ٹرمپ کے امن دعوے کے باوجود غزہ پر اسرائیلی بمباری، بچوں سمیت 18 فلسطینی شہید

تین روز کے دوران اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 28 تک پہنچ گئی ہے


ویب ڈیسک August 03, 2026

غزہ / بیروت: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن منصوبے پر پیش رفت کے دعوے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 18 فلسطینی شہید ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ سٹی، خان یونس، دیر البلح اور جبالیہ کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ متعدد گھروں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق حملوں کے دوران طبی مراکز اور ادویات کے گودام بھی متاثر ہوئے، جس کے باعث پہلے سے بحران کا شکار طبی نظام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 28 تک پہنچ گئی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب جنوبی لبنان میں بھی اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری رہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ لبنانی فوجی زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ادھر غزہ کی وزارتِ صحت نے اسپتالوں، طبی مراکز اور صحت کی سہولتوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں غزہ امن منصوبے پر پیش رفت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم زمینی صورتحال اب بھی انتہائی کشیدہ ہے اور مختلف علاقوں میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق غزہ اور جنوبی لبنان میں جاری حملے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ جنگ بندی کی کوششوں کو بھی متاثر کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔