اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ سے زائد افراد اپنے پیدائشی ملک سے باہر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں لاکھوں پاکستانی بھی شامل ہیں، جو مشرق وسطیٰ، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر خطوں میں محنت کرکے نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ ترسیلات زر کی صورت میں پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔اس روشن تصویر کا ایک تاریک رخ بھی ہے۔
ہر سال ہزاروں افراد جرائم پیشہ نیٹ ورکس، بدعنوان بھرتی ایجنسیوں یا بے ایمان آجروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار بنتے ہیں۔ بعض کو وعدے کے مطابق تنخواہ نہیں ملتی، بعض کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں، بعض سے غیر قانونی فیس وصول کی جاتی ہے، جب کہ بعض کو ایسے حالات میں کام کرنا پڑتا ہے جنھیں بین الاقوامی قوانین جبری مشقت یا جدید غلامی سے تعبیر کرتے ہیں۔میڈیا میں آنے والی ایک اہم خبر کے مطابق اٹلی کے شہروں ساوونا اور برگامو سمیت مختلف علاقوں میں سیکیورٹی اداروں نے بھارتی اور پاکستانی شہریوں کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن، جسے ’’آپریشن پنجابی‘‘ کا نام دیا گیا، کے دوران غیر ملکی مزدوروں کے استحصال کے ایک منظم نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے۔خبر کے مطابق جینوا کے نئے ڈیم کی تعمیراتی سائٹ پر غیر ملکی مزدوروں کا بڑے پیمانے پر استحصال کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے آٹھ افراد کو گرفتار کیا، جن میں سات بھارتی اور ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔ اس کے علاوہ چار اطالوی شہریوں سمیت پانچ افراد سے مزید تفتیش جاری ہے، جب کہ دو اطالوی کمپنیوں کو بھی تحقیقات کے دائرے میں لایا گیا ہے۔
ان کمپنیوں نے غیر ملکی مزدوروں،(جن میں زیادہ تر پاکستانی اور بھارتی شامل تھے)، کو کاغذی کارروائی مکمل کرکے بظاہر باقاعدہ ملازمت پر رکھا، لیکن بعد ازاں انھیں بلیک میل کرکے ان کی تنخواہ کا 40 سے 60 فیصد حصہ نقد رقم کی صورت میں واپس لے لیا جاتا تھا۔ اس غیر قانونی کٹوتی کے بعد مزدوروں کی حقیقی اجرت صرف پانچ سے سات یورو فی گھنٹہ رہ جاتی تھی، جب کہ ان سے ماہانہ 250 گھنٹے تک سخت مشقت لی جاتی تھی۔ان غیر ملکی مزدوروں کی اکثریت فلوسی امیگریشن پروگرام کے تحت قانونی طور پر اٹلی پہنچی تھی۔بعض مقامات پر تیس، تیس مزدوروں کو ایک ہی اپارٹمنٹ میں رکھا گیا تھا۔
ظلم کی انتہا یہ تھی کہ اگر کوئی مزدور شدید بیمار ہو جاتا تو اسے علاج کی سہولت فراہم کرنے کے بجائے ملازمت سے نکال دیا جاتا تھا۔بغیر دستاویزات رکھنے والے مزدوروں کو کام پر رکھنے کے لیے یہ گروہ دوسرے افراد کے پاسپورٹ استعمال کرتا، ان پر تصاویر اور دیگر معلومات تبدیل کرتا اور جعلی دستاویزات تیار کرتا تھا۔اس ہولناک نیٹ ورک کا پردہ اس وقت چاک ہوا جب چند غیر ملکی مزدوروں نے بلیک میل ہونے سے انکار کر دیا اور پولیس کو اس استحصال کی باقاعدہ شکایات درج کروائیں۔ جن مزدوروں نے غیر قانونی رقم واپس دینے سے انکار کیا، انھیں ملازمت اور رہائش، دونوں سے محروم کر دیا گیا۔اس واقعے پر اٹلی کے سیاسی، سماجی اور مزدور تنظیموں کے حلقوں میں شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ ان ہزاروں تارکین وطن کے لیے ایک اہم سبق ہے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ کا رخ کرتے ہیں، لیکن وہاں جا کر بعض اوقات غیر قانونی نیٹ ورکس، استحصالی عناصر اور مافیا کے گٹھ جوڑ کا شکار بن جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد اپنے حقوق، مقامی قوانین اور قانونی تحفظ کے طریقہ کار سے مکمل آگاہی حاصل کریں تاکہ وہ ہر قسم کے استحصال سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایسی صورت حال صرف کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ بہت سے ممالک میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔
اسپین میں گرین ہاؤس فارمنگ اور پھل و سبزی کی صنعت میں افریقی اور ایشیائی مزدوروں کے استحصال کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جہاں بعض مزدور غیر معیاری رہائش اور کم اجرت کا شکار ہوتے ہیں،اسی طرح جرمنی میں گوشت کی پروسیسنگ، لاجسٹکس اور تعمیراتی شعبے میں بعض کمپنیوں پر غیر ملکی کارکنوں کے استحصال کے الزامات لگے، جس کے بعد قوانین مزید سخت کیے گئے۔کینیڈا میں بھی عارضی غیر ملکی ورکر پروگرام کے تحت آنے والے بعض مزدوروں کی ایسی شکایات بھی منظر عام پر آئیں کہ ان سے غیر قانونی فیس وصول کی گئی یا ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے۔امریکا میں زراعت، ہوٹل، ریستوران اور تعمیراتی شعبوں میں بعض مقدمات میں تارکین وطن سے جبری مشقت لینے، اجرت نہ دینے یا دھمکیوں کے ذریعے کام کرانے کے واقعات عدالتوں میں ثابت ہوئے ہیں۔
مختلف عرب ممالک میں گزشتہ برسوں کے دوران بعض تعمیراتی منصوبوں پر مزدوروں کی رہائش، تنخواہوں میں تاخیر اور بھرتی کے اخراجات جیسے مسائل پر عالمی اداروں نے توجہ دلائی، جس کے بعد کئی اصلاحات بھی متعارف کرائی گئیں۔عام طور پر متاثرہ افراد پاکستان کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، فلپائن، مصر اور مختلف افریقی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے استحصال کی عام صورتوں میں پاسپورٹ ضبط کر لینا، وعدے سے کم تنخواہ دینا، تنخواہ میں غیر قانونی کٹوتیاں کرنا، روزانہ 10 سے 16 گھنٹے تک کام لینا، غیر معیاری رہائش فراہم کرنا، شکایت کرنے پر ملازمت یا رہائش ختم کرنے کی دھمکی دینا اور جعلی ملازمتوں کے وعدوں پر بھاری بھرتی فیس وصول کرنا شامل ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض بھرتی ایجنسیاں روانگی سے پہلے ہی ہزاروں ڈالر کے برابر فیس وصول کر لیتی ہیں، جس کے بعد مزدور کئی سال صرف قرض اتارنے میں گزار دیتا ہے۔ یہی قرض اسے خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے۔گو کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے جرائم سامنے آنے کے بعد عموماً پولیس، عدالتیں، لیبر انسپکٹرز اور انسانی حقوق کے ادارے متحرک ہو جاتے ہیں۔ کئی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں اور متاثرہ مزدوروں کو قانونی تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
چنانچہ بیرونِ ملک جانے والوں کو سب سے پہلے ملازمت کے معاہدے، کم از کم اجرت، کام کے اوقات، انشورنس، رہائش اور مقامی قوانین کے بارے میں مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ دوسری جانب حکومت، اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن، بیورو آف امیگریشن، سفارت خانے اور کمیونٹی تنظیموں کو اس حوالے سے موثر حکمت عملی اپنانے کے ساتھ ہی حکومت کو غیر قانونی ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ ہر سال بہت سے افراد جعلی ویزوں، فرضی ملازمتوں اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے اپنی جمع پونجی گنوا دیتے ہیں، اگر روانگی سے پہلے درست معلومات فراہم کی جائیں تو ایسے فراڈ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
بیرون ملک جانے والے بہت سے پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ صرف وہاں پہنچ جانا ہی اصل مسئلہ ہے، اور وہاں پہنچنے کے بعد انھیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ بے شک ترقی یافتہ ممالک میں قوانین پر زیادہ سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے اور قانون کی پاسداری بھی پاکستان کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن اس کے باوجود ہر جگہ حالات مثالی نہیں ہوتے۔ اس لیے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کے خواہش مند افراد کو ہر پہلو سے مکمل معلومات حاصل کرنی چاہییں اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے بیرون ملک جانے والے افراد اپنے ایجنٹوں کو پانچ سے دس لاکھ روپے تک ادا کرتے ہیں، حالانکہ اگر یہی رقم پاکستان میں کسی کاروبار یا ہنر پر لگائی جائے تو وہ اپنے ملک میں بھی باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کا فیصلہ انتہائی سوچ بچار اور مکمل معلومات کی بنیاد پر کیا جائے۔