عوام اپنے دنیاوی مسائل کا ذمے دار حکمرانوں کو قرار دیتے ہیں جو کافی حد تک درست بھی ہیں کیونکہ اپنے لوگوں کے دنیاوی اور بنیادی مسائل کے حل کی ذمے داری ان حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جو عوام سے ٹیکس لے کر ان کے تمام ضروری مسائل حل کرنے کی پابند ہیں مگر ماضی میں ایسا ہوا نہ اب ہو رہا ہے۔
ہر پارٹی کے منشور میں ملکی معاملات کے علاوہ عوام کو روزگار اور دنیاوی سہولیات کی فراہمی شامل ہے جو صرف دکھاوا ہی ثابت ہوتا آ رہا ہے اور اقتدار میں آ کر ہر پارٹی اپنے عوامی وعدے سے فراموشی کر دیتی ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے حکمرانوں کے ذاتی و مالی مفادات کے منصوبے بن جاتے ہیں۔
بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کو زندگی نے مہلت نہ دی کہ وہ اپنے ملک کو فلاحی ریاست بناتے جو قیام پاکستان کا مقصد بھی تھا۔
ملک کو فلاحی ریاست بنانا حکومتوں کا کام ہوتا ہے عدلیہ کا نہیں، مگر 2008 میں عدلیہ بحالی تحریک میں ایک سیاستدان نے عوام کو خواب دکھایا تھا کہ آئندہ ریاست ہوگی ماں جیسی جو اپنے تمام بچوں کا خیال رکھتی ہے مگر اس کے بعد اقتدار میں آنے والوں نے عوام سے سوتیلی ماں سے بھی بدتر سلوک کیا اور عوام نے آنے والی جن حکومتوں پر بھروسہ کیا ان تمام نے عوام کا اعتماد مجروح کرنے میں اور عوام دشمنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور عوام کو لاوارث چھوڑ دیا۔
جس کے بعد سے عوام اپنی پسندیدہ حکومتوں کی کارکردگی کی سزا بھگت رہے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے پہلے کی حکومتیں ہی اچھی تھیں جن کے دور میں کم از کم وہ بدتر حالات نہیں تھے جن کا اب عوام کو سامنا ہے اور ہر کوئی اپنے بدترین حالات کا رونا رو رہا ہے مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی۔
لاہور کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز میں اپنے بیان میں امام صاحب کا کہنا تھا کہ آج ہر شخص اپنی اپنی پریشانیوں کا اظہار کر رہا ہے اور کوئی سکون سے نہیں، ہر شخص پریشانیوں کا شکار ہے۔ کمائی میں برکت نہیں، غریب ہو یا امیر کوئی اپنے حالات سے مطمئن نہیں اور اپنے حالات کی ذمے داری حکومت اور دوسروں پر ڈال دیتے ہیں مگر اپنے احتساب پر کسی کی توجہ نہیں۔
آج کل عام تاثر ہے کہ موجودہ حالات میں روزگار بری طرح متاثر ہے۔ چھوٹے دکاندار سے بڑے تاجر اور صنعتکار تک ہر برے حالات سے پریشان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ دور میں صحت اور تعلیم کا کاروبار کرنے والوں ہی کے مزے ہیں کیونکہ طبی اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے جس پر کوئی حکومتی توجہ نہیں۔
سرکاری طور پر صحت و تعلیم کے ادارے موجود ہیں جن پر عوام کا بھروسہ نہیں ،نہ وہاں کے علاج اور تعلیم کو قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے اور جو لوگ اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے پرائیویٹ اسکولوں اور اپنوں کے علاج معالجے کے لیے پرائیویٹ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے مہنگے اخراجات برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ،وہ سرکاری اداروں پر نجی اداروں کو ترجیح دیتے ہیں جن میں اکثر نے صحت اور تعلیم کو منافع بخش کاروبار بنا رکھا ہے اور دولت سمیٹ رہے ہیں۔
مگر اس دور میں بہت کم صحت و تعلیم کی سہولیات مفت یا مناسب نرخوں پر یہ سہولیات فراہم کرنے والے ہیں جو ایسی سہولیات کی فراہمی کو خلق خدا کی خدمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کامیاب بھی ہیں اور ان کے اداروں کی تعداد بڑھ رہی ہے کیونکہ سب بے حس نہیں عوام کی پریشانیوں کا احساس کرکے ان اداروں کی مالی معاونت اپنا فریضہ سمجھتے ہیں جس کا صلہ انھیں قدرتی طور ضرور ملتا ہے کیونکہ کسی کی نیکی ضایع نہیں ہوتی۔
مذکورہ امام مسجد نے نمازیوں کو ایک سچا واقعہ سنایا کہ ایک ڈاکٹر چین سے تعلیم حاصل کرکے وطن واپس آیا جنھوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کرکے ڈاکٹری شروع کی جو مکمل ناکام رہی اور مریضوں نے وہاں کا رخ ہی نہیں کیا جس سے ڈاکٹر دل برداشتہ ہو کر خودکشی کا سوچنے لگا مگر اپنے چھوٹے بچوں کا خیال کرکے ایسا نہ کرسکا اور مایوس ہو کر امام صاحب کے پاس آیا جس پر اسے تسلی دے کر پوچھا گیا کہ وہ کتنی نمازیں پڑھتے ہیں جواب ملا ایک بھی نہیں۔ امام صاحب نے کہا کہ جو رزق دینے والا ہے وہ آپ کو یاد نہیں تو کامیابی کیسے ملے گی؟ یہ دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حالات سے پریشان لوگ مسجدوں میں بڑھ رہے ہیں اور ان کا بھروسہ اللہ پر بڑھ رہا ہے اور دین سے قربت بڑھ رہی ہے وہ حکومتوں پر اب پہلے جیسا اعتماد رکھتے ہیں نہ حکمرانوں کے بیانات کو قابل بھروسہ سمجھتے ہیں کیونکہ اصل خالق کائنات ایک ہی ہے جس نے رزق کی فراہمی کی ذمے داری لی ہوئی ہے مگر دنیاوی معاملات میں لوگ یہ حقیقت بھول گئے ہیں۔ اپنا احتساب کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی دینی ذمے داری پوری کر رہے ہیں تو ان کے کاروبار اور رزق میں برکت کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟