عمان کے ساتھ نئے بحری راستے پر بات چیت کا مطلب آبنائے ہرمز کو کھولنا یا بند کرنا نہیں ہے، ایران

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے


ویب ڈیسک August 03, 2026

تہران: ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ نئے بحری راستے سے متعلق ہونے والی بات چیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھولا یا بند کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان بعض نئے بحری راستوں کے حوالے سے ہونے والی مفاہمت کو آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال سے جوڑنا درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے راستوں پر ہونے والی بات چیت صرف بحری نقل و حمل اور تکنیکی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے یا بند کرنے کا کوئی فیصلہ کر لیا ہے۔

اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا اور اس بارے میں گردش کرنے والی مختلف خبروں کو درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس اہم بحری گزرگاہ سے متعلق ہر پیش رفت کو عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی بیان یا فیصلے کے فوری عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔