نئے انتظامی یونٹ، سسٹم کون ٹھیک کرے گا؟

ایسے یونٹ قائم کیے جائیں جو اقتدار کو تقسیم کریں، قوم کو نہیں


نعمان حفیظ August 04, 2026

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹوں یا صوبوں کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر سامنے آئی ہے۔ اس بحث کی بنیادی وجہ یہ احساس ہے کہ موجودہ انتظامی نظام ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ، معاشی مسائل اور عوامی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا نہیں کر پا رہا۔

کئی دہائیوں پہلے قائم کیا گیا انتظامی ڈھانچہ اب کروڑوں شہریوں کے مسائل کا بوجھ اٹھانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ صوبائی حکومتوں کا زیادہ وقت ہنگامی حالات، سیاسی تنازعات، مالی دباؤ اور روزمرہ انتظامی مسائل سے نمٹنے میں صرف ہوجاتا ہے، جبکہ طویل مدتی منصوبہ بندی، انسانی ترقی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ چکی ہے، لیکن صوبوں کی تعداد اور ان کا بنیادی انتظامی ڈھانچہ تقریباً وہی ہے۔ بعض صوبے آبادی کے لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑے ہیں، جبکہ بعض صوبے اتنے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں کہ صوبائی دارالحکومت سے دور اضلاع تک مؤثر انتظامی رسائی قائم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ کسی دور دراز علاقے کے شہری کو زمین، ملازمت، تعلیم، صحت، پولیس، عدالتی اپیل یا کسی صوبائی محکمے سے متعلق مسئلے کے حل کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس سفر میں وقت اور پیسہ خرچ ہونے کے باوجود شہری کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ اس کا مسئلہ واقعی حل ہوجائے گا۔

بڑے صوبوں میں ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ایک مستقل مسئلہ رہی ہے۔ عموماً صوبائی دارالحکومت، بڑے شہر اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے علاقے ترقیاتی بجٹ کا نمایاں حصہ حاصل کرلیتے ہیں، جبکہ دور دراز اضلاع سڑکوں، اسپتالوں، یونیورسٹیوں، صاف پانی، نکاسیٔ آب اور روزگار کے مواقع سے محروم رہتے ہیں۔ اس عدم توازن کے نتیجے میں علاقائی احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے وسائل تو استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن ان کی ترقی، تعلیم اور صحت پر مناسب رقم خرچ نہیں کی جا رہی۔ نئے انتظامی یونٹ اس احساسِ محرومی کو کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا قیام سیاسی مفادات کے بجائے انتظامی ضرورت اور عوامی فلاح کی بنیاد پر کیا جائے۔

نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام کا طریقۂ کار آئین میں موجود ہے۔ یہ کام محض کسی سرکاری اعلان، انتظامی حکم یا سیاسی قرارداد سے مکمل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت آئینی ترمیمی بل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں الگ الگ مجموعی رکنیت کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظور کرنا ہوگا۔ اگر مجوزہ ترمیم سے کسی موجودہ صوبے کی حدود تبدیل ہوتی ہوں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی سے بھی مجموعی رکنیت کی دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد آئینی بل کو حتمی منظوری کے لیے صدرِ مملکت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

تاہم آئینی اکثریت حاصل کرنا اس عمل کا صرف ایک حصہ ہے۔ نئے انتظامی یونٹ کے قیام سے پہلے ایک غیر جانب دار قومی کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے۔ اس کمیشن میں آئینی ماہرین، ماہرینِ معاشیات، انتظامی امور کے ماہرین، آبادی اور جغرافیے کے ماہرین، مقامی حکومتوں کے نمائندوں اور متعلقہ علاقوں کے شہریوں کو شامل کیا جائے۔ کمیشن آبادی، رقبے، معاشی وسائل، مواصلاتی رابطوں، انتظامی سہولت، ثقافتی وابستگی، پانی، قدرتی ذخائر اور شہریوں کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لے۔ اس کی سفارشات کو پارلیمان اور عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ فیصلہ شفاف معلومات اور واضح اصولوں کی بنیاد پر ہو۔

نئے یونٹوں کی حد بندی صرف زبان، نسل، برادری یا انتخابی فائدے کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انتظامی تقسیم کو لسانی اور نسلی مقابلے میں تبدیل کردیا گیا تو عوامی سہولت کا منصوبہ ایک نئے تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔ حد بندی کرتے وقت یہ دیکھا جانا چاہیے کہ مجوزہ یونٹ مالی طور پر کس حد تک قابلِ عمل ہوگا، اس کا ممکنہ دارالحکومت تمام اضلاع کے لیے قابلِ رسائی ہے یا نہیں، اس کے پاس آمدن کے پائیدار ذرائع موجود ہیں یا نہیں اور وہاں تعلیم، صحت، صنعت، زراعت اور روزگار کی ترقی کے کیا امکانات ہیں۔ کسی علاقے کو صرف سیاسی نعرے کی بنیاد پر صوبہ بنانا مستقبل میں مالی اور انتظامی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

عوامی مشاورت بھی اس پورے عمل کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ اگرچہ موجودہ آئینی طریقۂ کار میں عوامی ریفرنڈم کو لازمی شرط قرار نہیں دیا گیا، لیکن اتنے بڑے قومی فیصلے کو بند کمروں میں طے نہیں ہونا چاہیے۔ متعلقہ علاقوں میں عوامی سماعتیں منعقد کی جائیں، ضلعی سطح پر تجاویز لی جائیں اور ممکنہ فوائد، اخراجات اور خطرات پر کھلی بحث کرائی جائے۔ عوام کو یہ بتایا جائے کہ نیا صوبہ بننے کے بعد سرکاری ملازمین، مالی وسائل، پانی، ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، پولیس اور عدالتوں کا انتظام کیسے کیا جائے گا۔

عام شہری کے لیے نئے انتظامی یونٹ کا سب سے بڑا فائدہ حکومت تک آسان رسائی ہوسکتا ہے۔ صوبائی سیکرٹریٹ، پبلک سروس کمیشن، اعلیٰ عدالتی ادارے، پولیس کمانڈ، تعلیمی بورڈ اور صحت کے مرکزی دفاتر قریب آجائیں تو شہری کے وقت اور اخراجات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ مقامی مسائل کو سمجھنے والی حکومت علاقے کی مخصوص ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنا سکتی ہے۔ صحرائی، پہاڑی، ساحلی، زرعی اور صنعتی علاقوں کے مسائل مختلف ہوتے ہیں؛ اس لیے ہر خطے کو ایک ہی انتظامی پالیسی کے تحت چلانا ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔

نئے یونٹ کے قیام سے مقامی نوجوانوں کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ نئے تعلیمی ادارے، اسپتال، عدالتیں، پولیس دفاتر، انتظامی محکمے اور ترقیاتی ادارے قائم ہونے سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ چھوٹے صوبے میں حکومت کے لیے ہر ضلع کی نگرانی نسبتاً آسان ہوگی اور نظرانداز علاقوں کو ترقیاتی بجٹ میں بہتر حصہ ملنے کا امکان پیدا ہوگا۔ انتظامی مرکز قریب ہونے سے سیلاب، خشک سالی، وبائی امراض اور دیگر ہنگامی حالات میں حکومتی ردعمل بھی زیادہ تیز ہوسکتا ہے۔

تاہم صرف نیا صوبہ بنا دینا عوامی مسائل کے خاتمے کی ضمانت نہیں۔ اگر نئے صوبے کے نتیجے میں صرف نیا گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، اسمبلی، وزراء، مشیر، سرکاری گاڑیاں اور بڑی بیوروکریسی قائم کی گئی تو اس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دینے والے شہری پر پڑے گا۔ نئے انتظامی یونٹ کا مقصد حکمران طبقے کے لیے مزید عہدے پیدا کرنا نہیں بلکہ سرکاری خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہونا چاہیے۔ نئی انتظامیہ کو کم خرچ، ڈیجیٹل، شفاف اور نتائج پر مبنی بنایا جائے۔ بڑی سرکاری عمارتوں اور غیر ضروری پروٹوکول کے بجائے اسکولوں، اسپتالوں، صاف پانی، سڑکوں اور روزگار کو ترجیح دی جائے۔

نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام قائم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر اختیارات صرف ایک صوبائی دارالحکومت سے دوسرے نئے دارالحکومت میں منتقل ہوجائیں اور ضلع، تحصیل، میونسپل کمیٹی اور یونین کونسل بدستور بے اختیار رہیں تو عام آدمی کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ شہریوں کے روزمرہ مسائل کا تعلق زیادہ تر صفائی، نکاسیٔ آب، مقامی سڑکوں، بنیادی صحت، اسکولوں، پارکوں اور شہری منصوبہ بندی سے ہوتا ہے۔ ان شعبوں کے لیے مالی اور انتظامی اختیار منتخب بلدیاتی اداروں کو دینا ہوگا۔

پاکستان کو نئے انتظامی یونٹوں کی ضرورت ضرور ہوسکتی ہے، لیکن ان کا قیام قومی اتفاقِ رائے، آئینی طریقۂ کار، معاشی منصوبہ بندی، شفاف حد بندی اور عوامی مشاورت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ایسے یونٹ قائم کیے جائیں جو اقتدار کو تقسیم کریں، قوم کو نہیں؛ جو عوام کے مسائل کم کریں، سرکاری اخراجات میں غیر ضروری اضافہ نہ کریں؛ اور جو علاقائی محرومی کے خاتمے کے ساتھ وفاق کو مضبوط بنائیں۔ اصل کامیابی صوبوں کی تعداد بڑھانے میں نہیں بلکہ حکومت کو عام شہری کے قریب، جواب دہ اور مؤثر بنانے میں ہوگی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
نعمان حفیظ
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔