واشنگٹن: امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج نے اپنے اہلکاروں اور انٹیلی جنس تجزیہ کاروں سے ایران پر دباؤ بڑھانے اور اسے سزا دینے کے لیے ’تخلیقی اور غیر روایتی‘ تجاویز طلب کی ہیں۔
سی این این کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے انٹیلی جنس شعبے کے ایک افسر نے وسیع پیمانے پر فوجی تجزیہ کاروں کو بھیجے گئے پیغام میں لکھا کہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے اور اسے نقصان پہنچانے کے لیے نئی، تخلیقی اور غیر روایتی حکمت عملیوں پر غور کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق پیغام میں کہا گیا کہ ایسے نئے طریقوں کی ضرورت ہے جو روایتی فوجی حکمت عملی سے ہٹ کر ہوں اور ایران کے خلاف مؤثر دباؤ پیدا کر سکیں۔
سی این این نے اس معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا کہ ایک سینئر امریکی فوجی افسر نے گزشتہ ہفتے بھی اسی نوعیت کا پیغام جاری کیا تھا، جس میں اہلکاروں سے ایران سے نمٹنے کے لیے نئے خیالات اور تجاویز طلب کی گئی تھیں۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان تجاویز میں کس نوعیت کے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں یا آیا ان میں فوجی، معاشی، سائبر یا دیگر ذرائع پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
تاحال امریکی محکمہ دفاع یا امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ طور پر بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایسی تجاویز پر عملی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔