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہی کافی ہوتا ہے۔ خاموشی معاشی طور پر ایک محفوظ راستہ بن جاتی ہے۔

چند دن بعد جب مبینہ طور پر بجرنگ دل کے ارکان دیپک کمار کے جم کے باہر جمع ہوئے، تو اگرچہ پولیس نے کشیدگی کو بڑھنے سے روک لیا، مگر نفسیاتی مقصد پہلے ہی حاصل کیا جا چکا تھا… اس مقام کے ساتھ خطرہ وابستہ کر دیا گیا۔ اس تعلق کو سیاسی رنگ دے دیا گیا۔ ایسے ماحول میں عام آدمی کے لیے خاموشی معاشی طور پر دانشمندانہ انتخاب بن جاتی ہے۔

یکجہتی کی سیاسی علامتیں

قومی سطح پر ردِعمل نے اس تصویر کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ جان برٹاس جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے راجیہ سبھا میں رکنِ پارلیمان ہیں، کوٹ دوار گئے اور علامتی طور پر جم کی رکنیت خریدی۔ راہول گاندھی نے عوامی طور پر دیپک کی تعریف کی اور اسے آئینی اقدار کا مظہر قرار دیا۔ سوشل میڈیا مہمات نے بھی اس کی حمایت کی اپیل کی۔

یہ اقدامات اہم ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ پورا بھارت شہری آزادی کی تنگ ہوتی ہوئی فضا اور اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگانے کی مہم قبول نہیں کرتا۔ یہ ردعمل ایک ایسے معاملے میں کچھ اخلاقی توازن بحال کرتا ہے جسے بصورتِ دیگر ایک مقامی تنازع کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا۔

لیکن یہ امر ایک تشویشناک حقیقت بھی بے نقاب کرتا ہے…آج کے بھارت میں اب ایک ہمسائے کا دفاع کرنے کے لیے بھی قومی سطح کی توثیق درکار ہے۔ اگر کسی اخلاقی ، قانونی اور آئینی رویّے کو محفوظ ثابت کرنے کے لیے پارلیمانی توثیق کی ضرورت پڑ جائے، تو اس کا مطلب ہے کہ بھارت میں روزمرہ کی رواداری پہلے ہی کمزور ہو چکی ۔ یکجہتی غیر معمولی نہیں ہونی چاہیے، اسے عام ہونا چاہیے۔ اس کا عوامی سطح پر جشن منایا جانا ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں خاص طور پر مسلمان قوم کے لیے حالات کتنے غیر معمولی ہو چکے۔

خوف کو بطور ہتھیار استعمال کرنا

یہ واقعہ اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ موجودہ بھارت میں خوف کس طرح گردش کرتا ہے۔ دیپک کی بیٹی نے عارضی طور پر اسکول جانا چھوڑ دیا۔ ذہنی دباؤ کے باعث اس کی صحت متاثر ہوئی۔ دیپک کے خاندان کا مالی ڈھانچہ عدم استحکام کا شکار ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر اس کے خلاف انعام کی پیشکش اس بات کی مثال ہے کہ ڈیجیٹل انتہاپسندی کس تیزی سے مقامی تنازعات بڑھا دیتی ہے۔

خوف کو مؤثر بنانے کے لیے لازماً ادارہ جاتی کا استعمال ضروری نہیں، یہ سماجی اور منتشر انداز میں کام کرتا ہے۔ یہ گھروں میں داخل ہو جاتا اور معمولات بدل دیتا ہے۔عوام میں پیشگی اطاعت کو جنم دیتا ہے۔ جب افراد اختلاف کی قیمت کا اندازہ لگا کر خود ہی خاموش ہو جاتے ہیں، تو جبری طاقت لاگو کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

اکثریتی طاقت اس شکل میں ہر جگہ موجود محسوس ہوتی ہے۔ یہ سرگوشیوں، کنارہ کشی اور حساب کتاب میں جھلکتی ہے۔ اسے ہمیشہ واضح احکامات کی ضرورت نہیں ہوتی؛ یہ اس مشترکہ نظریاتی مفروضے پر انحصار کرتی ہے کہ کون اس سے تعلق رکھتا ہے اور کس کو جھکنا چاہیے۔

 وہ خاموشی جو طاقت قائم رکھتی ہے

کوٹ دوار صرف نظریاتی کارکنوں سے بھرا ہوا نہیں ہے۔ سینکڑوں رہائشی جو کبھی دیپک کمار کے جم میں تربیت لیتے تھے، انہوں نے الگ ہونے کا انتخاب کیا۔ بہت سے لوگ شاید ہراساں کیے جانے کی حمایت نہ کرتے ہوں، لیکن پیچھے ہٹنا ایک محفوظ فیصلہ بن گیا۔

اسی خاموشی اور پسپائی سے بھارت میں اب اکثریتی ڈھانچے اپنی پائیداری حاصل کرتے ہیں … یعنی عام آدمی کی خاموشی سے۔ خاموشی جب بڑے پیمانے پر ہو، تو وہ اتفاقِ رائے کا تاثر دیتی ہے۔ اتفاقِ رائے سے جواز پیدا ہوتا ہے اور جواز سے اپنی من مانی کرنے اور طاقت کے بل پر آمریت نافذ کرنے والوں کو حوصلہ ملتا ہے۔ جمہوریت صرف بڑے تشدد سے ختم نہیں ہوتی؛ یہ روزمرہ کی خاموشی اور سمجھوتے سے بھی سکڑجاتی ہے۔

بھارت کا آئینی ڈھانچہ ہر شہری سے وعدہ کرتا ہے کہ اسے قانون کے سامنے برابری ملے گی اس کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہو گی ۔ یہ مذہبی برادریوں کے لیے الگ لغت مختص نہیں کرتا۔ یہ اکثریت کو اقلیت کی شناخت پر نگران اختیار بھی فراہم نہیں کرتا۔مگر کوٹ دوار جیسے واقعات یہ جیتی جاگتی حقیقت ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں اب آئینی شہریت اور ثقافتی درجہ بندی کے درمیان زبردست تناؤ موجود ہے۔

دیپک کا اقدام بنیادی طور پر آئینی تھا۔ اس نے ایک ہم وطن کو دھمکی اور ہراسانی سے بچانے کی کوشش کی۔ دیپک نے اس مفروضے کو مسترد کر دیا کہ حقوق کا تعین مذہبی یا کسی اور شناخت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس کے ’’محمد دیپک‘‘ والے بیان نے اجاگر کیا کہ وہ ہمدردی کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔مگر اسی کی برادری نے جو ردعمل دیا ، وہ بتاتا ہے کہ بھارت میں آج آئینی اخلاقیات کو اکثر باغیانہ تصّور کیا جاتا ہے، اگر وہ اکثریتی سکون میں خلل ڈال دے۔

بھارت کے لیے آزمائشی کیس

یہ واقعہ کسی کو ہیرو بنانے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس نے حدود کی اہمیت اجاگر کر دیں۔اس واقعے کے بطن سے پھوٹتے یہ سوالات بے چین کر دینے والے ہیں:

٭آج کے بھارت میں کیا ایک مسلمان ہمسائے کا دفاع کرنا اشتعال انگیزی ہے؟

٭کیا معاشی بقا نظریاتی ہم آہنگی سے نتھی ہو چکی ہے؟

٭کیا تکثیریت(pluralism) صرف اسی وقت قابلِ قبول ہے جب وہ خاموش اور تابع دار ہو؟

اگر ان میں سے کسی سوال کا جواب شرط کے ساتھ وابستہ ہو، تو سمجھ لیجیے کہ آج بھارت اخلاقی و قانونی طور پر ایک دوراہے پہ کھڑا ہے۔

دیپک کمار نے مبینہ طور پر امید ظاہر کی ہے کہ اس کا جم بحال ہو جائے گا۔ ممکن ہے ایسا ہو۔منڈیاں بدلتی رہتی ہیں۔ توجہ کا مرکز تبدیل ہوتا رہتاہے۔ کشیدگی ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔لیکن نظیر باقی رہتی ہے…اگر مسلمان سے یکجہتی کرنے کی قیمت قابلِ پیش گوئی ہو جائے تو اگلی بار جب کسی بزرگ دکاندار کو سائن بورڈ پر لکھے ایک لفظ کی وجہ سے گھیر لیا جائے گا، تو کم غیرمسلم مداخلت کریں گے۔اس نظیر کے خوفناک اثرات کوٹ دوار سے باہر پورے بھارت میں پھیل سکتے ہیں۔

اصل مسئلہ ایک جم کی قسمت نہیں…سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کا شہری تصوّر اکثریت کے دباؤ کی وجہ سے مزید سکڑتا جائے گا یا عام لوگ اس بات پر اصرار کریں گے کہ مشترکہ شہریت فرقہ وارانہ استحقاق سے بالاتر ہے۔

کوٹ دوار کا واقعہ یہ سوال دو ٹوک انداز میں اٹھاتا ہے: آج کے بھارت میں عوامی جگہ کی ملکیت کس کے پاس ہے … آئین کے پاس یا سنگھ پریوار کے پاس جو خود کو شد ومد سے اکثریت کا نمائندہ قرار دینے لگا ہے؟اس سوال کا جواب طے کرے گا کہ’’محمد دیپک‘‘ استثنی بن کر رہ جائے گا یا بھارت میں کمزور پڑتی جمہوریت و انسانیت کی بنیادوں مضبوط کرنے کی خاطر ایک مثالی نمونہ ثابت ہوگا۔