ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا انتقام ناگزیر ہے اور یہ سخت اور کچل دینے والا ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر جاری بیان میں کہا کہ حماس کے سابق سیاسی بیورو چیف کی شہادت نے فلسطینی عوام اور حماس کے مجاہدین کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے تاکہ وہ ان کے راستے کو جاری رکھیں جبکہ اس سے مزاحمت کے نظریے کو بھی تقویت ملی ہے اور فلسطین کے لیے عالمی حمایت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ 31 جولائی 2024 کو تہران میں ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں سرکاری مہمان کی حیثیت سے شرکت کے دوران اسماعیل ہنیہ کی شہادت ایک بڑا جرم تھا، جو بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ ایران کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھی کھلی خلاف ورزی تھی۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس قتل کو دو سال گزرنے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری نسل کشی، جنوبی لبنان تک جنگ کے پھیلاؤ اور اس کے بعد ایران کے خلاف جنگوں نے اسرائیلی حکومت کی دہشت گرد اور مجرمانہ فطرت کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے امریکا اور متعدد مغربی ممالک کو بھی اسرائیل کی فوجی اور سیاسی حمایت پر تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ اس حمایت کی وجہ سے وہ فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی میں شریک ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای، اسماعیل ہنیہ، حزب اللہ کے سابق سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ اور جنرل قاسم سلیمانی سمیت ایرانی، فلسطینی اور لبنانی شہدا کا خون استکبار اور صہیونیت کے خلاف مسلمانوں کے مقدس اتحاد کی علامت ہے۔
مزید بتایا گیا کہ فلسطین کے لیے عالمی حمایت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا ثبوت دنیا بھر میں غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف ہونے والے بڑے پیمانے پر مظاہرے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے حماس کو غیر مسلح کرنے کی مبینہ سازشوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تمام کوششیں ناکام ہوں گی اور اسماعیل ہنیہ کی کوششوں کو اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک فلسطینی عوام کی امنگیں پوری نہیں ہو جاتیں۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ اسماعیل ہنیہ اور سابق سپریم لیڈر کے قتل کا انتقام ناگزیر ہے اور یہ سخت اور کچل دینے والا ہوگا۔