سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو اٹھارواں سال چل رہا ہے اور ایم کیو ایم کی طرف سے کبھی کراچی کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے کبھی کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں ہوتی ہیں جن کا مقصد کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنا ہے جس کی حمایت سندھ میں ایم کیو ایم کے سوا کوئی سیاسی پارٹی نہیں کرتی مگر اصل بات یہ ہے کہ ایسے مطالبے پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہی کیوں ہوتے ہیں اور ایسے مطالبات کی وجوہات کیا ہیں اور وہ کیوں پیدا ہوئیں۔
سندھ میں پی پی دور سے قبل آٹھ سال جنرل پرویز مشرف کی حکومت رہی جس میں ایم کیو ایم وفاقی اور سندھ حکومتوں میں شامل رہی اور جنرل پرویز مشرف کا تعلق کراچی سے تھا اسی طرح پی پی کی دو بار کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے تینوں بچوں کا تعلق بھی کراچی سے تھا کیونکہ ان چاروں کی پیدائش کراچی میں ہوئی تھی اور اپنے پیدائشی شہر کو ہر کوئی اون کرتا اور اس سے قدرتی طور محبت کرتا ہے جسے وہ کبھی نہیں بھولتا مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔
یوں تو کراچی کے ممنون حسین اور عارف علوی بھی آئینی صدر رہے جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی سے ہے اور موجودہ آئینی صدر آصف زرداری کراچی میں پیدا نہیں ہوئے تھے مگر ان کا قریبی تعلق کراچی سے ضرور ہے جنھوں نے کراچی میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد کا بھی کراچی میں کاروبار تھا اور خود صدر مملکت کے بھی کراچی میں ذاتی دوستیاں اور بہت گہرا تعلق ہے جنھوں نے اپنے آبائی علاقے میں اتنا وقت نہیں گزارا جتنا کراچی میں گزارا۔ آصف زرداری نے شادی کے بعد کراچی سے ہی سیاست شروع کی وہ لیاری سے قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہو چکے ہیں اور بلاول ہاؤس بھی کراچی ہی میں سب سے پہلے قائم ہوا تھا اور اب بھی ان کا زیادہ وقت کراچی ہی میں گزرتا ہے۔
سندھ میں لسانی فسادات پہلی بار پی پی کی حکومتوں میں ہوئے تھے جس کے بعد وزیر اعظم بھٹو نے اپنے کزن ممتاز بھٹو کی جگہ معتدل مزاج غلام مصطفیٰ جتوئی کو سندھ کا وزیر اعلیٰ بنایا تھا اور سندھ میں دس سال کے لیے کوٹہ سسٹم نافذ کرکے دیہی سندھ کا ساٹھ فی صد اور شہری سندھ کا چالیس فی صد کوٹہ مقرر کیا تھا اور سندھ میں لسانی صورتحال ختم ہوگئی تھی۔
1988 میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم منتخب ہوئیں تو انھوں نے ایک اور معتدل شخص آفتاب میرانی کو وزیر اعلیٰ سندھ بنایا تھا مگر 1990 میں سندھ کے حالات پھر لسانی کشیدگی کی طرف گئے یا شریف وزیر اعلیٰ کو ناکام بنانے کی سازش ہوئی جس کے نتیجے میں اندرون سندھ سے دوبارہ نقل مکانی ہوئی اور اسی سال بے نظیر حکومت ختم کر دی گئی تھی۔بے نظیر بھٹو کے دوسرے اقتدار میں قائم علی شاہ اور موجودہ وزیر اعلیٰ کے والد عبداللہ شاہ وزیر اعلیٰ رہے،ان کے دور میں کراچی پھر لسانی فسادات کی بھینٹ چڑھایا گیا ، ان کے دور میں خود ان کے بھائی اور بانی ایم کیو ایم کے بھائی اور بھتیجے کو قتل کیا گیا جس کے بعد (ن) لیگی دور میں لیاقت جتوئی اور (ق) لیگ کے دور میں ارباب غلام رحیم، علی احمد مہر اور مظفر شاہ بھی وزیر اعلیٰ رہے اور جام صادق سمیت کسی وزیر اعلیٰ کے دور میں سندھ میں لسانی فسادات نہیں ہوئے اور کوٹہ سسٹم بھی برقرار رہا جو متنازعہ ہونے کے باوجود اب بھی برقرار ہے۔
ایم کیو ایم کوٹہ سسٹم کو لسانی تنازع، شہری آبادی کے ساتھ مسلسل ناانصافی، کراچی و حیدر آباد کو حکومتی سطح پر نظرانداز کیے جانے، ترقیاتی منصوبے نہ دینے، کوٹہ سسٹم پر عمل نہ ہونے اور خاص کر شہری سندھ کے اردو بولنے والوں کو سرکاری ملازمتیں نہ دینے اور کراچی میں تمام اہم سرکاری عہدوں پر اردو بولنے والوں کی تعیناتی کے شکوے کرتی آ رہی ہے۔ ایم کیو ایم جنرل مشرف دور میں کوٹہ سسٹم کیوں ختم نہ کرا سکی تھی، اس کا جواب ایم کیو ایم رہنماؤں کے پاس نہیں اور نہ انھوں نے وہ مطالبے کیے تھے جو اب پی پی حکومت میں مسلسل کیے جا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی حکومت اور رہنماؤں کو یہ مطالبات پسند نہیں اور وہ سندھ کو قومی وحدت قرار دیتے ہیں مگر ایم کیو ایم کی شکایتوں کا جواب دینے کی بجائے ماضی کی ایم کیو ایم کی دہشت گردی کے پرانے مردے اکھاڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ کراچی صوبے یا اسے وفاق کے حوالے سے سندھ میں لسانی صورتحال بگڑنے کے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں جس کا ثبوت سوشل میڈیا پر چلنے والے مواد سے ملتا ہے جو ایک بار پھر نفرتیں بڑھانے میں سرگرم ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری وحدت کی علامت ہیں اور محترمہ کے بعد سندھ میں لسانی فسادات نہ ہونے کا سہرا بھی صدر زرداری کے سر ہے اور اس سلسلے میں ان کا مزاج بھی مختلف ہے مگر سندھ میں حکومت بلاول زرداری کے کنٹرول میں ہے ۔ پیپلز پارٹی قیادت کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ صرف سندھ میں پی پی حکومت میں متنازعہ بیانات کیوں فروغ پاتے ہیں؟