دنیا کی معاصر سیاست ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں طاقت کے مظاہرے اور سفارتی بیانات کے درمیان فاصلہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابت، علاقائی مفادات اور نظریاتی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے، ایک مرتبہ پھر ایسے بحران کی زد میں ہے جس کے اثرات محض چند ممالک تک محدود نہیں رہ سکتے۔
کویت کی فضائی حدود میں ڈرونز کی موجودگی اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش، ایران کی جانب سے ہمسایہ ریاستوں کو دی گئی سخت تنبیہات، امریکا کی اپنے شہریوں کو خطہ چھوڑنے کی ہدایات، اسرائیل کے دفاعی نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ، امریکی عسکری وسائل کے تیزی سے سکڑتے ہوئے ذخائر اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی بے یقینی اس حقیقت کی نشان دہی کر رہی ہے کہ موجودہ کشیدگی محض روایتی سفارتی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں کسی بھی معمولی غلط اندازے کی قیمت پورے خطے کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
خلیجی ریاستیں اس بحران میں سب سے زیادہ نازک حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک طرف ان کے معاشی مفادات عالمی توانائی منڈی سے وابستہ ہیں، دوسری جانب ان کی سلامتی کے انتظامات بڑی حد تک امریکی عسکری موجودگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران بار بار یہ موقف اختیار کر رہا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سرزمین اور بنیادی ڈھانچے کو امریکی فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہونے دیں، جب کہ خلیجی تعاون کونسل ایران کے اقدامات کو ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ طرز عمل قرار دے رہی ہے۔
اس باہمی عدم اعتماد نے خلیج کی سلامتی کو ایک ایسے توازن پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر نیا واقعہ کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ کویت میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، کیونکہ اس نے یہ سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو کیا خلیجی ریاستیں خود کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھ سکیں گی؟امریکا کے طرزعمل میں بھی غیر معمولی تضاد نمایاں ہے۔ ایک طرف واشنگٹن ایران کے خلاف سخت بیانات، عسکری تیاریوں اور اسرائیل کی مکمل حمایت کا اظہار کر رہا ہے، دوسری طرف اس کے سفارت خانے اپنے شہریوں کو خطہ چھوڑنے اور سفر سے اجتناب کی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ عام حالات میں ایسی ہدایات معمول کی احتیاط سمجھی جا سکتی ہیں، مگر جب یہی انتباہ بیک وقت بحرین، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب، عمان، متحدہ عرب امارات، لبنان اور اسرائیل میں جاری کیا جائے تو اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ امریکی ادارے خود بھی خطرات کے دائرے کو غیر معمولی سمجھ رہے ہیں۔
کسی بھی ریاست کی جانب سے اپنے شہریوں کو انخلا کی تیاری کا مشورہ دراصل اس خدشے کا اظہار ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں حالات اچانک قابو سے باہر جا سکتے ہیں۔ اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ امریکا اور اسرائیل ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں، اگر ایسی کسی کارروائی کی نوبت آتی ہے تو اس کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ توانائی کی عالمی رسد، تیل کی قیمتیں، بحری نقل و حمل، بیمہ کی لاگت اور عالمی منڈیوں کا اعتماد یکساں طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ ایسی صورت میں وہ خطے میں امریکی انفراسٹرکچر اور توانائی تنصیبات کو جواب کا ہدف بنا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کا محور صرف عسکری اڈے نہیں رہیں گے بلکہ معاشی اعصاب بھی اس تصادم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی رسد کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اگر اس راستے پر عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات ایشیا، یورپ اور افریقہ کی معیشتوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ عالمی تجارت کی رفتار، بحری کرایوں میں اضافہ، توانائی کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی بے یقینی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی محدود عسکری تصادم کو عالمی معاشی بحران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
ایران کی سفارتی سرگرمیوں نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ تہران محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ علاقائی رابطوں کو بھی اہمیت دے رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح رابطوں کا مقصد صرف اطلاعات کا تبادلہ نہیں بلکہ خطے کے اہم ممالک کو اپنی پوزیشن سے آگاہ کرنا اور ممکنہ بحران کے سیاسی اثرات کا اندازہ لگانا بھی ہے۔ یہ رابطے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سفارت کاری اور عسکری تیاری بیک وقت آگے بڑھیں گی، کیونکہ کسی بھی فریق کے لیے مکمل جنگ کا راستہ آسان نہیں، مگر دباؤ برقرار رکھنا اس کی حکمت عملی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔
موجودہ بحران کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے امریکا اور اسرائیل کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں کئی ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جو چند ماہ قبل تک محض قیاس آرائی سمجھے جاتے تھے۔ امریکی یورپی کمانڈ کے سربراہ جنرل الیکسس گرینکیوِچ کی جانب سے اعلیٰ عسکری قیادت کو بھیجا گیا انتباہ اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں پہلی مرتبہ یہ اعتراف سامنے آیا ہے کہ اسرائیل کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں سے مسلسل تحفظ فراہم کرنا امریکی بحری قوت کے لیے دشوار ہوتا جا رہا ہے، اگر کسی عالمی طاقت کو اپنے دفاعی وسائل کی محدودیت کے باعث اتحادی کے تحفظ اور اپنی سرزمین کے دفاع میں ترجیح کا تعین کرنا پڑے تو یہ صرف عسکری مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس کی عالمی حکمتِ عملی اور ساکھ سے جڑا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس اعتراف سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ طویل جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اسلحے کے ذخائر، رسد، مرمت، افرادی قوت اور معاشی استطاعت کی بنیاد پر بھی لڑی جاتی ہیں۔
اسرائیل نے گزشتہ برسوں میں اپنے دفاعی نظام کو ناقابل تسخیر قرار دینے کی بھرپور کوشش کی، تاہم موجودہ صورتِ حال یہ بتا رہی ہے کہ جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی بھی اس وقت دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے جب حملوں کی شدت، تسلسل اور حجم معمول سے بڑھ جائے۔ امریکا کے میزائل شکن نظاموں کا غیر معمولی استعمال، بحیرہ روم اور بحیرہ عرب میں جنگی جہازوں کی مسلسل تعیناتی اور ان کی دیکھ بھال سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کسی بھی طویل تنازع میں صرف ہتھیاروں کی برتری کافی نہیں ہوتی، بلکہ ان وسائل کو برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، اگر یہی دباؤ برقرار رہا تو واشنگٹن کو اپنے عسکری وسائل مختلف محاذوں کے درمیان تقسیم کرنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف خطوں میں امریکا پہلے ہی متعدد سیکیورٹی ذمے داریاں نبھا رہا ہے۔
یہ صورتِ حال امریکی اتحادیوں کے لیے بھی باعث ِ تشویش بنتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی تجزیوں میں یہ خدشہ نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری دباؤ اپنی مطلوبہ سیاسی اور عسکری کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ کئی ماہ کی کشیدگی کے باوجود نہ تو ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا جا سکا اور نہ ہی اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کیا جا سکا۔ اسی طرح آبنائے ہرمز پر تہران کا اثرورسوخ بھی برقرار ہے، جو اس پورے تنازع کا سب سے حساس پہلو ہے۔ کسی بھی عسکری مہم کی کامیابی کا پیمانہ صرف مخالف کو نقصان پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے بنیادی اہداف سے محروم کرنا بھی ہوتا ہے، اگر وہ اہداف بدستور قائم رہیں تو طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجود سیاسی کامیابی مشکوک ہو جاتی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ نقصان اُن ممالک کو پہنچنے کا خدشہ ہے جو براہِ راست جنگ کا حصہ نہیں، مگر جغرافیہ انھیں اس بحران کے عین وسط میں لا کھڑا کرتا ہے۔ خلیجی ریاستوں کی معیشت، عالمی سرمایہ کاری، بندرگاہوں کی سرگرمیاں، فضائی نقل و حمل، توانائی کی برآمدات اور بحری تجارت سب اسی خطے سے وابستہ ہیں۔ اگر عسکری کارروائیاں ان مراکز تک پھیلتی ہیں تو اس کے نتائج صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی ہوں گے۔ اسی لیے خطے کے تمام ممالک کو ایسی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو انھیں بڑی طاقتوں کی محاذ آرائی کا ایندھن بننے سے بچا سکے۔ غیر جانب دار سفارت کاری، مسلسل رابطے اور بحران کو محدود رکھنے کی کوششیں آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے اہم ممالک کے لیے بھی موجودہ حالات نہایت حساس ہیں۔
ایک جانب مختلف فریق ان کی سیاسی حمایت یا سفارتی کردار کے خواہاں ہیں، جب کہ دوسری جانب ان ممالک کے اپنے معاشی، دفاعی اور داخلی مفادات کسی وسیع علاقائی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ایسے ماحول میں دانش مندانہ طرزِ عمل یہی ہے کہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے مذاکرات، ثالثی اور اعتماد سازی کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بحران میں کسی ایک فریق کی عسکری کامیابی پورے خطے کے امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ طاقت کے استعمال سے وقتی برتری حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن دیرپا استحکام صرف سیاسی تدبر، سفارتی بصیرت اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔ آج ضرورت طاقت کے اظہار سے زیادہ عقلِ سلیم، تحمل اور موثر سفارت کاری کی ہے، کیونکہ جنگ کا آغاز تو آسان ہوتا ہے، مگر اس کا انجام اکثر کسی ایک فریق کے اختیار میں نہیں رہتا۔