ریاست کو پوری زندگی دینے والے پنشنرز بوجھ کیوں؟

 پنشن خیرات یا حکومتی احسان نہیں، اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے



کسی بھی ریاست کا سالانہ بجٹ محض آمدن اور اخراجات کا حساب کتاب نہیں ہوتا بلکہ یہ دراصل حکومت کی معاشی ترجیحات، سماجی ویژن اور عوام کے مختلف طبقات کے ساتھ اس کے رویّے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ بجٹ یہ بتاتا ہے کہ حکومت کس طبقے کو سہارا دینا چاہتی ہے، کن شعبوں میں سرمایہ کاری کو ضروری سمجھتی ہے اور کن لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ہر سال وفاقی اور صوبائی حکومتیں نئے مالی سال کے آغاز پر بجٹ پیش کرتی ہیں، جس میں ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح، سرکاری اخراجات، محصولات اور مختلف طبقات کے لیے ریلیف کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ہر سال بجٹ کی تقریروں میں امیدیں باندھتا ہے، ٹیلی ویژن اسکرینوں پر نظریں جمائے رکھتا ہے، مگر اکثر مایوسی اس کا مقدر بنتی ہے۔ یہ طبقہ سرکاری ملازمین اور بالخصوص پنشنرز کا ہے، جنہوں نے اپنی عملی زندگی کے بہترین سال ریاست کی خدمت میں گزار دیے، مگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ رفتہ رفتہ حکومتی ترجیحات کی فہرست سے اوجھل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

سرکاری ملازم جب دورانِ ملازمت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہوتا ہے تو وہ ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی تنخواہ سے ہر ماہ باقاعدگی سے ٹیکس اور دیگر کٹوتیاں کی جاتی ہیں لیکن جیسے ہی وہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی نظر میں اس کی افادیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ پھر ہر سال اس کی پنشن میں ایک معمولی سا اضافہ کر کے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس کے تمام معاشی مسائل حل ہو گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وزیراعظم کی یہ بات اپنی جگہ کہ بعض اوقات ’’دل پر پتھر رکھ کر مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں‘‘، مگر محسوس یہی ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت بھی شاید اسی پتھر کے ساتھ بجٹ سازی کر رہی ہے، اور یہ پتھر اس قدر بھاری ہے کہ پنشنرز کی مشکلات اس کے نیچے دب کر رہ گئی ہیں۔

جب مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریاں شروع ہوئیں تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں جتنا اضافہ کرے گی، پنجاب حکومت بھی اتنا ہی اضافہ کرے گی۔ اس اعلان کے بعد سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ خواتین و حضرات میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی، سب کی نظریں بجٹ تقریروں پر مرکوز تھیں۔ دوسری طرف حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا تھا کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، اقتصادی اشاریے مثبت ہیں اور حکومت نے بڑے سفارتی و معاشی چیلنجز کا کامیابی سے سامنا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں توقع یہی تھی کہ شاید اس مرتبہ پنشنرز کو بھی مہنگائی کے بوجھ سے کچھ نجات مل سکے گی۔ لیکن جب وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کی تو حاضر سروس ملازمین کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ ملازمین کی امیدوں پر بھی اوس پڑ گئی۔

ہر سال جون کا مہینہ پنشنرز کے لیے محض ایک مہینہ نہیں بلکہ امید کی علامت ہوتا ہے۔ وہ پورا سال اس انتظار میں گزارتے ہیں کہ شاید آنے والا بجٹ ان کی زندگی میں کچھ آسانی لے آئے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مہنگائی تو سال بھر چیتے کی رفتار سے بڑھتی رہتی ہے، مگر ان کی آمدنی وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ ان کی خواہش صرف اتنی ہوتی ہے کہ حکومت پنشن میں اتنا اضافہ ضرور کرے کہ کم از کم روزمرہ ضروریات پوری کرتے ہوئے چند سانسیں سکون سے لی جا سکیں۔ مگر افسوس، اس مرتبہ بھی ایسا نہ ہو سکا۔ وفاقی بجٹ سے مایوسی کے بعد امید کی آخری کرن پنجاب حکومت تھی، کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنا وعدہ خود کر چکی تھیں۔ لیکن جب پنجاب کے وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کیا تو یہ امید بھی دم توڑ گئی۔ پنجاب حکومت نے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں صرف ساڑھے تین فیصد اضافہ کیا، جسے شاید سرکاری اعداد و شمار میں بڑا فیصلہ سمجھا جائے، مگر زمینی حقیقت میں یہ اضافہ مہنگائی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

غالباً یہ تصور کر لیا گیا کہ تمام سرکاری ملازمین گریڈ 21 یا 22 سے ریٹائر ہوتے ہیں، جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سرکاری مراعات، گاڑیاں، مفت بجلی اور دیگر سہولتیں حاصل رہتی ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کو شاید یہ بتایا جانا ضروری ہے کہ ایسے ملازمین کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ پنجاب کے بیشتر سرکاری ملازمین گریڈ 14 تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔ بڑی تعداد بنیادی سکیل ایک سے چودہ کے درمیان ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہوتی ہے۔ ان کے لیے پنشن ہی زندگی گزارنے کا واحد سہارا ہوتی ہے۔ انہی میں ایسے بزرگ بھی شامل ہیں جن کی بیٹیاں بیوہ یا مطلقہ ہو کر دوبارہ والدین کے گھر آ بیٹھی ہیں، جن کے نواسے اور نواسیاں بھی اسی محدود پنشن پر پل رہے ہیں۔ کہیں کسی کا جوان بیٹا حادثے میں معذور ہو چکا ہے اور بوڑھا باپ اس کی کفالت کر رہا ہے، تو کہیں کوئی ریٹائرڈ ملازم کسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہے اور ہر ماہ یہ فیصلہ کرنا اس کے لیے ایک اذیت بن جاتا ہے کہ دوا خریدے یا گھر کا راشن۔ اس تمام صورتحال میں بجلی، گیس، پٹرول، ادویات اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں الگ امتحان ہیں۔ ایسے میں صرف ساڑھے تین فیصد اضافہ درحقیقت ان مشکلات میں کوئی عملی کمی پیدا نہیں کرتا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے وفاق نے پنشن میں سات فیصد، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے بھی سات فیصد جبکہ سندھ حکومت نے آٹھ فیصد اضافہ کیا، لیکن پنجاب نے صرف ساڑھے تین فیصد پر اکتفا کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وفاق اور پنجاب دونوں میں ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت ہے، مگر پنشنرز کے ساتھ برتاؤ میں اتنا نمایاں فرق سمجھ سے بالاتر ہے۔

ایک اور حقیقت بھی قابلِ غور ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق فروری 2024ء کے عام انتخابات کے چند ماہ بعد، یعنی دسمبر 2024 میں پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں تقریباً 426 فیصد اضافہ کیا گیا۔ پہلے ایک رکن اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے تھی، جو ایک فیصلے کے ذریعے بڑھا کر چار لاکھ روپے کر دی گئی۔ اسی طرح جنوری 2025ء میں قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہ ایک لاکھ اسی ہزار روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ انیس ہزار روپے کر دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اضافوں پر نہ تو آئی ایم ایف کی جانب سے کوئی اعتراض سامنے آیا اور نہ ہی کسی پارلیمانی کمیٹی میں اس پر سنجیدہ بحث ہوئی۔ لیکن جب بات پنشنرز یا سرکاری ملازمین کی آتی ہے تو وسائل کی کمی، معاشی مشکلات اور مالی نظم و ضبط کی دلیلیں فوراً سامنے آ جاتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دوسرے صوبوں کے ملازمین زیادہ مستحق ہیں اور ان کی حکومتیں زیادہ خوشحال، جبکہ پنجاب کے ریٹائرڈ ملازمین پہلے ہی معاشی طور پر آسودہ ہیں۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ قومی اسمبلی، سینیٹ اور پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 381 اراکین موجود ہیں، لیکن کسی ایک نے بھی پنشنرز کے اس حق میں مؤثر آواز بلند کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ شاید یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کا طبقہ اب سیاسی طور پر اہم نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ خزانہ نے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر اضافہ کر کے اسے ایک بڑی رعایت کے طور پر پیش کیا، حالانکہ اس معمولی اضافے سے کسی ریٹائرڈ ملازم کی معاشی زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ ایک اور اہم پہلو بھی توجہ کا طالب ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں خصوصی پنشن فنڈز اور منافع بخش سرمایہ کاری کے ذریعے ایسے وسائل پیدا کرتی ہیں جن سے ہر سال پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے مناسب اضافہ ممکن بنایا جاتا ہے۔

اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد شہریوں کا معیارِ زندگی اچانک متاثر نہ ہو اور وہ باوقار انداز میں اپنی زندگی گزار سکیں۔ اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق پنجاب حکومت تقریباً 5 لاکھ 65 ہزار 911 ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن ادا کر رہی ہے، جن میں اکثریت گریڈ ایک سے چودہ تک کے ملازمین کی ہے۔ ایسے افراد کی ماہانہ پنشن پہلے ہی محدود ہوتی ہے۔ اب اگر اس محدود رقم میں صرف ساڑھے تین فیصد اضافہ کیا جائے تو یہ چند سو روپے سے زیادہ نہیں بنتا۔ ظاہر ہے کہ چند سو روپے نہ تو بڑھتی ہوئی ادویات کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں، نہ بجلی اور گیس کے بل کم کر سکتے ہیں اور نہ ہی مہنگائی کے طوفان کے سامنے کوئی ڈھال بن سکتے ہیں۔

آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کو کسی خیراتی فنڈ یا حکومتی احسان کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ یہ ان لوگوں کا حق ہے جنہوں نے اپنی جوانی، اپنی توانائیاں اور اپنی زندگی کے بہترین برس اسی ریاست کی خدمت میں صرف کیے ہیں۔ ان کی پنشن ان کی دہائیوں پر محیط محنت اور دیانت داری کا حاصل ہے، کسی رعایت کا نتیجہ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنے کیے ہوئے وعدے کو نبھائے، وفاق کے برابر پنشن میں اضافہ کرے اور اس طبقے کو وہ عزت اور معاشی تحفظ فراہم کرے، جس کا وہ برسوں کی خدمت کے بعد حق دار ہے۔ ایک مہذب ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بزرگ شہریوں، ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کو بوجھ نہیں بلکہ قومی سرمایہ سمجھتی ہے۔ اگر آج ان کے حق کو نظر انداز کیا گیا تو یہ صرف ایک طبقے کی محرومی نہیں ہوگی بلکہ ریاست اور اپنے محسنوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی کمزور کرے گی۔