کراچی؛ میر رضا علی کو قتل کیا گیا یا کروڑوں کا قرض جان لیوا ثابت ہوا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

نوجوان تاجر میر رضا علی کی گلستان جوہر سے لاش ملنے کے معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں


ویب ڈیسک August 03, 2026
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

کراچی:

پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی نوجوان تاجر میر رضا علی کی گلستان جوہر سے لاش ملنے کے معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

نوجوان کے اغوا، قتل یا خودکشی  کے حوالے سے تاحال کوئی نتیجہ سامنے ہیں آ سکا، تاہم اس اہم مقدمے کے حوالے سے تفتیشی حکام مختلف شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر ثبوتوں کی مدد سے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سی سی ٹی وی میں آخری نقل و حرکت

تفتیشی ذرائع کے مطابق مقدمے میں حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں دیکھا گیا کہ 28 جولائی اور 29 جولائی کی درمیانی شب تقریباً ساڑھے 3 بجے میر رضا بہادرآباد چورنگی پر واقع اپنی دکان سے سیکیورٹی گارڈ کا پستول نکال کر اپنے ساتھ لے گیا۔

فوٹیج میں وہ اپنی گاڑی کے ذریعے وہاں سے گھر جاتا بھی دکھائی دیتا ہے۔

گھر سے روانگی سے پہلے کیا کیا چھوڑ گیا؟

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا گھر پہنچنے کے بعد اپنی گاڑی، اسمارٹ واچ، گھر کی چابیاں اور 39 ہزار روپے وہیں چھوڑ گیا۔

اس کے بعد اس نے آن لائن ٹیکسی بُک کی اور صبح 4 بج کر 8 منٹ پر گلستان جوہر کے لیے روانہ ہوگیا۔ مزید فوٹیجز میں اسے اکیلے گلستان جوہر کی سڑک پر چلتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

تفتیش جاری
نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار موت
قتل یا خودکشی؟ اہم ثبوت سامنے آگئے، تحقیقات تاحال جاری
Express News
کراچی میں تاجر میر رضا علی کی لاش ملنے کی تحقیقات جاری ہیں۔ کروڑوں کے مالی خسارے، آن لائن ٹیکسی کے سفر اور سی سی ٹی وی ثبوتوں نے واقعے کو انتہائی پراسرار بنا دیا ہے۔
💰
8 کروڑ
قرض یا نقصان
🔫
30 بور
گارڈ کا پستول برآمد
📱
موبائل فون
مزدوروں سے برآمد
📞
40+ کالز
منگیتر سے رابطہ
🚕
آن لائن ٹیکسی
جوہر کی طرف سفر
💸
2.5 لاکھ
والد کو منتقل
🏍️
22 سیکنڈ
مشکوک موٹرسائیکل
📹
CCTV فوٹیج
تحقیقات کی بنیاد
express.pk
ایکسپریس نیوز انٹرایکٹو انفارمیشن سسٹم

موبائل بند، پھر آخری لوکیشن

تحقیقات کے مطابق میر رضا نے تقریباً 4 بج کر 22 منٹ پر جوہر موڑ ہل ٹاپ کے قریب اپنا موبائل فون بند کردیا، جبکہ 4 بج کر 28 منٹ پر وہ گلستان جوہر بلاک 2 میں ٹیکسی سے اترا۔

پولیس اب بھی یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کی موت خودکشی کا نتیجہ تھی یا قتل کا۔

ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری اور کروڑوں کا قرض

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا وافلکس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کرنسی کا کاروبار بھی کر رہا تھا اور متعدد افراد کی سرمایہ کاری بھی اسی کے ذریعے کی گئی تھی۔

وہ سرمایہ کاروں کو وقفے وقفے سے منافع ادا کرتا رہا، تاہم دسمبر 2025 سے کاروبار میں نقصان شروع ہوا اور اپریل میں اسے بڑا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

ذرائع کے مطابق نقصان پورا کرنے کے لیے اس نے مختلف افراد سے قرض لینا شروع کیا اور مبینہ طور پر 5 سے 8 کروڑ روپے تک کا مقروض ہوگیا۔

اسی دوران بیرون ملک مقیم ایک دوست سے 75 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی حاصل کی، تاہم اسے منافع ادا نہیں کیا گیا۔

منگیتر سے آخری رابطہ کب ہوا؟

تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس نے میر رضا کی منگیتر کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے، جس نے بتایا کہ 28 جولائی کی رات تقریباً ساڑھے 11 بجے تک دونوں کے درمیان رابطہ رہا۔

بعد ازاں رات تقریباً 3 بجے منگیتر نے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی اور 20 منٹ کے دوران 40 سے زائد کالز اور پیغامات بھیجے، لیکن میر رضا کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ، والد کو رقم منتقل

ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی حذف کر دیے تھے۔ گھر سے روانہ ہونے سے قبل اس نے اپنے والد کے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے منتقل کیے۔

پولیس کے مطابق وہ دکان کے سکیورٹی گارڈ کا 30 بور پستول بھی ساتھ لے گیا تھا۔ جائے وقوع سے پستول کا ہولسٹر تو مل گیا، تاہم اسلحہ اب تک برآمد نہیں ہوسکا۔

لاش ملنے کی جگہ پر موٹر سائیکل کی موجودگی

تفتیشی حکام کے مطابق لاش ملنے والے مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں 29 جولائی کو صبح 3 بج کر 36 منٹ پر ایک موٹر سائیکل ویران مقام پر آکر تقریباً 22 سیکنڈ تک رکی اور پھر روانہ ہوگئی۔

ابتدائی شواہد کی بنیاد پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میر رضا کی لاش علی الصبح اسی مقام پر لا کر پھینکی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ملزمان نے پستول کا ہولسٹر بھی لاش کے قریب پھینکا، جو تفتیش کے لیے اہم ثبوت بن سکتا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے۔

راستے میں پھینکا گیا موبائل برآمد

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا نے اپنا موبائل فون راستے میں پھینک دیا تھا، جو یونیورسٹی روڈ پر کام کرنے والے 3 مزدوروں کو ملا۔ پولیس نے ان مزدوروں تک رسائی حاصل کرکے موبائل فون برآمد کرلیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں قتل اور خودکشی، دونوں امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب میر رضا کے والدین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے منصوبہ بندی کے تحت بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔