(آخری حصہ)
فتح مکہ کے بعد 13 سال تک مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والوں کو عام معافی دے دی گئی ، تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران کے بادشاہ سائرس اعظم نے بھی جب قدیم بابل پر حملہ کیا تو قتل وخون ہوا ، یہ ضرور ہے کہ اُس نے یہودیوں سے اچھا بر تاؤکیا مگر فتح مکہ پر اللہ کے گھر کی حرمت بھی بر قرار رکھی گئی اور کسی کو قتل بھی نہیں کیا گیا۔ اسی طرح دوسرے خلیفہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے زمانے میں جب سپہ سالار ،،ابوعبید بن الجراح نے یروشلم ،، بیت المقدس کا محاصر ہ کر لیا توعیسائی پیشواوں اور حاکم شہر نے ابو عبید بن الجراح سے کہا کہ ہم روایت کے مطابق تمارے حکمران سے معاہدہ کرکے شہر اُس کے حوالے کریں گے اطلاع ملنے پر خلیفہ وقت حضرت عمرؓ مدینہ سے 1200 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے بیت المقدس پہنچے۔
آپ سب کو معلوم ہے کہ اس سفر میں ایک اونٹ تھا اورحضرت عمرؓ اور اُن کا غلام تھا جو باری بار ی اونٹ کی سواری کرتے تھے۔ 16 ہجری میں حضرت عمر ؓ یروشلم پہنچنے پر یروشلم (بیت المقدس ،،ایلیا) کے موقع پر شہر اور بیت المقدس کا قبضہ دینے کے لیے حضرت عمرؓ اور عیسائی پادری بطریک ( سفرونیوس) شہر کے عیسائی قائدین کے درمیان تحریری معاہدہ ہوا ، یہ فتح مکہ کے بعد دین اسلام کی بنیاد پر عالمی انسانی تاریخ میں امن کا بہترین معاہد ہ ہے ، معاہدے کی اہم شرائط یوں تھیں ۔
نمبر 1 ۔ ( جان و مال کا تحفظ اور امن ) شہر کے تمام باشندوں کی جان و مال ، جائیدادوںکو تحفظ دیا جائے گا ، عیسائیوں کے گرجا گھروں (کنائس) اور صلیبوں کو امن اور مکمل تحفظ حاصل ہو گا ۔
نمبر2 ۔ ( مذہبی آزادی ) کسی پر جبر نہیں کیا جا ئے گا ، نہ ہی اُن کے دین میں مداخلت کی ہوگی ، نہ ہی کسی کو کوئی نقصان پہنچا یا جائے گا ۔
نمبر 3 ۔ ( عبادت گاہوں کا تحفظ ) عیسائیوں کے گرجا گھر نہ تو توڑے جائیں گے اور نہ ہی اِن میں رہائش رکھی جائے گی ۔
نمبر4 ۔(جزیہ کی ادائیگی ) شہرمیں رہنے والے شہریوں پر قانون کے مطابق جزیہ مقر ر کیا گیا ، جو اِن شہریوں کو ادا کر نا ہو گا ۔
نمبر5 ۔( یہودیوں سے متعلق عیسائیوں کی درخواست) حضرت عمربن خطاب ؓ نے عیسائیوں کی درخواست پر معاہدے میں یہ تحریر کرایا کہ اس مقدس شہر یروشلم میں عیسائیوں کے ساتھ کو ئی یہودی آباد نہ ہو گا۔ علامہ شبلی نعمانی نے اپنی کتا ب (فاورق اعظم ) میں شام کی فتح اور بیت المقدس کے پُر امن قبضہ لینے پر تفصیل سے لکھا ہے جس میں حضرت عمرؓ کے دور میں اسلامی طرز حکومت اوربین الاقوامی تعلقات کے اعتبار سے واضح ہو جا تا ہے کہ اسلام دنیا میں امن اور سلامتی کا دین ہے۔ میر ا نکتہ نظر یہاں پر یہ ہے کہ تینوں الہامی مذاہب یہودیت ، عیسائیت اور اسلام میں بیت مقدس کو مذہبی طور پر اہمیت و عقیدت حاصل ہے۔ لیکن یہ اسلام کا شرف ہے کہ جس طرح مکہ کی فتح اور کعبہ کا قبضہ نہایت پُر امن فضا میں ہوا اسی طرح یروشلم میں بیت المقد س کا قبضہ بھی نہایت پُر امن ماحول میں ہوا جو انسانی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے اور دنیا کے لیے عالمی تعلقات میں سنہری اصول بھی ہے۔

فتح مکہ کے بعد ریاست مدینہ انسانی تاریخ کی سب سے معیاری ریاست تھی جس میںمیثاق مدینہ مثالی رہا جس کی بنیاد پر ہی فتح مکہ اور فتح یروشلم کے بعد کعبہ اور بیت المقدس کی نہ صرف حرمت کو اعلیٰ اخلاقی انسانی قدروں کے ساتھ دنیا کے سامنے مثال بنا دیا بلکہ دونوں شہروں کو حرم قرار دے کر انسان کو مکمل امن اور تحفظ فراہم کیا۔ نبی کریم ﷺ نے ریاست مدینہ کے حاکم کی حیثیت سے عالمی تعلقات کے لیے مثالی معیار مقرر کئے ، اسلا م نے نہ صرف سفیر کے لیے مکمل تحفظ کا اصول واضح کیا بلکہ اُنہوںؓ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی ،ہرقل ،،قیصرِ روم اورشاہ فارس کو خطوط لکھے جن کا متن آج بھی سفارتی آداب کی مثال ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایران کے بادشاہ نے رعونت کا مظاہرہ کیا۔ یوں تو ہمیں بہت سی احادیث بھی مسلم اتحاد اور اقوام عالم سے تعلقات کے اعتبار سے ملتی ہیں، نبی ﷺ نے خطبہ حج میں رنگ و نسل کی تقسیم کو ختم کر کے اعلیٰ انسان کا معیار،، علم اور تقویٰ ،،کو قرار دیا۔
میگنا کارٹا اور مثاق مدینہ کا موازانہ
میثاق مدینہ 622 ء میں ہوا جبکہ میگناکارٹا 1215 ء میں وجود میں آیا۔ میگانا کارٹا میں بر طانیہ کے بادشاہ سے جاگیر داروں نے ا ختیارات طاقت اور دباؤ کیذریعے لیے ،جبکہ میثاق مدینہ میںمسلمانوں کے صاحب الرائے افراد کی مجلس شوریٰ تھی اور یہودی قبائل کی بد عہدی سے قبل ریاست کے سیاسی انتظا می امور میں ان سے بھی مشاورت کی جا تی تھی۔ پھر بنی کریم ﷺ کے وصال کے بعد دنیا میں مثالی جمہوریت خلفا راشدین کی تھی۔ مجلس شوریٰ صاحب الرائے ،،صحابہ خلیفہ کو منتخب کر تے پھر لوگ اُس کے ہاتھ پر بیعت کر تے تھے۔
مستحکم عالم اسلام کی ضرورت
اب ہم موضوع کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں۔ گذشتہ سطور میں عالمی تعلقات کی تعمیر کے اسلامی اصولوں کو بیان گیا۔ بنی کریمﷺ کے زمانے، پھر حضرت عمرؓ اور اِن کے بعد ریاستِ مدینہ مسلسل وسعت اختیار کر رہی تھی اور کسی نہ کسی درجے پر 1918 ء میں خلا فت ِعثمانیہ کے خاتمے تک عالم اسلام مستحکم تھا۔ پھر نہ صرف خلافتِ عثمانیہ ختم ہو ئی بلکہ 1945 ء میں دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک صرف تین اسلامی ملک آزاد تھے ، ترکیہ ، سعودی عرب اور افغانستان۔ جنگ ِ عظیم اوّل کے خاتمے سے دو برس قبل میثاق مدینہ کے 1222 سال بعد 1916 ء میںقائد اعظم کی کوشش سے کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان مشترکہ ہندوستان کے مفاد میں میثاق لکھنو طے پا یا جس میں 30% مسلم آبادی کی مذہبی شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے آبادی کے تناسب سے تمام شعبوں میں حق دینے کاعہدہ کیا گیا۔ میثاق لکھنو کو کانگریس نے 1928 ء کی نہرو رپورٹ میں توڑدیا۔ میثاق مدینہ میں بھی ریاست میں دوقوموں یہودی اور مسلم کے درمیان مذہبی قومی شناخت کے ساتھ ریاست کے مشترکہ مفاد کی بات تھی۔ میثاق لکھنو میں بھی ایسی ہی صورت تھی البتہ مدینہ میں مسلم اکثریت تھی ہندوستان میں ہند و اکثریت تھی۔ خلافت ِعثمانیہ کے خاتمے پر مولانا محمد علی جوہر نے تحریک ِخلافت چلائی، خلافت کا دکھ قائداعظم اور اقبال کو بھی تھا۔ اقبال نے1911 ء میں جنگ طرابلس کا دکھ بھی امت پر آشکار کیا تھا اُن کی پُر اثر نظمیں 1912-13 ء جنگ بلقان پر بھی تھیں یہ علاقے خلافت ِ عثمانیہ کی کمزوری کی وجہ ہارے گئے اقبال نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے پر رجائیت کا دامن نہ چھوڑا اور کہا۔
اگر عثمانیوں پہ کوہء غم ٹو ٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہو تی ہے سحر پیدا
مگر تحریکِ خلافت میں جناح اور اقبال نے کردار ادا نہیں کیا۔ اس کی بنیاد ی وجہ یہ تھی کہ صدیوں سے اسلامی دنیا میں خلافت، ملوکیت میں تبدیل ہو گئی تھی اقبال کو 1492 ء میں اسپین میں مسلم سلطنت کے خاتمے کا بھی افسوس تھا۔ اُن کے سامنے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا زوال بھی تھا ، سنٹرل ایشیا کی ریاستوں پر روس کا قبضہ اُنہوں نے دیکھا تھا ، لیکن اُنہیں معلوم تھا کہ ’سحر پیدا ہو گی‘ عالم اسلام کا اتحاد اقبال اور قائد کی نظرمیںجدید تقاضوں کے مطابق تھا۔ باوجود صدیوں کے زوال کے مسلمانوں میں امت کی بنیاد پر اتحاد کا جذبہ زندہ رہا مگر عثمانی خلافت کے بعد یہ جذبہ مزید بڑھا۔ اس دوران دنیا میں پہلی بڑی تبدیلی جنگِ عظیم کے خاتمے پر ہوئی جب دنیا میں چار سلطنتیں ،زار روس سلطنت، جرمن سلطنت ، ترکی کی عثمانیہ سلطنت اورسلطنت ِ آسٹروہنگیرین ختم ہو گئیں۔ برطانیہ کمزور ہو ا ،نئی سپر پاور امریکہ وجود میں آگئی۔ پہلی عالمی جنگ طیاروں ٹینکوں سے لڑی گئی۔ دوکروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری تبدیلی کے آغاز پر دوسری عالمی جنگ ہوئی جس کا اختتا م دو ایٹم بم گرانے پر ہو ا۔ آٹھ کروڑ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ قائم ہو ا۔ دنیا میںیک طاقتی نظام ہوا امریکہ سپر پاور تھا۔ 1949 ء میں سوویت یونین بھی ایٹمی قوت بن گیا ،سرد جنگ کے آغاز سے ہی دنیا میں دو طاقتی نظام قائم ہوگیا جس سے دنیا متوازن رہی۔ 1970 ء تک اقوام متحدہ میں ممالک کی تعداد 127جس میں مسلم ممالک 35 تھے۔ کشمیر اور فلسطین پر دو، دو جنگیں ہو چکی تھیں۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل بڑی قوت بن چکا تھا۔ سرد جنگ جاری تھی۔ کوریا ِجنگ ،سوئز کنال اور کیوبا میزائل بحران ہو چکے تھے۔ 1967 ء کی جنگ میں شکست کے بعد عرب ممالک خصوصاً مصر صدر ناصر اسرائیل کی بالادستی سے دباؤ کا شکار تھے۔ 1974 ء لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس ہو ئی جس میں مسلم اتحاد کی عملی صورت دکھائی دی۔ اس کی بنیادی کامیابی یہ تھی امریکہ اور روس نواز اسلامی ممالک کے سربراہوں نے ایک صف میں نماز پڑھی۔ بادشاہ ، انقلابی ، اشتراکی سب اپنے مختلف طرز حکمرانی اور سیاست کے باوجود مسلم اتحاد کے مرکز پر جمع ہو ئے۔ مغربی قوتوں نے فوری طور پر تیل کی بڑھی ہو ئی قیمتوں کو قبول کیا لیکن اس کے لیے تین سطحی اسٹرٹیجی بنائی۔

مسلم اتحاد اور اس کے سرگرم سربراہوں کا خاتمہ
تیل کے نئے ذخائر کی تلاش اور متبادل توانائی کے لیے ریسرچ ،1979 ء تک ایران اور پاکستان میں اسلامی نظام کی گونج اٹھی تو سوویت یونین کو خوف محسوس ہوا کہ یہ صورتحال افغانستان سے ہو تی سنٹرل ایشیا کے اسلامی ممالک تک پہنچے گی یوں سوویت یونین نے فوجیں اٖفغانستان میں داخل کر دیں۔ یہ دنیا میں تیسری تبدیلی کا آغازتھا۔ سوویت یونین مصر کو میزائلوں سپلائی میں تعطل کر چکا تھا، ردعمل میںمصر امریکی کیمپ میں چلا گیا۔ سوویت یونین سے غلطیاں ہو ئیں ، بنیادی وجہ یہ تھی کہ جن اسلامی ملکوں میں سوویت اثر تھا کسی میں بھی مشرقی یورپ کی طرح کیمونزم نہیں آیا۔ 1980 ء میں USSR کی کل آبادی سوا 26 کروڑ تھی جس میں 17% یعنی ساڑھے چار کروڑ مسلمان تھے۔ افغان جنگ میں یہی خوف سوویت یو نین کی شکست کا سبب بنا۔ 1990کی دہائی میں امریکہ پھر واحد سپر پاور بن گیا۔ 1995 میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد 185 تھی، مسلم ممالک 55 تھے۔ سنٹرل ایشیا کے مسلم ممالک بھی آزاد تھے مگرمسلم ممالک متحدہ نہیں تھے بلکہ کچھ ممالک کے دوسرے خلاف پروکسی جنگ کا حصہ تھے۔ نائیون الیون کے بعد سے سوڈان ، عراق، شام ، لبنان ، افغانستان ، یمن ، پاکستان ، ایران براہ راست یا بڑی قوتوں سے پراکسی جنگ کا شکار ہو ئے۔ یقیناً اقوام متحدہ نے بھی مغربی الزامات کو درست قرار دیا مگر بہت سے اسلامی ممالک ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو ئے۔ اس پُر آشوب دور میں چین نے خود کو تنازعات سے بچا کر اپنی ترقی کے رستے اور سفر کو محفوظ رکھا۔ امریکی پشت پناہی سے جاری ہو نے والے WTO اور نیوورلڈ آڈرسے اپنی اقتصادیات کو ہم آہنگ کیا اور جلد دنیا کی دوسری اقتصادی اورتیسری فوجی قوت بن گیا۔ یہ امریکہ کے لیے چیلنج تھا۔ حقیقت میں 2018 ء سے دنیا متنوع طاقتی نظام کے زیرے اثرا آچکی ہے۔ Make America Great Again نعرہ اس کا اعتراف ہے، یعنی پہلے امریکہ عظیم تھا اب نہیں، دوبار بننا چاہتا ہے۔ یہ دنیا میں چوتھی تبدیلی کا آغاز ہے۔ بھارت مکمل سپر پاور نہیں ہے لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت امریکہ کی طفیلی سپر پاور ہو جس کو بھارت تسلیم نہیں کر رہا۔ جون 2025 ء سے ایران ، امریکہ ، اسرائیل جنگ نے دنیا اور خصوصاً اسلامی دنیا کو 1973 ء کی عرب اسرائیل جنگ سے زیادہ فیصلہ کن اور خطر ناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ 1973 ء میں باوجود سرد جنگ دنیا دوطاقتی توازن میں تھی اب گذشتہ آٹھ سال سے دنیا عسکری ، اقتصادی ، اسٹرٹیجیکل طور پر تبدیل ہے البتہ ابھی تک Reshape نہیں ہوئی۔ ایران ، امریکہ اسرائیل جنگ میں مشرق وسطیٰ کی سیکورٹی کا ذمہ دار امریکہ عرب ممالک کو اربوں ڈالر کے اسلحہ ، اپنے اڈوں کے باوجود تحفظ نہیں دے سکا ہے ، اس کی وجہ چین ، روس ، ایران ، شمال کو ریا کی جانب سے ڈرون اور جدید میزائلوں کی تیاری اِن کے سیکورٹی سسٹم سائبر اوراے آئی ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں ہیں۔ یوں سمندرروں میں Aircraft carrier ٹینک جدید لڑکا طیارے وہ کار کردگی نہیں دکھا سکے جو نائن الیون سے 2018 ء تک دکھا تے رہے ، 1973ء کی جنگ کے بعد اسلامی سربراہان متحد ہو ئے تھے ابھی ایسا نہیں ہے۔ اس بار بھی مسئلہ تیل بطور ہتھیار ہے مگر یہ عرب ممالک ، چین ، بھارت اور ایران کے درمیان تجارتی اقتصادی بحرانوں اور پالیسی تضادات کی بنیاد ہے۔ پھر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ 1974 ء میں قائم ہو نے والا مسلم سربراہی اتحاد اور مفاہمت کا رستہ کیوں آپس کے تصادم میں تبدیل ہو گیا؟
آخر میں اس مضمون کے عنوان کے اعتبار سے آج کی مسلم دنیا کے اتحاد کو قابل عمل بنانے کے فارمولے پر بات کی جائے گی۔ آج OIC کے پلیٹ فارم سے میثاق مدینہ ، صلح حدیبہ ، فتح مکہ و یروشلم کی اصولوں کی بنیاد پر 57 اسلامی ممالک کو نئے معاہدے( میثاق مکہ) کی ضرورت ہے۔ یہ میثاق مکہ کیسا ہو گا؟اسلامی ممالک گذشتہ 45 برسوں سے دہشت گردی اور دہشت گردی کے الزامات کی زد میں ہیں۔ اسلامی ممالک بہت سے گروپوں کی پر وکسی جنگوںکا شکار ہیں، جنکی پشت پناہی اسلامی اور دیگر ممالک کررہے ہیں۔ پہلے اسلامی ممالک خفیہ طور پر دہشت گردی کی وجوہات اور واقعات پرReconciliation Commission کی بنیاد پر اعتراف کریں، پھر متفق ہو کر دوبارہ ایسا نہ کرنے کا عہد کریں۔ پاکستان اور قطر نے حال ہی میں ایران امریکہ ، اسرائیل جنگ بند ی اور مفاہمتی عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے، ایسے اہم ممالک میثاق مکہ میں OIC کی جانب سے دیئے گئے اعتمادکے ساتھ کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسلامی ممالک ایک دوسرے کی حکمرانوں اور طرز حکمرانی کو کھلے دل سے تسلیم کر یں اور اس بنیاد پر مداخلت کی پالیسی کو ترک کر دیں۔ اسلامی ممالک اپنے فرقہ وارانہ نظریات کی تبلیغ دلائل کے ساتھ ضرور پیش کریں لیکن عسکری بنیاد پر دوسرے ممالک میں اس کو منتقل نہ کریں۔ واضح رہے کہ سوویت یونین جیسی بڑی قوت اسی وجہ سے بکھر گئی۔ گذشتہ 108 برسوں میں امریکہ کچھ عرصہ واحد سپر طاقت رہا جو دنیا کے لیے خطرناک تھا ،سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین اور امریکہ کی بنیاد پر دنیا میں دو قوتی نظام رائج رہا جو عالمی امن کے حق میں قدرے بہتر تھا۔ اب اس دنیا میں امریکہ ، روس ، اور چین سہہ طا قتی نظام ہے جو مستقبل قریب میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسر ے درجے پر بھارت ، برطانیہ، پاکستان ، ترکیہ ،شمالی کوریا، اسرائیل ، ایران ، سعودی عرب ، جاپان ، (یورپی یونین مشترکہ دفاع) یا فرانس ، جرمنی کی بنیاد پر دنیا متنوع طاقتی عالمی نظام Multipolar World کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ یہ دنیا کے لیے خطرناک صورتحال ہو گی۔ دنیا میں پروکسی جنگیں زیادہ شدت اختیار کر جائیں گی جس کا سب سے زیادہ نقصان اسلامی ملکوں کو ہو گا۔ اس لیے فوری طورپر 57 اسلامی ممالک اس سے بچنے کے لیے حکمت عملی تیار کر یں۔ پہلے خود اسلامی ممالک آپس میں اعتماد کی بحالی کے ساتھ دہشت گردی اور پروکسی جنگوں کا خاتمہ کریں، پھر غیر اسلامی ممالک کو مطمئن کریںکہ کسی بھی اسلامی ملک سے دہشت گردی کسی دوسرے ملک میں منتقل نہیں ہو گی، اس میں امریکہ، آسٹریلیا ، کینیڈا، روس ، بھارت ، چین ، برطانیہ ، یورپی یونین ، خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسلامی ممالک اپنے تمام قومی علاقائی سطح کے نشانات ، لوگو ، مونوگرام جن سے ہمارا image متاثر ہو تا ہے ان کو سافٹ میں تبدیل کریںجیسے چین نے ڈریگن کے ساتھ بھولے اور معصوم صورت پانڈا کو متعارف کروایا۔ OIC کا ہیڈ کوارٹر سعودی عرب ہے۔ ’میثاق مکہ‘ کا احتمام کعبہ کے احاطے میں ہو ، میثاق ِ مکہ کے طے پا جانے پر تمام سربراہان کعبہ کا طوائف کریں نماز شکرانہ ادا کریں دعا کریں کہ57 اسلامی ممالک اوردنیاکے تقریباً دو ارب مسلمان ،اس حرم کی طرح دنیا بھر میں امن اور سلامتی کے ذمہ دار ہونگے۔ میثاق مکہ کا مثبت اثر انشا للہ پوری دنیا پر ہو گا۔